بین الاقوامی تعلقات اور اسوۂ ابراہیمیؑ

   
۲۷ مئی ۲۰۲۶ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ’’ابراہیمی اکارڈ‘‘ پر دستخط کر کے اس معاہدہ میں شریک ہو جائیں جو صدر ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں کرایا تھا اور جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں تاکہ وہ اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے کو نعوذ باللہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ ’’ابراہیمی اکارڈ‘‘ پر تفصیلی تبصرہ ہم اس سے قبل مختلف مضامین میں کر چکے ہیں کہ اسلام کے بنیادی عقائد، قرآن کریم کی صریح تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہم ایسا قطعی طور پر نہیں کر سکتے اور خدانخواستہ ایسا کرنا اپنے عقیدہ و ایمان سے دستبرداری کے مترادف ہے۔

آج ہم اس حوالہ سے قرآن کریم سے خود سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے کچھ ارشادات اور تعلیمات کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں اور جسے قرآن کریم نے ’’اسوۂ ابراہیمیؑ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ قرآن کریم نے ایک مقام پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولٰکن کان حنیفا مسلما وماکان من المشرکین‘‘ (اٰل عمران ۶۷) ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ ہی مسیحی اور مشرک تھے بلکہ مؤحد مسلمان تھے۔ پھر فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ حقیقی تعلق ان پر ایمان لانے والوں کا تھا اور ان کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کا ہے: ’’ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین اٰمنوا‘‘ (اٰل عمران ۶۸)۔

ایک جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مکالمہ ان کے والد صاحب کے ساتھ قرآن کریم نے تفصیل سے ذکر کیا ہے جس کے نتیجے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ محترمہ اور بھتیجے کے ہمراہ نہ صرف اپنے والد کا گھر چھوڑ دیا تھا بلکہ اس علاقہ سے ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے تھے۔ اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں آپ کے گھر کو اور آپ کے معبودوں سب کو ترک کر کے جا رہا ہوں۔ سورۃ الممتحنہ میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل مبارک کو ’’قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور امتِ مسلمہ سے فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہی طرزعمل تمہارے لیے بھی اسوۂ حسنہ ہے جس میں انہوں نے اپنی قوم اور خاندان سے خطاب کر کے فرمایا تھا کہ ’’ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے براءت اور بیزاری کا اعلان کرتے ہیں اور تمہارے ساتھ ہماری یہ دشمنی اور نفرت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا اعلان نہ کر دو‘‘۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس دوٹوک اعلان کا تذکرہ کر کے اس سے آگے قرآن کریم میں دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کا یہ دائرہ بیان فرمایا ہے کہ:

  1. جو قومیں دین کے بارے میں تم سے جھگڑا نہیں کرتیں اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور نہیں کرتیں ان کے ساتھ تم حسنِ سلوک کا تعلق رکھ سکتے ہو اور برادری کی بنیاد پر تعلقات قائم کر سکتے ہو۔
  2. ان قوموں کے ساتھ دوستی کے تعلقات سے اللہ تعالیٰ تمہیں منع فرماتے ہیں جو تم سے تمہارے دین کے حوالے سے جھگڑا کرتی ہیں اور تمہیں اپنے علاقوں سے نکالنے کے ساتھ تمہیں بے گھر کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں، ان سے دوستی کے تعلقات رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ ہدایات قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرز عمل کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ قرار دینے کے بعد بیان کی گئی ہیں۔ اس لیے مسلم حکمرانوں اور عرب حکومتوں سے ہم یہ مؤدبانہ گزارش کریں گے کہ وہ وقتی مفادات اور ترغیبات کے باعث کوئی قدم اٹھانے سے پہلے قرآن کریم کی صریح تعلیمات، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اور خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ پر ایک بار پھر غور کر لیں اور ایسا کوئی کام کرنے سے گریز کریں جو امتِ مسلمہ کو دوبارہ اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دینِ الٰہی‘‘ کے دور میں واپس لے جائے اور حضرت مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ العزیز کے قافلہ اور معتقدین کے لیے مجددی تحریک کے اَحیا کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ رہے۔ اللہ پاک ہم سب کو کسی بھی ایسی آزمائش سے محفوظ رکھیں اور اگر آزمائش آتی ہے تو دینِ حق پر ثابت قدمی اور استقامت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter