بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج پورے ملک میں ہم اہلِ دین اور اہلِ علم صدمے سے دوچار ہیں۔ ہمارے ملک کی بہت بڑی علمی، دینی اور روحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ آج صبح ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے اور کراچی میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔ پورا ملک بالخصوص دینی اور علمی حلقے سوگوار ہیں کہ ہم ایک محترم، بزرگ، رہنما اور سرپرست شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔
مولانا رفیع عثمانیؒ کا تعلق عثمانی خاندان سے تھا، جو دیوبند میں رہنے والا خاندان تھا۔ ہم تو دیوبندی کہلاتے ہیں فکری نسبت کی وجہ سے، اور وہ دیوبندی تھے دیوبند میں رہنے والوں کی وجہ سے۔ ان کے دادا محترم حضرت مولانا محمد یاسین صاحبؒ دارالعلوم کے استاذ تھے، پھر ان کے والد محترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف دارالعلوم کے استاذ تھے بلکہ پاکستان بننے سے پہلے دارالعلوم کے مفتی بھی تھے، اور برصغیر کے بڑے مفتیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
جب پاکستان بنا تو یہ خاندان ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوا۔ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ہمارے مخدوم تھے، وہ ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ محترم تھے۔ مفتی صاحبؒ کی خدمات میں جہاں علمی، دینی اور فقہی خدمات ہیں، وہاں وہ تحریکِ پاکستان کے بڑے رہنماؤں میں بھی شامل تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی اور حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں علماء کے جس قافلے نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا، ان میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ جیسے سرکردہ حضرات بھی تھے۔ انہوں نے اس زمانے میں پاکستان کی تحریک میں کردار ادا کیا اور پاکستان بننے کے بعد ان تینوں میدانوں میں محنت کی:
- ایک میدان ان کا تعلیمی تھا کہ وہ تعلیم چھوڑ کر آئے تھے، تو یہاں ایک بہت بڑا دارالعلوم قائم کیا جو آج جامعہ دارالعلوم کراچی کے نام سے ملک کے بڑے دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ سب سے بڑا کہہ لیں تب بھی حرج نہیں، بہرحال پاکستان کے جو دو تین بڑے مدارس ہیں، ان میں سر فہرست جامعہ دارالعلوم کراچی ہے، جو حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے قائم کیا۔ جامعہ دارالعلوم کے نائب صدر اور مولانا رفیع عثمانی صاحبؒ کے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی اِس وقت وفاق المدارس العربیہ کے صدر ہیں اور دینی مدارس کی تحریک کی قیادت فرما رہے ہیں۔
- اس کے علاوہ جو اُن کا میدان تھا وہ ملک کے قانون کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی محنت تھی۔ اس میں بھی حضرت مولانا محمد شفیع صاحبؒ اور ان کے بعد ان کے خاندان کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ’’ادارہ تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ‘‘ کے نام سے سرکاری طور پر ایک ادارہ بنا تھا کہ پاکستان کے قوانین کو اسلام کے مطابق کیسے بنایا جائے۔ تو حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کے سرکردہ ارکان میں سے تھے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کی بڑی محنت ہے، تعلیمی میدان میں بھی اور فکری میدان میں بھی۔ ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں ان کا ایک تاریخ ساز کردار ہے، اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کا مقام آتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں شریعت کے نفاذ، اسلامی قوانین کی ترویج اور ملکی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے علمی محنت کی۔
- تیسرے نمبر پر علماء کی سرپرستی اور روحانی قیادت ہے۔ ان کا تعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی سلسلے سے تھا اور اپنے وقت کے بڑے شیخ بھی تھے، محدث بھی تھے، فقیہ بھی تھے، رہنما بھی تھے، مفکر بھی تھے اور روحانی پیشوا بھی تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کے فرزند اور جانشین تھے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ، جنہیں پرسوں تک ہم دامت برکاتہم کہتے تھے، آج رحمہ اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں۔ وہ صاحبِ علم بھی تھے، صاحبِ عمل بھی تھے، صاحبِ نسبت بھی تھے اور صاحبِ کردار بھی تھے۔ یہ تین چار باتیں بہت کم اکٹھی ہوتی ہیں، اور ان میں بدرجہ اتم تھیں۔ اللہ پاک نے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، ان دونوں بھائیوں کو پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں مقبولیت عطا فرمائی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے بارے میں تو میں یہ کہا کرتا ہوں کہ وہ پوری دنیا میں پاکستان کی علمی پہچان ہیں۔ فقہی اور علمی دنیا میں پاکستان کی اور بالخصوص ہم دیوبندی علماء کی پہچان ہی مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ہیں۔ ان کو دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ اکابر کیا تھے اور انہیں دیکھ کر لوگ حوالہ دیتے ہیں۔ جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ اِس خاندان کے سربراہ بھی تھے، دارالعلوم کے سربراہ بھی تھے، اس قافلے کے سربراہ بھی تھے، حضرت مفتی شفیع صاحبؒ کے جانشین بھی تھے اور ان کی روایات کے امین بھی تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کے ساتھ میری چار عشروں تک نیاز مندی رہی ہے، رفاقت رہی ہے، ملک میں بھی اور بیرون ملک بھی۔ ان کے ساتھ میں نے امریکہ اور برطانیہ کی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور دوسرے ممالک میں بھی اس کا اتفاق ہوا ہے۔ اور پاکستان میں تو الحمد للہ ہم ان کے پاس جاتے تھے، وہ یہاں الشریعہ اکادمی اور جامعہ نصرۃ العلوم میں تشریف لا چکے ہیں اور جامعہ قاسمیہ بہت دفعہ آئے ہیں۔ تو ہماری نیاز مندی الحمد للہ اس خاندان کے ساتھ ہے اور ان کی شفقتیں اور مہربانیاں بھی ہیں۔
ایک بات میں یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ عالمِ دین کی موت بہت بڑے صدمے کی بات ہوتی ہے، لیکن ایک وہ عالم ہوتا ہے جو دنیا کی رہنمائی کرتا ہے، اور ایک اس سے اوپر وہ عالم ہوتا ہے جو علماء کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ علماء کے رہنما تھے، مفتی رفیع صاحبؒ ہمارے مخدوم تھے، اور یہ خاندان جنوبی ایشیا میں اہلِ علم کا مرجع تھا۔ مرجع کہتے ہیں جس سے بوقتِ ضرورت رجوع کیا جاتا ہے۔
اس پر ایک واقعہ عرض کروں گا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز ہماری بہت بڑی شخصیت تھی، ان کے سینکڑوں ہزاروں شاگرد تھے جن میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحبؒ بھی تھے اور دیگر حضرات بھی۔ میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ جب حضرت شیخ الہندؒ کا انتقال ہوا تو شاگرد، مرید اور کارکن رو رہے تھے۔ استاذ کی جدائی میں شاگرد روئے گا ہی، اور جس درجے کا استاد ہوگا اس درجے کا روئے گا۔ علماء پریشان تھے اور رو رہے تھے کہ ہمارے شیخ چلے گئے، ہمارے استاذ چلے گئے۔ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، جنہیں حضرت شیخ الہندؒ کا جانشین قرار دیا گیا، ان سے ایک جملہ منسوب ہے کہ انہوں نے علماء سے کہا: ’’بھئی تم کیوں روتے ہو، تمہارے لیے تو ہم ہیں۔ ہم روئیں کہ ہمارے لیے کوئی نہیں رہا۔‘‘
یہ علماء کے مراجع ہوتے ہیں۔ عام لوگوں نے تو علماء سے پوچھنا ہے، لیکن علماء کے لیے بھی مقام ہوتے ہیں کہ انہوں نے کس سے پوچھنا ہے، تو ان کے اپنے مراجع ہوتے ہیں۔ اور واقعتاً میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان بزرگوں میں سے تھے جن کے بارے میں میرے دل میں یہ احساس ہے کہ اب دو چار آدمی رہ گئے تھے جن سے ہم پوچھا کرتے تھے کہ حضرت! کیا کرنا ہے؟ ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے، اور جو وہ فرماتے تھے تو تسلی ہو جاتی تھی۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کو علماء نے مشترکہ طور پر ’’مفتی اعظم پاکستان‘‘ کا خطاب دیا تھا اور ان کا فتویٰ اور ان کی رائے چلتی تھی۔ سرکاری حلقوں میں بھی اور غیر سرکاری حلقوں میں بھی ان کی رائے پوچھی جاتی تھی اور مانی جاتی تھی۔ لیکن میرے نزدیک سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اہلِ علم کو بھی اعتماد تھا کہ ہم کہیں پھنس گئے تو ان دونوں بھائیوں سے پوچھ لیں گے، یا ایک دو اور بزرگ ہیں، اُن سے پوچھ لیں گے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ تو وہ مرجع تھے اہلِ علم کے۔ آج بھی ملک میں جو دو تین خاندان ہیں، جن سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، ان میں سر فہرست عثمانی خاندان ہے۔ اور اب اللہ پاک حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں۔ سچی بات ہے دل سے دعا نکلتی ہے کہ یہ جو ایک دو آدمی رہ گئے ہیں، مولا کریم! ان کی حفاظت فرما، ان کو صحت عطا فرما، ان کی تعلیمی اور علمی سرگرمیوں میں اضافہ فرما اور ہمیں ان سے استفادہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ میرے نزدیک تو اس خاندان بالخصوص ان دونوں بھائیوں کا مقام یہ ہے۔
مفتی رفیع عثمانی صاحبؒ ہم سے رخصت ہو گئے ہیں۔ میں جب بھی کراچی جاتا تو ان کے پاس حاضر ہوتا، وہ بڑی شفقت فرماتے تھے۔ میں دو تین مہینے پہلے کراچی گیا ہوا تھا، بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا تو ان کو دیکھ کر مجھے اپنے والد صاحبؒ یاد آگئے۔ حضرت والد صاحب مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے آخری ایام بھی ایسے ہی تھے کہ وہ بستر پر تھے اور معذور تھے۔ مفتی صاحبؒ کو میں نے دیکھا تو ابا جی یاد آگئے کہ بالکل وہی کیفیت تھی۔ لیکن اتنی بات ہے، جس کا مجھے احساس بھی ہے اور فخر بھی ہے کہ انہوں نے پہچان لیا کہ کون آیا ہے۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ ایسے وقت میں یادداشت کام نہیں کرتی۔ میں سامنے ہوا تو انہوں نے غور سے دیکھا۔ بس ایک آدھ لفظ بول سکتے تھے۔ انہوں نے ایک آدھ جملے میں مجھے ایک بات یاد دلائی تو میں سمجھ گیا کہ پہچان تو لیا ہے، اور میرے لیے بس یہی بات کافی تھی کہ انہوں نے پہچان لیا ہے۔ پھر ہم نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے ہمارے لیے دعا کی۔
آج مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ ہم سے رخصت ہو گئے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلِ علم یتیم ہو گئے ہیں اور ان کی محرومی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے میں سب حضرات سے درخواست کروں گا کہ درود شریف کے ساتھ سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھ کر ہم ان کو ایصالِ ثواب کریں گے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں گے۔
مولا کریم! جو کچھ کہا ہے اور جو کچھ پڑھا ہے، اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ اس کا ثواب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اور ان کی برکت سے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ کو پہنچا۔ مولا کریم! ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرما، حسنات قبول فرما، سیئات سے درگزر فرما۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ ان کے خاندان، شاگردوں اور متوسلین کو ان کی روایات جاری رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ مولا کریم! ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کو لمبی عمر عطا فرما، صحت و سلامتی اور دین کی خدمت کی توفیق کے ساتھ امت کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ مولا کریم! جو بھی ہمارے بزرگ، بھائی، دوست دنیا سے چلے گئے ہیں سب کی مغفرت فرما، سب کی آخرت کی منزلیں آسان فرما، سب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما، سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔ اور مولا کریم! ہم سب کو ان کی روایات اور حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرما اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرما، آمین یا رب العالمین۔

