مولانا غفران ہزارویؒ / مولانا عبد الرحیمؒ / الحاج بابو عبد الخالقؒ

   
جولائی ۱۹۹۵ء

مولانا محمد غفران ہزارویؒ

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رسول خان ہزاروی نور اللہ مرقدہ کے فرزند اور مولانا قاری عبد الرشید رحمانی، خطیب اسلامک سنٹر سیلون روڈ اپٹن پارک لندن کے والد گرامی حضرت مولانا محمد غفران ہزارویؒ گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ان کی عمر پچھتر برس تھی اور وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ کچھ عرصہ دارالعلوم اسلامیہ انارکلی لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مولانا مرحوم رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا، انہیں حرم پاک میں نماز جنازہ کے بعد جنت المعلیٰ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔

مولانا عبد الرحیمؒ آف شکرگڑھ

گزشتہ ماہ کے دوران شکرگڑھ کے ممتاز عالم دین مولانا ڈاکٹر عبد الرحیم انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کی حیثیت سے کیا اور کافی عرصہ تک گوجرانوالہ میں رہے۔ بعد میں انہوں نے شکرگڑھ میں مدرسہ رحیمیہ تعلیم القرآن کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا اور آخر وقت تک اس کے ذریعے سے دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ اپنے علاقہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ اور تحریک نفاذ شریعت میں سرگرم کردار ادا کیا۔ مرحوم ہمارے انتہائی مہربان اور بزرگ دوست تھے اور ہمیشہ اپنی شفقت سے نوازتے رہے۔

الحاج بابو عبد الخالقؒ آف جہلم

اسی دوران جہلم کے سرگرم جماعتی بزرگ الحاج بابو عبد الخالق بھی دارِ آخرت کو سدھار گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم عالمِ دین نہیں تھے لیکن جماعتی اور مسلکی خدمات کے حوالے سے ہمیشہ علماء کی صف میں شمار ہوتے تھے۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر رہے، ان کا دستر خوان علماء اور جماعتی احباب کے لیے ہر وقت بچھا رہتا تھا۔ حضرت درخواستیؒ سے خصوصی تعلق تھا اور حضرت بھی ان پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔ انتہائی نیک دل اور خداترس بزرگ تھے، ان کی وفات سے دو تین روز قبل کی بات ہے کہ اسلام آباد سے واپسی پر تھوڑی دیر کے لیے جہلم رکا تو ان سے ملاقات ہوئی اور بہت سے معاملات پر گفتگو بھی ہوئی، کسے خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ہوگی؟

سچی بات ہے کہ ڈاکٹر عبد الرحیم صاحب اور بابو عبد الخالق صاحب جیسے مخلص دوستوں اور کرم فرما ساتھیوں کی جدائی نے دنیا کی بے ثباتی اور بے وفائی کا احساس اور زیادہ گہرا کر دیا ہے، رہے نام خدا کا۔

اللہ پاک دونوں حضرات کی مغفرت فرمائیں، ان کی حسنات کو قبولیت سے نوازیں، سیئات سے عفو و درگزر سے کام لیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یارب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter