مولانا عبد الرحیم اشعرؒ

   
۱۹ جون ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا عبد الرحیم اشعرؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ دس برس سے صاحب فراش تھے ۲۲ مئی ۲۰۰۳ء کو اس جہان فانی سے دار آخرت کی طرف کوچ کر گئے۔ آج کی نسل مولانا عبد الرحیم اشعرؒ سے واقف نہیں کہ وہ اس دور کے آدمی ہی نہیں تھے اس لیے آج کے دور کے لیے انہیں پہچاننا آسان بھی نہیں ہے۔ البتہ دنیائے اسلام اور خاص طور پر پاکستان میں دینی حلقوں کی جو رونق اور چہل پہل دکھائی دے رہی ہے اور دینی مراکز مساجد و مدارس میں جو گہماگہمی نظر آرہی ہے اس کے پیچھے حضرت مولانا عبدا لرحیم اشعرؒ اور ان جیسے سینکڑوں درویش صفت علماء کی طویل جدوجہد کا ایک تسلسل ہے جنہوں نے سادگی، قناعت، اور جفاکشی کے ساتھ اس معاشرے میں دینی تعلیمات کو زندہ رکھنے اور مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کو بچانے کے لیے زندگی بھر محنت کی اور بالآخر دنیاوی زندگی کی آسائشوں اور سہولتوں کو قربان کرتے ہوئے مسلم معاشرہ میں کفر و الحاد اور تشکیک و نفاق کی یلغار کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کا تعلق عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر قادیانیت کا مقابلہ کرنے والے سرفروش قافلے سے تھا جنہوں نے اس دور میں قادیانیت کو سرعام للکارا جب ملک میں فوج اور سول کے بہت سے کلیدی مناصب پر قادیانیوں کا تسلط تھا، قادیانیوں کے عقائد و کردار پر کسی جلسہ یا رسالے میں تنقید جرم تصور ہوتی تھی، قادیانیت کے ساتھ تعلق کے اظہار کو مختلف محکموں میں ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اور برسرعام ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہو جایا کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب قادیانی مناظرین اور تربیت یافتہ نوجوان چند مخصوص مسائل مثلاً اجرائے نبوت، حضرت عیسٰیؑ کی مبینہ وفات، اور امام مہدیؑ کے ظہور کے بارے میں اپنے عقائد کا کھلم کھلا پرچار کرتے تھے۔ وہ اپنے خود ساختہ دلائل اور اہل اسلام کے دلائل کے جوابات کا رٹا لگا کر علمائے کرام کے پاس جا گھستے تھے اور ان مسائل پر ان کی تیاری اور مطالعہ نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو گمراہ کیا کرتے تھے کہ دیکھو ہمارے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

اس دور میں جن علمائے کرام نے قادیانیت کے لٹریچر کو کھنگالا اور قادیانی دجل و فریب کو بے نقاب کرنے کے لیے کتابوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر دلائل اور جوابات کے گراں قدر موتی تلاش کیے ان میں

  1. پہلی صف حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی ہے،
  2. دوسری صف میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا ابراہیمؒ سیالکوٹی، اور حضرت مولانا مرتضیٰ حسن میکشؒ کے نام آتے ہیں،
  3. اور تیسری صف فاتح قادیاں حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی قیادت میں حضرت مولانا لال حسینؒ اختر، حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، حضرت مولانا عبد الرحیم اشعرؒ، اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی پر مشتمل ٹیم میدان عمل میں مصروف کار دکھائی دیتی ہے۔

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ اسی ٹیم کے اہم فرد تھے اور کتابوں تک رسائی، ان کے مطالعہ، اور ضروری حوالے تلاش کرنے میں اس پوری ٹیم کے لیے روح رواں کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب تو یہ طرز ہی ختم ہوگئی ہے اور اس ذوق کا دور دور تک کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔ لے دے کر قادیانیت کے محاذ پر مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا اللہ وسایا نام کے دو بزرگ باقی رہ گئے ہیں جو قادیانیوں کے لٹریچر سے ضروری شناسائی رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کوئی حوالہ پوچھنے یا کسی مشکل سوال کا جواب دریافت کرنے میں ان سے رجوع کیا جا سکتا ہے ورنہ ہر طرف سناٹا ہے اور ہو کا عالم ہے۔

آج کے نوجوان علماء کے لیے مناظروں کے اس دور کو سمجھنا مشکل ہے لیکن ہم نے اس دور کے آخری حصہ کی ایک جھلک دیکھی ہے جب قادیانیوں کی طرف سے قاضی نذیر احمد، جلال الدین شمس، اور ابوالعطاء جالندھری چوٹی کے مناظرین شمار ہوتے تھے۔ وہ مناظرہ اور گفتگو کے فن پر عبور رکھتے تھے، کتابوں اور لٹریچر پر انہیں مکمل دسترس حاصل تھی، اور قادیانیت سے متعلقہ موضوعات پر مکمل تیاری نہ رکھنے والے بڑے بڑے علماء کرام کے لیے ان میں سے کسی کے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہوتا تھا۔ اس دور میں حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا لال حسینؒ اختر، حضرت علامہ خالد محمودؒ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹی مسلمانوں کی طرف سے بڑے مناظر شمار ہوتے تھے جنہوں نے کئی بار قادیانی مناظرین کا سامنا کیا اور میدان مناظرہ میں انہیں شکست فاش دی۔ حضرت مولانا عبد الرحیم اشعرؒ ان میں سے اکثر مواقع پر معاون ہوتے تھے اور کتابوں کی ورق گردانی، حوالوں کی تلاش، اور کسی مشکل میں پھنس جانے پر اپنے مناظر کو عین موقع پر لقمہ دے کر مشکل سے نکالنا ان کا کام ہوتا تھا۔ مناظرہ کے فن سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ یہ کس قدر مشکل کام ہوتا ہے اور اس میں مناظر سے کہیں زیادہ ہوشیاری، موقع شناسی، اور چوکناپن کا ثبوت اس کے معاون کو دینا پڑتا ہے۔ مگر مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کو اپنی پشت پر کتابوں کے انبار کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر مناظر کو مکمل اعتماد ہوتا تھا کہ کوئی حوالہ تلاش کرنے اور کسی سوال کا بروقت جواب دینے میں اب اسے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کو ختم نبوت کی چلتی پھرتی لائبریری کہنابے جا نہ ہوگا۔ وہ کتاب کا مطالعہ اس میں ڈوب کر کرتے تھے، یادداشت اچھی تھی اس لیے کتاب کے مندرجات کو اپنی ترجیحات کے مطابق یاد رکھتے تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ فلاں حوالہ کس کتاب میں ہے، وہ کتاب کس مطبع کی چھپی ہوئی ہے اور کس لائبریری میں مطالعہ کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔ مجھے ان سے نیاز مندی حاصل تھی، جب صحت مند تھے اور سفر کرتے تھے تو گوجرانوالہ بھی تشریف لاتے تھے، دفتر ختم نبوت میں ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، ہر بار کسی نئی کتاب کا نام لیا اور کوئی نیا حوالہ سنایا۔ ملتان کے دفتر ختم نبوت میں بھی متعدد بار حاضری ہوئی اور ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہیں خوش فہمی تھی کہ شاید کتاب کے ساتھ میرا تعلق بھی انہی جیسا ہے اس لیے اس مناسبت سے وہ مجھ پر خاص شفقت فرماتے، کتابوں اور حوالوں کے بارے میں بتاتے اور کبھی مجھ سے پوچھتے کہ فلاں حوالہ کہاں ملے گا؟ کتاب کے ساتھ تعلق سے مجھے انکار نہیں ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ مولانا عبد الرحیم اشعرؒ اور ان جیسے گنے چنے چند دیگر کتاب دوستوں اور کتاب شناسوں کو دیکھتا ہوں تو کتاب کا نام لیتے ہوئے اور اس کے ساتھ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ متعدد بار اتفاق ہوا کہ کوئی ضروری حوالہ نہیں مل رہا، چند ایک دوستوں سے دریافت کرنے پر بھی پتہ نہیں چلا، مگر جب مولانا عبد الرحیم اشعرؒ سے پوچھا تو کسی تامل کے بغیر بتا دیا کہ فلاں کتاب میں ہے اور وہ کتاب فلاں عالم کے پاس ہے یا فلاں لائبریری میں موجود ہے۔

قیام پاکستان کے بعد جب قادیانی امت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان کے زیرسایہ پاکستان کو قادیانی ریاست کا روپ دینے کی مہم شروع کی اور اس کے پہلے مرحلہ کے طور پر بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کی باتیں مرزا بشیر الدین محمود کی زبان پر کھلم کھلا آنے لگیں تو مرد قلندر حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زیرقیادت یہ مورچہ خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے صف بندی کی اور اس کے لیے بڑی محنت کے ساتھ ٹیم تیار کی۔ مولانا عبد الرحیم اشعرؒ بھی حضرت مولانا جالندھریؒ کا خوبصورت انتخاب تھے جنہوں نے اپنے اس عظیم رہنما سے نہ صرف ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے کی تربیت حاصل کی بلکہ قناعت، جفاکشی، سادگی، اور جہد مسلسل کی صفات میں بھی ان سے پوری طرح کسب فیض کیا۔

میں بنیادی طور پر ایک کارکن ہوں اور میرا یہ کرب کوئی کارکن ہی سمجھ سکتا ہے کہ کارکنوں کی کھیپ رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب ہر طرف لیڈروں کا راج ہے اور لیڈری کی اکاس بیل نے اہل حق کے پورے باغ کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس سال مئی کا مہینہ میرے جیسے کارکنوں پر بہت بھاری گزرا کہ پرانے بزرگوں کی کھیپ میں سے حضرت مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کی وفات اور نوجوانوں کی ٹیم میں سے مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا۔ میرے لیے ان دونوں کی جدائی کا کرب یکساں ہے اس لیے کہ دونوں کا کوئی متبادل نظر نہیں آرہا، دونوں مورچے خالی ہوگئے ہیں، اور دونوں کی جدوجہد کا اسلوب اور روایات اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں، حسنات کو قبولیت سے نوازیں، سیاست کے بارے میں درگزر سے کام لیں، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کریں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter