غازی ظہیر الدین بابر ، پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر

   
۶ اگست ۱۹۹۸ء

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اور آج ایک بار پھر ہم میدان جنگ میں ہیں۔ ایٹم بم کے مقابلے میں ایٹم بم اور پرتھوی کے مقابلے میں غوری کھڑا ہے۔ دنیائے کفر کی ہمدردیاں ایک جانب سمٹ رہی ہیں، پاکستان کو معیشت و اقتصاد سمیت ہر شعبہ میں کارنر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، اور کسی کا جی چاہے یا نہ چاہے تاریخ ہمیں اپنی فطری رفتار کے ساتھ پانی پت کی چوتھی اور فیصلہ کن آخری لڑائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وہ غزوۂ ہند جس کا ذکر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے تاریخ کے ایک ناگزیر موڑ کی صورت میں ہمارا منتظر ہے۔ آج بھی اسباب و وسائل کا توازن ہمارے حق میں نہیں اور افرادی قوت میں بھی ہمارا پلڑا بھاری نہیں ہے، لیکن یہ توازن کبھی بھی ہمارے حق میں نہیں رہا، اس وقت بھی ہم اسی طرح تھے جب یہاں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ مگر فطرت کے تقاضوں کو سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ رکھنے والی قیادت موجود تھی اس لیے افرادی قوت اور اسباب و وسائل کی کمی ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔

آئیے مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ’’قصص الہند‘‘ سے مغل سلطنت کے بانی غازی ظہیر الدین بابرؒ کے اس معرکہ کا مختصر حال پڑھ لیں جو مغل سلطنت کا نقطۂ آغاز بنا۔

’’یہاں کے لوگ سمجھتے تھے کہ جس طرح محمود اور تیمور آندھی کی طرح آئے اور بگولے کی طرح چلے گئے اسی طرح بابر بھی چلا جائے گا۔ جب اس کا جماؤ دیکھا تو اودھے پور کا رانا جس کے خاندان میں صد ہا سال سے راج چلا آرہا تھا اس نے بہت سے ہندو مسلمان سرداروں کو سمیٹ کر لاکھ آدمی کا جتھا جمع کیا کہ اس ترک بچے کو مار کر نکال دو۔ بابر نے رفیقوں کو بلا کر گفتگو کی تو پہلی تجویز یہ ٹھہری کہ جو یہاں کے لوگ فوج میں شامل ہوئے ہیں انہیں اضلاع میں بھیج دینا چاہیے تاکہ میدان میں عین وقت پر دغا نہ کریں۔ اس کے بعد سرداروں نے کہا کہ اپنی کمی اور غنیم کی زیادتی ظاہر ہے اس لیے مناسب ہے کہ آپ پنجاب میں جا کر عنایت الٰہی کے منتظر رہیں جبکہ جانثار میدان گرم کریں۔ اگر فتح پائی تو حضور دولت و اقبال کو رکاب میں لے کر تشریف لائیں، اگر ہم شہادت سے سرخرو ہوئے تو پنجاب سے کابل تک کا ملک حضور کو مبارک رہے۔

مگر اس ہمت والے نے کہا کہ اے میرے رفیقو! جو فتح تم نے کی ہے اس کی عالم میں دھوم مچ گئی ہے۔ مگر اس حرکت کو سن کر ملک ملک کے بادشاہ یہی کہیں گے کہ اتنا بڑا ملک لے کر یہ خزانے اور جواہرات مارے لیکن جب تلوار مارلانے کا وقت آیا تو سرداروں کو آگے رکھ کر آپ سرک گیا۔ تیمور و چنگیز کے نام پر داغ لگانے سے مر جانا ہزار درجہ بہتر ہے۔ خیر اب جو تمہارا حال سو میرا حال۔ یہ سن کر تمام سرداروں نے دعا کی اور فوج مع توپ خانے کے روانہ ہوئی۔ فتح پور سیکری کے پاس یہ چرچا لگا کہ دشمن بھی بڑھا چلا آتا ہے اور ہراول کی ٹکر ہوئی۔ بادشاہ یہ خبر سنتے ہی خود باگیں اٹھانا چاہتا تھا جو خبر آئی کہ میدان اپنے ہاتھ رہا۔

غرض جس ڈھنگ سے ابراہیم کی لڑائی میں لشکر اترا تھا اسی طرح یہاں اتارا۔ مگر شام کو جب فوج کی موجودات لی تو معلوم ہوا کہ سپاہ کے دل بجھے ہوئے ہیں۔ اسی وقت سرداروں کو میدان میں بلایا اور ایک پر تاثیر تقریر اس ادا سے کی کہ اے غریب الوطن بادشاہ کے فقیرو! تم دیکھتے ہو کہ ہم کون ہیں اور کہاں کھڑے ہیں۔ برسوں محنت کی، مدتوں مصیبت سہی، اپنی جان خطروں میں ڈالی، پیارے رفیقوں کی جانیں دیں تب جا کر نامور دشمنوں کو زیر کیا اور وہ ملک تم نے لیا کہ روئے زمین کے سلاطین اس کی آرزو کرتے ہیں۔ بہادرو! دیکھتا ہوں کہ تمہارے دل گھٹے جاتے ہیں، ہاں تم جانتے ہو کہ جمعیت کے گھٹنے کا مضائقہ نہیں مگر دلوں کا گھٹنا غضب ہے۔ خدا نہ کرے کہ ذرا بھی ہوا پلٹے پھر زمین آسمان میں ٹھکانہ نہیں۔ دیکھو تیموری تلوار جس نے یہاں پہنچایا وہ تمہارے ہاتھ میں ہے، پھر خطرہ کس بات میں ہے؟ ہاں وہ بات نہ ہو بے وفائی سے روسیاہی کے دفتر میں نام لکھا جائے اور ہڈیاں سب کی یہاں خاک ہوں۔ دیکھو آخر مرنا، اول مرنا، پھر مرنے سے کیا ڈرنا۔ مگر تلوار مار کر مرنا ہزار زندگی سے بہتر ہے۔ جینا انہی لوگوں کا ہے جو آقا کے نمک اور بازوؤں کے زور پر لڑتے ہیں اور مردوں کے دفتر میں نام لکھا کر خدا کے سامنے سرخرو گئے۔ لو اب یہ قرآن شریف تمہارے سامنے ہے تم جانو اور یہ جانے۔

قرآن کو دیکھتے ہی سب نے سر جھکا دیے، چہرے سرخ ہوگئے اور بہتوں کے آنسو نکل پڑے۔ دوڑ دوڑ کر اس پر سر رکھ دیے اور ہاتھ رکھ کر کہا کہ جب تک دم میں دم ہے جو بادشاہ سے پھرے خدا اور کلام خدا سے پھرے۔ غرض سب کے دل قوی ہوگئے اور سبھی خوشی خوشی اپنے اپنے خیموں میں آگئے۔ نیا نقطہ یہ نکالا کہ شراب انگوری خاص کابل سے منگائی تھی دو دن پہلے پہنچی تھی، بلکہ ہمایوں جسے شراب سے نفرت تھی اسے بڑی منتوں سے پلائی تھی۔ اس موقع پر منت مانی کہ شراب سے توبہ کی اور سونے چاندی کے باسن تڑوا کر نام خدا دیے۔ چند ترکی شعر توبہ کے مضمون میں کہے اور آگرے میں بجائے شراب خانہ کے تعمیر مسجد کا حکم بھیج دیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے کل محصولات معاف کر کے تمام گناہوں سے یہاں تک داڑھی منڈانے سے بھی توبہ کی۔ مگر شیطان نے ایک شوشہ چھوڑا یعنی وطن سے کوئی نحوست زدہ نجومی پہنچا اس نے لشکر میں ہل چل ڈال دی کہ اس لڑائی میں شکست ہوگی۔ لوگ تو بہت گبھرائے مگر بادشاہ نے کوئی پرواہ نہ کی اور صبح دم ابھی مشرق سے آفتاب بلند نہ ہوا تھا کہ اس نے پھریرا علم کا میدان میں کھول دیا۔ پہلے توپوں کے منہ سے بسم اللہ ہوئی، سامنا سامنے قائم رہا، اور ترک غول کے غول جدا ہو کر چاروں طرف سے گرنے لگے۔ غنیم نے بھی مردانگی کی داد دی مگر دوپہر سے اس کا طور بے طور ہونے لگا۔ بابر نے دفعتاً نقارہ فتح بجا کر ایسا حملہ کیا کہ سب کے قدم اکھڑ گئے، دور تک بھاگتوں کا پیچھا کیا، شام کو پھرے اور غنیم کی خیمہ گاہ اور لشکر کے بازاروں کو دیکھتے ہوئے رات کو اپنے ڈیروں میں پہنچے۔

ہوا خواہ آتے تھے اور مبارک بادیں دیتے تھے۔ آغا نجومی بھی شرمندہ صورت نظر آئے، بابر نے بہت سی گالیاں دیں مگر چونکہ نمک خوار قدیمی تھا جس کے لیے لاکھ ٹنکہ دے کر حکم دیا کہ ابھی لشکر سے نکل جاؤ۔ ‘‘

یہ واقعہ پڑھ کر آپ نے بھی اپنے ذہن میں کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور اخذ کیا ہوگا لیکن میں تو چشم تصور سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی سیڑھیوں پر غازی ظہیر الدین بابر کو کھڑا چیخ و پکار کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جو چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ

’’سلطنت مغلیہ کی بچی کھچی نشانی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانو! وقت تمہارے انتظار میں ہے اور تاریخ سانس روکے کھڑی ہے۔ قوم کی بقا و تحفظ کے لیے خود بڑھو۔ غیرت و حمیت کا پرچم تھام لو۔ مصلحت و بزدلی کے لبادے اتار پھینکو۔ آرام طلبی اور عیش پرستی سے توبہ کر کے عیاشی کے اسباب تقسیم کر ڈالو۔ گناہوں سے توبہ کرو۔ قرآن کریم سے رشتہ جوڑ لو۔ قوم کو ٹیکسوں کی بھرمار سے نجات دلا دو۔ سادگی اور قناعت کے ساتھ چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا سیکھو۔ شراب خانوں کی بجائے مسجدوں کا رخ کرو۔ داڑھی کی سنت کو پھر سے تازہ کرو۔ اور نحوست زدہ جھوٹے مشیروں سے پیچھا چھڑاؤ۔ پھر دیکھو فتح و کامرانی کس طرح تمہارے قدم چومتی ہے اور نصرت خداوندی کے فرشتے کس طرح گردوں قطار اندر قطار تمہاری رفاقت کے لیے اترتے ہیں۔‘‘

   
2016ء سے
Flag Counter