سانحہ لال مسجد اور شریعت وحکمت کے تقاضے

   
ستمبر ۲۰۰۷ء

(لال مسجد کے سانحے کے سلسلے میں لکھے گئے مجموعۂ مضامین ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ‘‘ کے دیباچے کے طور پر تحریر کیا گیا۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے تنازع کا جب آغاز ہوا تو راقم الحروف نے اس کے مختلف پہلوؤں پر اسی وقت سے اپنے تاثرات و احساسات کو قلم بند کرنا شروع کر دیا تھا جو مختلف کالموں اور مضامین کی صورت میں ماہنامہ الشریعہ، روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہوتے رہے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین اور کالموں میں متعلقہ مسئلہ کی معروضی صورتحال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں دینی نقطہ نظر کو بھی متوازن انداز میں پیش کر دیا جائے تاکہ قارئین کو کسی فیصلے تک پہنچنے میں آسانی رہے۔

دینی نقطہ نظر سے میری مراد کسی بھی مسئلے کے حوالے سے قرآن و سنت کے ارشادات و فرمودات کی وہ تعبیر و تشریح ہوتی ہے جو امت کے جمہور اہل علم اور خصوصاً اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی اکابر نیز حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تعبیرات و تشریحات کے ساتھ ساتھ عقل عام (Common sense) کے ناگزیر تقاضوں سے بھی ممکنہ حد تک مطابقت رکھتی ہو۔ میں نے خود کو ہمیشہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے فکر اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک کا فرد سمجھا ہے، اسی دائرے میں رہتے ہوئے حتی الوسع دینی، علمی اور فکری جدوجہد میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتا چلا آ رہا ہوں اور اسی کو اپنے لیے باعث سعادت و نجات تصور کرتا ہوں۔ بعض مسائل پر میری طالب علمانہ طور پر آزادانہ رائے بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات اس کا اظہار بھی کرتا ہوں، مگر خود میرے نزدیک بھی اس کی حیثیت محض ایک رائے کی ہوتی ہے اور جمہور اہل علم کی اجتماعی رائے کے علی الرغم میں نے نہ کبھی اس پر اصرار کیا ہے اور نہ ہی اس پر عمل ضروری سمجھا ہے، البتہ رائے کا حق ضرور رکھتا ہوں اور بوقت ضرورت اسے استعمال بھی کرتا ہوں۔

لال مسجد کے تنازع اور سانحہ کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ملک میں نفاذ اسلام اور منکرات و فواحش کے سدباب کے لیے جدوجہد کے روایتی اور معروف طریقے کافی ہیں یا افغانستان کی طرح اسے باقاعدہ جہاد کا عنوان دینا اور اسے مسلح احتجاج یا تصادم کی شکل دینا بھی ضروری ہے؟ اب سے پچیس برس قبل افغانستان کو روسی استعمار کی مسلح مداخلت اور معاشرہ میں لادینیت کے فروغ کے سنگین مسئلہ کا سامنا تھا جس کا حل افغان علماء اور عوام نے مسلح جدوجہد کی صورت میں نکالا اور روس مخالف بین الاقوامی حلقوں کے تعاون سے اس میں کامیابی حاصل کر کے ایک مرحلے میں طالبان کی حکومت کے نام سے اسلامی امارت بھی قائم کر لی۔ لیکن اس مرحلے تک ان کے پہنچنے میں بھرپور تعاون کرنے والے بین الاقوامی حلقوں نے اس سے آگے ان کی کسی بھی پیشرفت کو خود اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ان کا راستہ بزور قوت روک دیا اور طاقت کے بل پر انہیں اقتدار سے ہٹا کر ربع صدی قبل کی صورتحال دوبارہ قائم کر دی، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج افغان عوام پر سنگین تانے ہوئے تھیں اور اب ان کی جگہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلح افواج نے لے لی ہے۔

پاکستان میں ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ، نفاذِ اسلام اور منکرات و فواحش کے تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے ہمارے بہت سے دوست اسی تجربے کو دہرانے کے خواہشمند ہیں اور ان نیک مقاصد کے لیے جہاد کا عنوان اور مسلح جدوجہد کا طریق کار اپنانے کے لیے بے چین ہیں۔ ہمارے نزدیک لال مسجد کا یہ معرکہ اسی بے چینی کے اظہار کی ایک ابتدائی شکل ہے۔ ہمیں ان دوستوں کے خلوص، جذبہ ایمانی اور ایثار و قربانی کے عزم میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اس بات کو تسلیم کرنے میں بھی ہم کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے تحفظ، ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ اور منکرات و فواحش سے پاکستانی معاشرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سیاسی عمل، دستوری جدوجہد اور جمہوری ذرائع اب تک پوری طرح کامیاب ثابت نہیں ہو پا رہے جس کے اسباب ایک مستقل بحث کے متقاضی ہیں۔ لیکن کیا اس کے بعد پرامن اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کا راستہ چھوڑ کر مسلح جدوجہد کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے؟

یہ سوال اتنا آسان نہیں ہے کہ اس کا جواب فوری طور پر ہاں میں دے دیا جائے، اس لیے کہ مسلح جدوجہد کے وجوب یا کم از کم جواز کے لیے صرف مذکورہ بالا اسباب و عوامل کافی نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے امور ہیں جن کا نہ صرف حکمت و تدبر بلکہ شرعی اصول و قواعد کے حوالے سے بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ہماری طالب علمانہ رائے میں عالمی حالات کا معروضی تناظر، شریعت اسلامیہ کے مسلمہ قواعد و ضوابط اور حکمت و دانش کے ناگزیر تقاضے موجودہ حالات میں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم پاکستان میں کسی دینی جدوجہد کے لیے ہتھیار اٹھائیں، دستور و قانون کو چیلنج کریں یا معروف تصور کے مطابق جہاد کا عنوان اختیار کر کے مسلح جدوجہد کی کوئی صورت پیدا کریں۔

برطانوی استعمار کے خلاف جنوبی ایشیا کی آزادی کی جدوجہد میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مسلح جدوجہد کے آخری اور پرامن جدوجہد کے پہلے علمبردار تھے۔ ان کی جوانی آزادئ وطن کے لیے مسلح جدوجہد کا تانابانا بنتے ہوئے بسر ہوئی جو تحریک ریشمی رومال کے نام سے تحریک آزادی کا ایک نمایاں باب ہے۔ لیکن انہی شیخ الہند کا بڑھاپا عدم تشدد پر مبنی اور پرامن جدوجہد کی تلقین سے عبارت ہے۔ اس کے بعد سے آزادئ وطن اور دیگر ملی و دینی مقاصد کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن تحریکات کا نقطہ آغاز وہی ہیں اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہم اللہ تعالٰی اور دیگر اکابر کے متعین کردہ اسی راستے اور انہی خطوط پر دینی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہمارے نزدیک شریعت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے۔

لال مسجد کی جدوجہد کے بارے میں راقم الحروف نے جو کچھ لکھا ہے، اسی پس منظر میں لکھا ہے اور ہم پورے شرح صدر کے ساتھ علیٰ وجہ البصیرت اس موقف پر اب بھی قائم ہیں۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے لال مسجد کی جدوجہد اور پھر اس کے المناک سانحہ کے بارے میں میرے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین اور کالموں کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے جس کا پہلا ایڈیشن نکل چکا ہے اور اس کے بعد لکھے جانے والے مزید مضامین کو شامل کر کے اس کا دوسرا ایڈیشن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ مضامین مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں، اس لیے حالات کے اتار چڑھاؤ کے اثرات ان میں بعض مقامات پر قارئین کو محسوس ہوں گے، تاہم مجموعی تاثرات و احساسات اور جذبات و خیالات کا دائرہ چونکہ ایک ہی ہے، اس لیے قارئین کو اس سلسلے میں زیادہ الجھن پیش نہیں آئے گی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین و ملت کے لیے صحیح رخ پر سوچنے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter