جامعہ فاروقیہ کراچی کے اساتذہ و عملہ کی شہادت

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲ فروری ۲٠٠۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آپ حضرات نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، اور ایسی افسوسناک خبریں ہم مسلسل پڑھتے آرہے ہیں اور خدا جانے کب تک پڑھیں گے، کراچی میں ہمارے ملک کا بہت بڑا دینی مرکز ہے جامعہ فاروقیہ، حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ہمارے وفاق المدارس کے سربراہ ہیں، ان کا احسن کالونی میں جامعہ فاروقیہ کے نام سے بہت بڑا ادارہ ہے، وہاں کے اساتذہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، مدرسے کی گاڑی انہیں گھر سے مدرسے میں پڑھانے کے لیے لا رہی تھی، راستے میں فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں اساتذہ اور دوسرے ملازمین شہید ہوگئے۔

علماء کرام کا قتل ایک عرصہ سے جاری ہے، اس کے متعلق بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں، بہت سے عوامل ہیں اس میں۔ ایک عام انسان کا قتل بھی انصاف پسند حکومتوں کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہوتا، چہ جائیکہ اساتذہ! اور وہ بھی علمِ دین کے اساتذہ۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے تھے کہ میری سلطنت میں اگر ایک کتا بھی ہماری غفلت سے بھوک سے مر گیا تو اس کے متعلق مجھ سے پوچھا جائے گا اور قیامت کے دن میرا گریبان پکڑا جائے گا کہ عمر! تیری مملکت میں ایک جاندار چیز تیری غفلت سے مر گئی تھی۔ اور یہاں پر انسانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، مختلف عنوانات سے، کہیں علاقائیت کے عنوان سے، کہیں لسانیت کے عنوان سے، کہیں مذہب کے عنوان سے۔

یہ قتلِ عام روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے ملک میں جو اتنی بڑی بڑی ایجنسیاں ہیں، یہ ان کا کام ہے کہ ایسے معاملات کی سراغ رسانی کریں اور ایسی سازشوں کی تہہ تک پہنچیں۔ اب تو لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ کام ہی ایجنسیوں کا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے مختلف گروہوں کے درمیان ایسی کشمکش پیدا کیے رکھتی ہیں۔ لیکن میں اس موقع پر یہ تو نہیں کہتا، لیکن آخر ایجنسیوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ حکومت کے اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس ملک میں غریب آدمی کی زندگی تو ویسے ہی اجیرن ہو گئی ہے، اگر حکومت ملک میں امن و امان بھی قائم نہیں کر سکتی اور لوگوں کو ان کی جانوں کے تحفظ کی ضمانت بھی نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کے باقی رہنے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

ہم اساتذہ کے قتل کے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، اپنے مظلوم شہید علماء کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، اور اس قتلِ عام کو رکوانے کے لیے حکومت اپنا اثر و رسوخ اور اپنے وسائل استعمال کرے۔ آپ حضرات علماء کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اللہ تعالیٰ ملک میں امن کے حالات پیدا فرمائیں۔ آمین۔

2016ء سے
Flag Counter