اسلام کی اشاعت و دفاع میں میڈیا کا کردار

   
عثمانیہ میڈیا آفیشل
۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سوشل میڈیا، یعنی وقت کے ساتھ بات پہنچانے، سمجھانے اور دوسرے کو قائل کرنے کے جو میسر ذرائع ہوں، ان کو اپنے مشن اور اپنے کاز کے لیے استعمال کرنا، یہی سوشل میڈیا ہے۔ ہر دور کے ذرائع مختلف رہے ہیں۔ آج کے ذرائع جدید اور ترقی یافتہ ہیں، تیز رفتار ہیں، لیکن بنیادی کام یہی ہے کہ اپنی بات پہنچانا، سمجھانا، قائل کرنا اور اس کے لیے ماحول بنانا۔ یہ سوشل میڈیا، میڈیا، یا ذرائعِ ابلاغ کا بنیادی دائرۂ کار ہوتا ہے۔

جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے واسطہ پڑا ہے اور حضورؐ نے بھی اس کو استعمال کیا ہے۔ میں اس کا تھوڑا سا ذکر کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ غزوۂ احزاب میں جب مختلف عرب قبائل متحد ہو کر مدینہ منورہ پر چڑھ دوڑے تھے، اس کا قرآن پاک نے بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے ’’اذ جآءوکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون باللہ الظنونا‘‘ (الاحزاب ۱۰) چاروں طرف سے لشکر چڑھ دوڑے تھے، خوف اور ہراس طاری کر دیا تھا۔ تم درمیان میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ لمبا قصہ ہے۔ لیکن ان کو ناکامی ہوئی۔ اللہ رب العزت نے ان کی ناکامی کو ان الفاظ سے بیان کیا ’’و رد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا‘‘ (الاحزاب ۲۵) اللہ پاک نے ان کافروں کو، مدینہ کا محاصرہ کرنے والے متحدہ محاذ کو اس کے غصے سمیت واپس کر دیا اور وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔

جب اللہ پاک نے احزاب کو واپس کیا اور وہ فوجیں واپس گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ مسجد نبوی میں صحابۂ کرامؓ سے، غزوۂ احزاب کے اُس ماحول کے بعد، حضورؐ نے دو بنیادی باتیں فرمائیں:

  1. ایک بات تو یہ فرمائی کہ قریش کے ساتھ ہماری جنگ تھی، بدر، احد، احزاب، وہ سارے مراحل گزر گئے ہیں، اب ان کا زور ٹوٹ گیا ہے، اب یہ ہم پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں کریں گے ’’الآن نغزوہم ولا یغزوننا‘‘ اب جب بھی کریں گے ہم کریں گے۔ ایسا ہی ہوا۔
  2. دوسری بات یہ فرمائی کہ جو قومیں ہتھیار کی جنگ میں ناکام ہو جاتی ہیں پھر وہ زبان کا ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ یہ انسانی نفسیات بھی ہے کہ جہاں ہتھیار ناکام ہوتا ہے وہاں زبان شروع ہو جاتی ہے۔ اب تو پہلے بھی زبان ہی شروع ہوتی ہے۔ حضورؐ نے صحابۂ کرامؓ سے فرمایا کہ اب یہ تمہارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے۔ اب یہ تمہارے خلاف خطابت، شاعری اور پروپیگنڈا کریں گے۔ میلوں میں جائیں گے، اجتماعات میں جائیں گے، تمہاری کردار کشی کریں گے، تمہارے خلاف پروپیگنڈا کریں گے، لوگوں کو بھڑکائیں گے۔

آپؐ نے پوچھا، یہ جنگ کون لڑے گا؟ چار آدمی سامنے آئے: تین شعراء اور ایک خطیب۔ حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن مالک، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، اور حضرت ثابت بن قیس، رضی اللہ عنہم۔ خطیب تھے، شاعر تھے۔ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اور حضورؐ کی سرپرستی میں انہوں نے یہ جنگ لڑی، مقابلہ کیا۔ میدان کیا تھا؟ اسلام کی تعلیم، دعوت، اسلام کی خوبیاں، ضرورت، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح، حضورؐ کے مناقبِ حسنہ سے لوگوں کو متعارف کروانا، کافروں کی باتوں کا جواب دینا، ان کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنا، اور ان کی باتوں کا جواب دے کر اسلام کی حقانیت کو واضح کرنا، یہ ان کے میدان تھے۔

اس کی ایک چھوٹی سی جھلک میں بخاری شریف سے ہی عرض کرنا چاہوں گا۔ عمرۃ القضاء پہ — حدیبیہ میں عمرہ نہیں کر سکے تھے تو اگلے سال معاہدے کے مطابق آئے — اب ڈیڑھ ہزار کے قریب صحابۂ کرامؓ ہیں، جنابِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، احرام باندھے ہوئے ہیں اور معاہدے کے تحت عمرہ کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ جن تین چار صحابہؓ کا میں نے ذکر کیا ہے، انہی میں سے ہیں۔ یہ رجزیہ شاعری کیا کرتے تھے۔ اب باقی لوگ تلبیہ پڑھ رہے ہیں ’’لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک‘‘، جبکہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے حضورؐ کی اونٹنی کی مہار تھامی ہوئی ہے، پہاڑی سے نیچے اتر رہے ہیں، سامنے قریش کا سارا ماحول ہے، اور یہ ترانے پڑھ رہے ہیں: مار دیں گے، اڑا دیں گے، کاٹ دیں گے، جلا دیں گے۔ چونکہ ماحول وہی تھا۔ یہ رجزیہ شاعری، جس کو آج کل ہم جنگی ترانے کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دور سے دیکھا تو اشارے سے کہا کہ خدا کے بندے! کعبہ سامنے ہے اور تم یہ کیا کر رہے ہو؟ حضرت عمرؓ نے تو ان کو دیکھ کر بات کی، حضورؐ نے حضرت عمرؓ کو اوپر سے دیکھ لیا کہ عمرؓ ان کو روک رہے ہیں۔ تو حضورؐ نے اوپر سے فرمایا ’’دعہ یا عمر‘‘ عمر! چھوڑو، پڑھنے دو اس کو۔ ایک جملہ فرمایا کہ اس کے اشعار تمہارے تیروں سے زیادہ دشمن کے سینوں پر پیوست ہو رہے ہیں۔

گویا یہ بھی جنگ کا ایک محاذ ہے، یہ بھی میدانِ جنگ ہے۔ اپنی بات کہنا، دوسرے کی بات کا جواب دینا، اور اس کے لیے وقت کے ذرائع اختیار کرنا۔ اس وقت کے دو بڑے ذرائع تھے: خطابت اور شاعری۔ اور تجارتی منڈیاں اور تہذیبی و ثقافتی میلے جو لگا کرتے تھے وہاں صحابۂ کرامؓ بھی اور خود حضورؐ بھی تشریف لے جاتے تھے۔ عکاظ کے میلے میں جاتے تھے، وہاں سب کچھ ہو رہا ہوتا تھا لیکن حضورؐ اپنی بات کرتے تھے۔

وقت کے اسباب کو اختیار کرنا، اسلوب کو اختیار کرنا، یہ اس زمانے کا ماحول تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا، ترغیب بھی دی کہ اپنی بات کہنے کے لیے اور سمجھانے کے لیے جو وقت کے میسر ذرائع ہیں ان کو استعمال کرو، اور حضورؐ نے بھی کیے۔

آج بھی اسلام کو، مسلمانوں کو، ملتِ اسلامیہ کو، قرآن و سنت کی تعلیمات کو چاروں طرف سے یلغار کا سامنا ہے۔ اعتراضات بھی ہیں، کردار کشی بھی ہے، توہین بھی ہے، پروپیگنڈے کی ایک یلغار ہے چاروں طرف سے۔ اسلام کے بارے میں، قرآن پاک کے بارے میں، جنابِ نبی کریمؐ کی ذاتِ گرامی کے بارے میں، مسلمانوں کے بارے میں، اہلِ دین کے بارے میں، دینی مراکز کے بارے میں طوفان ہے دنیا میں۔ اس کا جواب دینا اور اپنا محاذ قائم کرنا، یہ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے، لیکن حکمت عملی سے، تدبر سے، منطق سے، دلیل سے۔ میرا ایمان ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو آج کے اسلوب اور آج کی زبان میں ہم صحیح طریقے سے پیش کر سکیں، اور مخالفین کے اعتراضات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کا تکنیک اور حکمت کے ساتھ جواب دے سکیں، تو یہ بہت بڑا جہاد ہے، بہت بڑی جنگ ہے اور آج کی ضرورت ہے۔ اسلام کو، مسلمانوں کو اور امتِ مسلمہ کو اللہ پاک توفیق دے کہ ہم باقی شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی کوئی نہ کوئی خدمت اچھے طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

https://youtu.be/AsDQf2hTPCI

2016ء سے
Flag Counter