فضلائے مدارسِ دینیہ سے وابستہ توقعات اور ان کی سماجی حیثیت

   
ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی
۱۳ جون ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس اور ان کے فضلاء کے حوالے سے گفتگو اور مکالمہ کا یہ پروگرام ’’ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی‘‘ کے زیر اہتمام ترتیب دیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی نگرانی میں یہ ایک شعبے میں مفید اور مسلسل کام ہو رہا ہے، جن کے پیچھے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی نسبت اور ان کا روحانی فیض، اور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کا فکر اور ان کی تربیت کام کر رہی ہے، اور خود ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب بھی علمی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ سب سے پہلے تو میں ڈاکٹر صاحب محترم کو اس اہم پہلو پر گفتگو کے اہتمام پر مبارکباد پیش کروں گا۔ یہ آج کی ہماری ضروریات میں سے ہے، سماجی ضروریات میں سے بھی، دینی ضروریات میں سے بھی، اور طبقاتی ضروریات میں سے بھی، کہ علماء اور فضلاء کا جو طبقہ ہے، اس کی ضروریات کا ایک اپنا دائرہ ہے، ان میں سے بھی ہے۔

بنیادی موضوع تو اس کا ہے ’’عصرِ حاضر اور ہمارے دینی مدارس‘‘۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر مختلف بزرگ، دوست، دانشور بات کریں گے۔ مجھے گفتگو کے لیے کہا گیا ہے کہ دینی مدارس سے جو علماء فارغ ہوتے ہیں، فضلائے دینی مدارس، عصرِ حاضر میں، موجودہ معاشرتی تناظر میں، اُن کی حیثیت کیا ہے، افادیت کیا ہے، اور ان کے تقاضے کیا ہیں؟ میں اس پر دو تین گزارشات اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات تو ہمیں، دینی مدارس کا یہ جو موجودہ نیٹ ورک ہے، اس کا پس منظر اور اس کی موجودہ سماجی حیثیت کو دیکھنا ہو گا۔ یہ درسِ نظامی کا نظام کہلاتا ہے۔ درسِ نظامی ملا نظام الدین سہالوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھنؤ میں شروع کیا تھا۔ اورنگزیب عالمگیر کے معاصر تھے۔ اور اورنگزیب عالمگیر نے ہی لکھنؤ میں انہیں جگہ فراہم کی تھی جس میں ملا نظام الدین سہالویؒ، جو علمی خاندان کے صاحبِ بصیرت بزرگ تھے، کئی پشتیں علماء کی گزری ہیں اس خاندان میں، انہوں نے اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں اُن کی مہیا کردہ ایک کوٹھی میں، جس کو فرنگی محل کہتے ہیں، مدرسے کا آغاز بھی کیا، اور ایک نیا نصاب ترتیب دیا جو درسِ نظامی کہلاتا ہے، اور بہت سی تبدیلیوں کے مراحل سے گزرنے کے باوجود آج بھی وہ درسِ نظامی ہی کہا جاتا ہے۔ تین صدیاں تقریباً‌ بیت گئی ہیں۔ اس کے دو تین مرحلوں پہ ہمیں نظر ڈال لینی چاہیے۔

پہلا مرحلہ تو ملا نظام الدین سہالویؒ سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے تک اور پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بھی، تقریباً‌ یہ مجموعی دور ڈیڑھ سو سال ۱۸۵۷ء تک بنتا ہے۔ درسِ نظامی کا یہ نصاب اور نظام، یہ علمائے کرام کے ہاتھ میں تھا، اور اس میں جن علوم کو ہم دینی کہتے ہیں، قرآن پاک، حدیث، فقہ، اور عربی زبان، یہ پڑھائے جاتے تھے۔ اور جن کو ہم عصری علوم کہتے ہیں، اُس دور کے حساب سے، سائنس بھی، ٹیکنالوجی بھی، فلسفے بھی، اور منطق بھی، اور طب بھی، اور دیگر جو دستی صنعتیں ہیں، گتہ سازی ہے اور جلد سازی ہے وغیرہ وغیرہ، یہ پڑھائے جاتے تھے۔ یعنی وہ علوم جو آج کالج میں پڑھائے جاتے ہیں، اور وہ علوم جو دینی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں، کم و بیش یہ اکٹھے ہی پڑھائے جاتے تھے۔ یہ دورانیہ تقریباً‌ ڈیڑھ سو سال کا بنتا ہے۔ اسی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور بھی شامل ہے۔

لیکن ہوا یوں کہ جب ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں برطانوی حکومت نے یہاں تسلط جما لیا، جنوبی ایشیا میں، اور اپنا نصابِ تعلیم ترتیب دیا، تو باقی علوم تو شامل رکھے لیکن کچھ مضامین برطانوی حکومت نے نئے نصاب سے نکال دیے۔ قرآن پاک نہیں تھا اس میں، یعنی جیسے پہلے تھا ویسے نہیں تھا۔ حدیث بطور سبجیکٹ کے نہیں تھی۔ فقہ بطور سبجیکٹ کے نہیں تھی۔ عربی نہیں تھی اور فارسی نہیں تھی۔ فارسی کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ فارسی پہلے سرکاری زبان تھی، عدالتی زبان تھی، اور دفتری زبان تھی، اس کی جگہ انگریزی آ گئی۔ لیکن باقی علوم، قرآن پاک، حدیث، فقہ، اور عربی تو مسلمانوں کی سرکاری اور ریاستی ضروریات نہیں تھیں، یہ دینی ضروریات تھیں۔ اور مسلمان الحمد للہ مسلمان ہی رہے، آج تک الحمد للہ مسلمان ہی ہیں۔ ان کی سماجی اور دینی ضروریات کے یہ چار اہم مضمون، فارسی بھی ساتھ شامل کر لیں تو پانچ، یہ پانچ مضامین جو نکال دیے گئے، جن کی تعلیم کا کوئی بندوبست باقی نہیں رہا تھا، اور یہ سماجی ضروریات اور دینی ضروریات کے طور پر بدستور ان کی اہمیت موجود تھی، تو اس کے لیے یہ پرائیویٹ دینی مدارس کا سلسلہ شروع کیا گیا، جو چل رہا ہے۔ چونکہ اس کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ مسلمانوں کا دینی اور سماجی تعلق ہے، اور مسلمانوں کی ملی ضروریات میں سے ہے، اس لیے جو بات ضرورت ہو گی اُس کو ٹالا نہیں جا سکے گا۔ یہ مدارس پرائیویٹ سسٹم کے طور پر پبلک کے تعاون سے عام لوگوں کی معاونت سے چلتے آ رہے ہیں۔ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق جس مدرسے کے نظام کا ۱۸۶۷ء میں ایک مدرسے سے، پھر آہستہ آہستہ پانچ سات مدرسوں سے پورے برصغیر میں آغاز ہوا تھا، اِس وقت اگر شمار کیا جائے تو جنوبی ایشیا میں، یعنی ایک پوری پٹی ہے، جنوبی ایشیا میں، ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، اور اِس علاقہ جس کو سارک کہتے ہیں، میرے خیال میں مدارس کی تعداد ایک لاکھ سے کم نہیں ہو گی۔ یہ نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ دینی ضرورت کی وجہ سے بھی، اور سماجی اور معاشرتی ضرورت کی وجہ سے بھی۔

تقسیمِ ملک کے بعد اور آزادی کے بعد بھی ریاستی نظام تو وہی چلتا رہا، اس لیے اس کی ضرورت بھی باقی رہی۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ جب تک یہ چار مضامین بالخصوص، قرآن پاک، حدیث و سنت، فقہ و شریعت اور عربی، جب تک ان کی تعلیم کی اور ان کے بقا کی اور ان کے تحفظ کی کوئی متبادل صورت، جو اجتماعی ہو اور مدارس کے نظام سے بہتر ہو، جب تک وہ سامنے نہیں آئے گی اور تجربے میں نہیں آئے گی، یہ مدارس کا نظام تو ضرورت ہے، باقی رہے گا، اس نے تو باقی رہنا ہے۔ راستے بدلے جا سکتے ہیں، طریقے بدلے جا سکتے ہیں، لیکن جب تک ان چار یا پانچ علوم کی سماجی اور دینی ضرورت باقی ہے، اس کی تعلیم کا انتظام کرنے والے بھی باقی رہیں گے۔ ایک پہلو تو مدارس کے حوالے سے یہ ہے۔

دینی مدارس کے فضلاء جو اس وقت ہمارے ہاں آٹھ سال کا نصاب پڑھ کر فارغ ہوتے ہیں اور دورۂ حدیث کی سند اُن کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اور پھر اس کے بعد وہ تخصص کے مختلف درجات میں، تخصص فی الافتاء بھی ہے، تخصص فی الدعوۃ والارشاد بھی ہے، حدیث کے علوم میں بھی ہے، تفسیر کے علوم میں بھی ہے، یہ تخصص کی سند، اس (دورۂ حدیث) سے اگلی سند ان کے پاس ہوتی ہے، تو ان کی معاشرتی حیثیت کیا ہے؟ معاشرتی حیثیت ان کی یہ ہے کہ وہ دینی رہنما سمجھے جاتے ہیں اور دینی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً‌:

  1. قرآن پاک یاد کرنا مسلمانوں کا، فضیلت کی بات بھی ہے اور مسلمانوں کی ضرورت بھی ہے، تو قرآن پاک پڑھانے کے لیے حفاظ، قراء، ایک بنیادی سماجی ضرورت ہے، اور یہ حافظ کے طور پر قاری کے طور پر۔
  2. اسی طرح وہ علوم جن کا میں نے ذکر کیا، اِن کی تعلیم باقی رکھنے کے لیے مدرس کی ضرورت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رجالِ کار ہوں گے تو تعلیم باقی رہے گی۔ یعنی رجالِ تعلیم بھی، رجالِ انتظام بھی۔ وہ ضرورت باقی رہے گی تو ان کے لیے رجالِ کار کی ضرورت ہو گی۔ تو درسِ نظامی کے مدرس کی ضرورت، منتظمین کی ضرورت۔
  3. پھر مسجد کا نظام اگر باقی ہے، چل رہا ہے الحمد للہ چلتا رہے گا، ایک بنیادی یونٹ ہے مسلم سماج کا، تو مسجد کو امام چاہیے، مسجد کو خطیب چاہیے، مسجد کو مؤذن چاہیے، مسجد کو متعلقہ عملہ چاہیے۔ یہ بھی فضلاء میں سے، کوئی اُس دائرے میں چلے جاتے ہیں، کوئی اِس دائرے میں چلے جاتے ہیں۔
  4. پھر سوسائٹی کو دینی مسائل میں رہنمائی کے لیے۔ الحمد للہ آج تک یہ مزاج، سماجی ماحول موجود ہے کہ لوگ حلال حرام کے مسئلے پر اور بالخصوص نکاح طلاق کے مسائل پہ، وراثت کے مسائل پہ، خاندانی مسائل پہ، لوگ دین سے رجوع کرتے ہیں۔ تو دین سے رجوع کرنے کے لیے ان کو مفتی درکار ہے۔ دارالافتاء، مفتی، یہ ضرورت ہے سماجی۔ تو کچھ اُس دائرے میں چلے جاتے ہیں۔

کوئی مسجد کے نظام میں: خطیب، امام، مؤذن۔ کوئی تعلیم القرآن کے نظام میں: حافظ، قاری۔ کوئی دینی رہنمائی کے نظام میں: مفتی ہے، داعی ہے۔ کوئی دینی تعلیم کے نظام میں: مدرس ہے، مہتمم ہے۔ یہ کھپت ہے اِن کی، جہاں یہ سیٹ ہوتے ہیں، اور یہ ایک تسلسل جاری ہے۔ یہ تو اِس وقت معروضی صورتحال ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء سماج کے ان شعبوں میں، ان ضروریات میں سیٹ ہو جاتے ہیں۔

اس سے اگلی بات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ کچھ تو سوسائٹی کی اس کے علاوہ ضروریات بھی ہیں جن کی ان مدارس سے توقع کی جا رہی ہے۔ اور کچھ ان فضلاء کی بھی ضروریات ہیں جو موجودہ سسٹم میں پوری نہیں ہو رہیں۔ یہ دو طرفہ ضروریات ہیں۔

مثلاً‌، پاکستان بننے کے بعد ہمارے وطنِ عزیز میں جب پاکستان کا مقصد یہ قرار دیا گیا کہ اسلامی تعلیمات کا فروغ، اسلامی تہذیب کا تحفظ، اور قرآن و سنت کے نظام کی عملداری، تو ظاہر بات ہے اس کے لیے رجالِ کار اصلاً‌ فراہم کرنا تو ریاستی نظامِ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔ مثلاً‌، جج جس نے قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، اُس کو قرآن و سنت سے واقف ہونا چاہیے۔ ایک ایڈمنسٹریٹر ہے، اے سی ہے، ڈی سی ہے، آئی جی پولیس ہے، ایس ایس پی پولیس ہے، اُس نے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنا نظم چلانا ہے تو اُس کو واقف ہونا چاہیے۔ ایک بینکار ہے، اگر اس نے بینکاری اور معیشت کا نظام قرآن و سنت کے مطابق، دستور کی روشنی میں، قرآن و سنت کے مطابق کرنا ہے تو اُس کو واقف ہونا چاہیے۔

دستور جب یہ کہتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں قرآن و سنت کے احکام سے صرف رہنمائی نہیں لی جائے گی بلکہ قرآن و سنت کے احکام کا نفاذ کیا جائے گا۔ رہنمائی بھی لی جائے گی، فروغ بھی دیا جائے گا، نفاذ بھی کیا جائے گا۔ دستور یہ کہتا ہے۔ تو دستور کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شعبے میں تعلیم یافتہ، مطالعے کی تعلیم نہیں، باقاعدہ تعلیم، تعلیم یافتہ جج، تعلیم یافتہ وکیل، تعلیم یافتہ ایڈمنسٹریٹر، تعلیم یافتہ پولیس انسپکٹر، تعلیم یافتہ میجر جنرل، تعلیم یافتہ جرنیل، تعلیم یافتہ کرنل، یہ سارے قرآن و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہونے چاہئیں، جو ابھی تک نہیں ہو رہے۔ میں اس کے اسباب کی بحث میں نہیں چلوں گا لیکن نہیں ہو رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نہ سول ایڈمنسٹریشن میں، نہ عدلیہ میں، اور نہ فوج میں، جو وہاں کام کرنے والوں کی دینی تعلیم دستور کے مطابق ضرورت بنتی ہے، وہ نہیں ہے۔ تو لازمی بات ہے کہ عام آدمی کی یہ توقع بھی پھر منتقل ہو جاتی ہے کہ دینی مدارس اس خلا کو پُر کریں۔

یہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے دینی مدارس کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن سماجی ضروریات کے حوالے سے دینی مدارس کی ذمہ داری سمجھی جا رہی ہے۔ اور سمجھنے والے غلط بھی نہیں، وہ کیا کریں؟ اصل جگہ سے ضرورت پوری نہیں ہوتی تو متبادل جگہ سوچیں گے۔ یہ تو سماج کا تقاضا، اصلاً‌ یہ تقاضا ریاستی نظامِ تعلیم سے ہے، وہاں سے پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تقاضا منتقل ہو جاتا ہے دینی مدارس کو کہ وہ یہ خلا — پُر تو نہیں کر سکتے وہ — لیکن اس کو کم کرنے کی جتنی بھی کوشش کر سکتے ہیں، یہ سماج کا تقاضا ہے، معاشرے کا تقاضا ہے، ملکی نظام کا تقاضا ہے، پاکستان کے دستور کا تقاضا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی، چلو اس کو نظر انداز کر دیا، ہمیں اپنا کام ہی کرنا ہے۔ میں اس ساری بات کو نظرانداز کر کے بات کر رہا ہوں۔ ہمیں اپنا کام ہی کرنا ہے۔ ہم نے خطیب، مدرس، مفتی، قاری، حافظ، داعی، یہ دینے ہیں۔ تو یہ ایک الگ دائرہ بن جاتا ہے اور اس پر کچھ اور سوالات آتے ہیں کہ

  • کیا معاشرے کو داعی کی ضرورت آج کے دور کے حوالے سے ہے یا ایک سو سال پہلے کا داعی بھی کام کر جائے گا؟
  • آج کی سوسائٹی کو مفتی کی ضرورت ہے۔ جو ہمارے پرانے علمی نیٹ ورک کے دائرے میں آج سے سو سال کے ماحول کا مفتی تو تھا، لیکن آج وہ تبدیلیاں اور تغیرات جو ہیں! میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر ہم ایک اصول یہ مانتے ہیں کہ تغیرِ زمانہ سے احکام میں تغیر ہوتا ہے۔ تو کیا ہمارے آج کے مفتیانِ کرام تغیراتِ زمانہ سے واقف ہیں؟ سماجی ارتقا سے؟ سماجی ماحول کی تبدیلیوں سے؟ نئے تقاضوں کے پیدا ہونے سے؟ ان میں سے صرف ایک تقاضے کا ذکر کروں گا کہ مغربی فلسفے کے تسلط سے جو نئے مسائل کھڑے ہوئے ہیں: فکری مسائل، علمی مسائل، اعتقادی مسائل، کیا ہم اپنے مفتی کو دارالافتاء میں، جہاں ہم کورس کرواتے ہیں، وہاں آج کے نظریاتی اور فکری ماحول اور اس کے جدید تقاضوں سے ہم واقف کراتے ہیں؟ مفتی کو واقف ہونا چاہیے۔ اگر مفتی آج کے نظریاتی اور فلسفیانہ ماحول سے اور آج کے معاشرتی تقاضوں سے اور تغیرات سے واقف نہیں ہے تو وہ فتویٰ نہیں دے سکے گا۔
  • خطیب ہے۔ خطیب صاحب نے جمعے پہ خطبہ ارشاد فرمانا ہے۔ فرماتے ہیں، لاکھوں خطیب جمعہ پڑھا رہے ہیں برصغیر میں۔ آدھ پون گھنٹہ انہوں نے گفتگو کرنی ہے، وہ گفتگو انہوں نے سماج کی ضرورت کے مطابق کرنی ہے۔ یہ ہم محسوس نہیں کر رہے۔ خطیب نے اپنے دور کے ماحول اور سماج کی ضروریات کو، مشکلات کو دیکھ کر بات کرنی ہے۔ وہ اگر نہیں واقف تو وہ نہیں بات کر سکے گا۔ جو کرے گا وہ مؤثر نہیں ہو گی۔ میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا، ہمارے ہاں عام طور پر ایک رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ جمعے کے خطبے میں لوگ عام طور پر آخر میں آتے ہیں، اور عربی خطبہ سنا، نماز پڑھی، عبادت کے دائرے کی چیز کی، چلے گئے۔ اس سے پہلے جو رہنمائی کے دائرے کی چیز ہے، میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا یار آپ لوگ وقت پہ کیوں نہیں آتے؟ کہتے ہیں، بات یہ ہے، ایک تو وقت کا بھی کہ لمبی تقریر ہوتی ہے۔ ایک انہوں نے کہا کہ جن مسائل کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے ان پہ بات نہیں ہوتی۔ ہمیں جن مسائل کی ضرورت ہوتی ہے یا سماج کو، ان پہ بات نہیں ہوتی۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے لہجے میں بات نہیں ہوتی۔

    ہم اگر عام آدمیوں میں بھی فتوے اور مناظرے کی زبان میں بات کریں گے تو سمجھ میں نہیں آئے گی، بلکہ کنفیوژ ہو جائے گا۔ تو خطیب کی بات میں کر رہا ہوں۔ خطیب آج کے اسلوب سے بھی واقف ہو، گفتگو کا اسلوب۔ آج کا اسلوب پرانا نہیں ہے، میں مثال عرض کروں گا۔ آج سے پون صدی پہلے گفتگو کا اسلوب، وہاں حکمرانی تھی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ کے طرزِ کلام کی، مشکل الفاظ، ترکیبیں، اور جناب، نادر محاورے۔ بھئی، اب کوئی نہیں سنتا۔ اب تو سادہ لہجے میں بات کرنی ہو گی، کامن سینس میں بات کرنی ہو گی۔ آج سے پون صدی پہلے ذوق تھا خطابت کا، تین تین گھنٹے، چار چار گھنٹے، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ساری رات لوگوں کو جگائے رکھتے تھے۔ اب کوئی جاگنے کو تیار نہیں ہے، کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ اب آپ کو آدھ گھنٹے میں، زیادہ سے زیادہ پون گھنٹے میں اپنی بات کہنی ہے۔ یہ خطابت کی ضروریات میں تبدیلی آئی ہے۔

  • تدریس ہے۔ مثلاً‌ مدرس ہے۔ مدرس کو صرف کتاب پڑھانی ہے یا مضمون پڑھانا ہے؟ میرا بنیادی سوال ہے۔ ہمارے مدرس نے نئی نسل کو دین کی تعلیم دینی ہے، فقہ کی تعلیم دینی ہے، اصولِ فقہ کی دینی ہے، تفسیر کی دینی ہے، حدیث کی۔ مدرس بطور مدرس کے کلاس میں بیٹھا ہے، اسے صرف کتاب پڑھانی ہے یا مضمون پڑھانا ہے؟ یہ تبدیلی ہم محسوس نہیں کر رہے۔ پھر، کتاب اور مضمون پڑھانا ہے تو آج کے عصری تناظر میں پڑھانا ہے یا اپنے ذہنی دائرے میں پڑھانا ہے؟ یہ تبدیلیاں ہیں، یہ ضروریات ہیں ہماری۔

تو میں نے دو ضروریات کا ذکر کیا ہے کہ

  1. دینی مدارس کے فضلاء سے ایک تو توقعات وابستہ ہو گئی ہیں، امت کی، قوم کی، اُس خلا کے حوالے سے جو ریاستی نظامِ تعلیم کی ناکامی، یا ریاستی نظامِ تعلیم کی بے توجہی سے پیدا ہو گئی ہیں۔ وہ خلا ہے ایک، وہ خلا پُر کرنے کے لیے لوگ دینی مدارس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
  2. دوسری بات کہ جو ہمارے فضلاء ہوتے ہیں: خطیب، امام، مدرس، مفتی، داعی، حافظ، قاری، وہ آج کے جدید سماجی تقاضوں سے آگاہ ہوں گے، میں انکار نہیں کرتا، لیکن ان کی تربیت اس حوالے سے نہیں ہے، نہ فکری، نہ عملی، نہ علمی۔

ایک بات اور کہہ کے میں بات سمیٹوں گا۔ ایک اور بات پیدا ہو گئی ہے جو آج کچھ عرصے سے ہر صاحبِ علم محسوس کر رہا ہے کہ ہماری اعلیٰ یونیورسٹیوں میں، ریاستی یونیورسٹیوں میں، جامعات میں، ایک تو یہ ہے کہ دینی تعلیم کا جو تھوڑا بہت رجحان تھا، اس کا نصاب کم کیا جا رہا ہے، مختلف حوالوں سے۔ اور مغربی فلسفے سے متعلقہ باتیں، اس کا حجم بڑھ رہا ہے۔ اور سوالات بڑھ رہے ہیں، فکری سوالات، سماجی تقاضے، ہماری ان پہ توجہ نہیں ہے۔ ہمارے فضلاء کی بہت بڑی تعداد، میں سب کو نہیں کہتا، لیکن ایک بہت بڑی تعداد جو آج کے سوالات سے واقف ہی نہیں ہے کہ آج وہ اگر یونیورسٹی میں جائیں گے یا جدید تعلیم یافتہ کسی ماحول میں جائیں گے تو ان سے عقیدے کے بارے میں کیا سوال ہو گا، اعمال کے بارے میں کیا سوال ہو گا، آج کے سماجی چیلنجز کیا ہیں، فکری ضروریات کیا ہیں، علمی تحدیات کیا ہیں۔ زمانہ پھیل چکا ہے، اور اس موبائل نے تو پوری دنیا کے ماحول کو ایک جیب میں بند کر دیا ہے۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں، اگر ہم قومی زندگی کے باقی خلا کو پُر نہیں کر سکتے، وہ ظاہر بات ہے ممکن بھی نہیں ہے، تو اپنے دائرے میں اپنی ضرورت کے رجالِ کار تیار کرنے میں عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھنا، یہ تو ہماری کم از کم ذمہ داری ہے۔ دینی مدارس کو اس کا اہتمام کرنا ہو گا اور سینئر اساتذہ کو رہنمائی کرنا ہو گی۔ میں نے ایک دفعہ تجویز پیش کی تھی، آج میں اس تجویز کو دہرا رہا ہوں۔ تجویز میں نے باضابطہ پیش کی تھی جب وفاق المدارس العربیہ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ تعالیٰ، ہمارے بزرگ تھے، دوست تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے ایک گزارش کی تھی۔ میں نے کہا، حضرت! دینی مدارس کے اپنے وفاق کے دائرے کے سینئر مدرسین، جنہوں نے پچیس پچیس تیس تیس سال پڑھایا ہے، میں نے عرض کیا، آپ کچھ بھی نہ کریں، آپ سینئر مدرسین میں، سو مدرسین، ڈیڑھ سو مدرسین، سال میں دو ورکشاپیں کر لیا کریں، دو دن کی، تین دن کی۔ کچھ اکابر اساتذہ کو بلا کر لیکچر دلوا لیا کریں۔ ان سے پوچھیں یہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ یعنی جس مدرس نے اس معاشرے میں پچیس تیس سال پڑھایا ہے، ان کو اکٹھا کر کے، سال میں دو دفعہ اکٹھا کریں، ورکشاپ کریں، دو باتیں پوچھیں ان سے:

  1. ایک اس بات سے کہ وہ کیا اپنے طرزِ تعلیم سے اور اپنے تعلیمی مواد سے اور نئی نسل کی ضروریات کے بارے میں اپنے ورک سے مطمئن ہیں؟
  2. اور یہ بات بھی پوچھیں، جو اکثر ہم بالکل ہی نظرانداز کر دیتے ہیں، کہ وہ اِس معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی سماجی ضروریات، اپنی معاشی ضروریات، اپنی باعزت زندگی، اپنا روزگار، اپنی تنخواہ، اپنی مراعات، اس میں رہتے ہوئے وہ مطمئن ہیں؟

یہ دو سوال ہمیں مدرسین سے کرنے چاہئیں، خطباء سے کرنے چاہئیں، ائمہ مساجد سے کرنے چاہئیں، اپنے داعیین سے کرنے چاہئیں، مفتیانِ کرام سے کرنے چاہئیں۔ میں یہ کہتا ہوں کسی کی بات نہ سنیں آپ، اِن کی تو سنیں۔ ان کو بٹھایا کریں، ان سے پوچھا کریں۔ اور صرف کارکردگی کے لحاظ سے نہیں، ان کی اپنی ضروریات کے حوالے سے بھی، معاشی ضروریات بھی، سماجی ضروریات بھی۔ میرے خیال میں ہمیں اپنے دائرے میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کا مدارس کو خود اہتمام کرنا ہو گا۔ ہم اگر نہیں کریں گے تو دوسروں کو مداخلت کا موقع پھر ملے گا اور ہم اس مداخلت کو روک نہیں سکیں گے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور ہم سب کو صحیح رخ پہ سوچنے کی اور کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الامی وآلہ واصحابہ و بارک وسلم۔

https://www.facebook.com/reel/2988531414767082

2016ء سے
Flag Counter