اقوامِ متحدہ کی کارکردگی اور ظالم چودھری

   
۱۱ جنوری ۲۰۰۳ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر منظور ہونے کے بعد آزادی کے مغربی علمبرداروں نے اعلان کیا تھا کہ اب غلامی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے اور دنیا میں آج کے بعد غلامی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کے منشور میں شخصی آزادی کی ضمانت دیتے ہوئے غلامی کی ہر قسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور اقوام و ممالک کی آزادی و خود مختاری کی حرمت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بیرونی مداخلت سے تحفظ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ لیکن شخصی اور قومی آزادی کا یہ اعلان اور گارنٹی نصف صدی گزرنے کے بعد آج بھی اس طرح تشنۂ تکمیل ہے جیسے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت تھی۔ اور نہ صرف اقوام و ممالک کی آزادی و خود مختاری کو طاقتوروں کی طرف سے مجروح کرنے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ انسانوں کی خرید و فروخت اور ان سے جبری مشقت لینے کے عمل میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ صرف نام بدلے ہیں، اصطلاحات کا فرق پڑا ہے، طریق کار میں تبدیلی آئی ہے اور عنوانات نئے اختیار کر لیے گئے ہیں۔ ورنہ قوموں اور ملکوں پر طاقت کے زور سے قبضہ جمانے کا عمل بھی جاری ہے اور اشخاص و افراد کی خرید و فروخت کی منڈیوں کا حجم بھی کسی کمی سے روشناس نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ہے۔ ماضی میں امریکا غلامی کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ ایک دور میں افریقہ سے بحری جہاز بھر بھر کر غلاموں کو امریکا لایا جاتا تھا اور ان سے جبری مشقت لینے کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی۔ جانوروں کی طرح ان کے سودے ہوتے تھے اور جانوروں کی طرح ہی ان سے کام لیا جاتا تھا۔ پھر ایک دور ایسا آیا کہ جب اس جبر اور ظلم کے خلاف آواز اٹھی، احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور رد عمل سامنے آیا تو غلامی کے خاتمہ کے لیے جدوجہد منظم ہوئی۔ اس طویل جدوجہد کے بعد انسان کی شخصی آزادی کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس کے خاتمہ کا اعلان ہوا اور اس کے ساتھ ہی اقوام و ممالک کی آزادی کا حق بھی تسلیم کیا گیا اور اس کی گارنٹی کے لیے اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ لیکن آج اقوام و ممالک کی آزادی کا جو حشر ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے امریکی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اپنے ملک میں غلاموں اور غلامی کے خاتمے کا بدلہ ساری دنیا سے لینے کا تہیہ کر رکھا ہے اور انسانوں سے طاقت اور جبر کے ذریعہ کام لینے اور ان پر آقائی جتانے کے صدیوں پرانے جذبہ کی تسکین کے لیے پوری دنیا کو طاقت کی حکمرانی آماجگاہ بنا لیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا ایک ’’گلوبل ویلج‘‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے مشترک اور مربوط عالمی سوسائٹی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات کسی اور حوالہ سے درست ہو یا نہیں مگر اس حوالہ سے بالکل درست اور حقیقت ہے کہ ساری دنیا ایک ایسے گاؤں کی طرح دکھائی دے رہی ہے جس پر ایک طاقتور جاگیردار نے قبضہ جما لیا ہے اور قوت و طاقت کے بل پر اس نے گاؤں کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی کو اس کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے، اس کے لٹھ بردار چاروں طرف گھوم رہے ہیں جن (کی نگرانی) سے کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی چار دیواری بچی ہوئی ہے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر جب میں سوچتا ہوں کہ امریکا میں غلامی کے جواز کے دور میں کسی بڑے جاگیردار یا نواب کے ڈیرے کا منظر کیا ہوگا؟ تو آج کی دنیا کا مجموعی حصہ دیکھ کر اس کا عملی نقشہ ذہن میں آنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور تخیل کی سکرین پر ایک واضح نقشہ فوراً نمودار ہو جاتا ہے۔

اقوام متحدہ دنیا بھر کے انسانوں کی شخصی آزادی اور اقوام و ممالک کی سالمیت و خود مختاری کا پرچم اٹھائے ہوئے نیو یارک میں ڈیرہ لگائے بیٹھی ہے۔ لیکن اس پرچم کے سائے میں قوموں اور ملکوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک منظر افغانستان میں دیکھا جا چکا ہے اور دوسرا منظر عراق میں دیکھنے کے لیے پوری دنیا آنکھیں جھپکے بغیر عراق کی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑی ہے۔ ایک طرف فلسطین اور کشمیر کے باشندوں کا قتل عام جاری ہے اور ان کا حق خود ارادیت اسی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیے جانے کے باوجود کے اس حق کو صرف اس لیے پس پشت ڈالا جا رہا ہے کہ ’’گلوبل ویلج‘‘ کے بڑے زمیندار کا مفاد اس میں نہیں ہے۔ یا ایسا کرنے سے اس کی چودھراہٹ اور انا کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ گاؤں میں دوسرے چودھری بھی ہیں مگر اس بڑے چودھری کے مقابلہ میں ان کے ڈیرے اجڑ چکے ہیں اور انہیں عافیت اسی میں نظر آرہی ہے کو وہ اس بڑے چودھری کے سامنے نگاہیں جھکا لیں اور مونچھیں نیچی کر لیں۔ بڑا چودھری ہاتھ میں لاٹھی لیے گاؤں کی پنچایت میں غصے سے بھرا ہوا کھڑا ہے۔ اس کے لٹھ بردار چاروں طرف لاٹھیاں اٹھائے گاؤں کے کسی بھی گھر میں داخل ہونے کے لیے اس کی آنکھوں کے اشارے کے منتظر ہیں۔ چودھری اور کمیوں سمیت ساری آبادی تھرا رہی ہے اور بڑا چودھری منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے للکار رہا ہے کہ میں ’’گلوبل ویلج‘‘ کا بڑا چودھری ہوں۔ میں اس گاؤں کا بڑا مالک ہوں یہاں صرف میری مرضی چلے گی اور گاؤں کی پنچایت سمیت سب کو وہی کچھ کرنا ہوگا جو میں چاہوں گا۔

تاریخ کا کوئی بھی طالب علم تین سو سال قبل یورپ کے کسی جاگیردار کے ڈیرے اور ڈیڑھ سو سال قبل کے کسی امریکی زمیندار کی جاگیر کا منظر نگاہوں میں لا کر آج کے ’’گلوبل ویلج‘‘ کا مجموعی منظر دیکھ لے۔ اسے یورپی جاگیرداروں اور امریکی زمینداروں کے کردار، نفسیات اور طرز عمل کے بارے میں مزید کسی تحقیق و جستجو کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اقوام و ممالک کے اس منظر سے ہٹ کر اشخاص و افراد کی آزادی کے منظر پر بھی ایک نگاہ ڈالیں، آپ کو خلیج عرب کے بہت سے ملکوں میں اکیسویں صدی میں رہنے والے کروڑوں انسان ایسے نظر آئیں گے جو شہری آزادیوں، ووٹ اور بنیادی حقوق سے صرف اس لیے محروم ہیں کہ انہیں رائے اور ووٹ کا حق اور اپنے معاملات خود طے کرنے کا اختیار دینے سے اس خطہ میں ’’گلوبل ویلج‘‘ کے بڑے چودھری کے مفاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی انسانوں کی خرید و فروخت کی صورت حال بھی دیکھ لیں کہ خود امریکا کے محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال چالیس سے ساٹھ لاکھ تک انسانوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن میں زیادہ تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہے جنہیں جبری مشقت اور عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کے حوالہ سے یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ خرید و فروخت کا شکار ہونے والے ان مجبور افراد کو مغربی یورپ، عرب ممالک، تھائی لینڈ اور امریکا سمیت دنیا کے ہر خطے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان لاکھوں افراد میں زیادہ تعداد کمسن لڑکیوں کی ہوتی ہے جنہیں نائٹ کلبوں، ریستورانوں اور قحبہ خانوں میں عصمت فروشی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور انہیں ایسے تمام کاموں کے لیے کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔ ایسے افراد کا زیادہ تر تعلق جنوب مشرقی ایشیائی اور افریقی ممالک سے ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں ’’غلامی اور جبری مشقت‘‘ کی اس ترقی یافتہ صورت کی روک تھام کے لیے متعدد قوانین نافذ کیے گئے ہیں اور ایک مستقل محکمہ بھی بنایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود امریکا اور یورپ سمیت پوری دنیا میں یہ کاروبار جاری ہے۔ یہ ہے اقوام متحدہ کی نصف صدی کی کارکردگی کا خلاصہ جس کی بنیاد پر اس کا اصرار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی حکومت تسلیم کی جائے اور اس کے کسی فیصلے سے اختلاف یا انحراف کی جرأت نہ کی جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter