مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

   
۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے بارے میں یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی کہ انہوں نے زندگی کے چند برس ترکی میں گزارے ہیں اور وہ ترکی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ ان سے منسوب یہ بات بھی بعض اخبارات نے شائع کی ہے کہ ان کے آئیڈیل مصطفیٰ کمال اتاترک ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ترکی کے قومی رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دیے جانے پر بعض مذہبی رہنماؤں نے ردعمل کا بھی اظہار کیا ہے اور اسے ان کے ذہنی رجحانات کا آئینہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ معلوم نہیں کہ جنرل صاحب نے یہ بات کہی ہے یا نہیں، اگر کہی ہے تو کس پس منظر میں کہی ہے؟ اس کے بارے میں جنرل صاحب موصوف کی طرف سے کوئی وضاحت نہ بھی آئی تو ان کی پالیسیوں سے ظاہر ہو جائے گا کہ ان کے ذہن میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی شخصیت کا خاکہ کیا ہے اور وہ ترکی کے قومی لیڈر کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

تاہم ہماری نئی نسل کی اکثریت چونکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے بارے میں معلومات نہیں رکھتی اس لیے مختلف معلومات و مضامین بالخصوص پنجاب یونیورسٹی کے شائع کردہ ’’دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ (اسلامی انسائیکلو پیڈیا) میں شامل مصطفیٰ کمال اتاترک کی شخصیت اور خدمات پر طویل مقالہ کو سامنے رکھتے ہوئے چند تعارفی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور اس کے جداگانہ تشخص کو دنیا کے نقشے پر نمایاں کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے انہیں اتاترک کا خطاب ملا اور وہ تاریخ میں ترک قوم کے ہیرو کی شکل اختیار کر گئے۔

دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق مصطفیٰ کمال ۱۸۸۱ء میں کاسلونیکا میں پیدا ہوئے، ۱۸۸۶ء میں والد کا انتقال ہوگیا، اور تعلیم و تربیت کا دور والدہ اور ننھیال کی سرپرستی میں بسر کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۸۹۵ء میں ناستر کے فوجی کالج میں داخلہ لیا، ۱۸۹۹ء میں استنبول کے مدرسہ حربیہ میں اور ۱۹۰۲ء میں فوجی اکیڈمی میں داخل ہوئے۔ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزر کر ۱۹۰۵ء میں سیکنڈ لفٹیننٹ کے طور پر فوجی خدمات کا آغاز کر دیا۔

یہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کی خلافت کا دور تھا جب یورپ کے صنعتی اور فکری و ثقافتی انقلاب سے متاثر ہو کر ترکی میں ترک قومیت کے رجحانات کے ساتھ ساتھ جمہوری طرز زندگی اختیار کرنے کا ذوق بھی ابھر رہا تھا۔ اور خلافت عثمانیہ کے نظام کو، جس نے سیاسی طور پر خاندانی بادشاہت کی حیثیت اختیار کر لی تھی، جمہوری اصولوں کے دائرہ میں لانے اور کسی باضابطہ دستور کا پابند بنانے کے لیے مختلف اطراف سے کوششیں ہو رہی تھیں۔ ان کوششوں میں ایسے افراد اور حلقے بھی شریک تھے جو خلوص دل سے یہ چاہتے تھے کہ خلافت کا نظام خاندانی بادشاہت کے دائرہ سے نکل کر ایک باضابطہ دستوری نظام کی حیثیت اختیار کرلے تاکہ وہ زیادہ استحکام اور اعتماد کے ساتھ عالم اسلام کی قیادت کر سکے۔ جبکہ ایسے افراد و گروہ بھی اس میں سرگرم تھے جو ان قومی رجحانات کی آڑ میں یورپ کے سیاسی فلسفہ و ثقافتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ترکی میں کارفرما دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ چنانچہ اس ماحول میں مصطفیٰ کمال نے فوجی خدمات کے آغاز میں ہی ’’جمعیۃ وطن و حریت‘‘ کے نام سے ایک خفیہ تنظیم قائم کر لی اور ہم خیال فوجی افسروں کے ساتھ رابطے شروع کر دیے جو آگے چل کر ’’انجمن اتحاد و ترقی‘‘ کے نام سے ایک مضبوط سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کر گئی اور خلافت کو جمہوریت میں تبدیل کرنے میں سب سے اہم کردار اسی پارٹی نے ادا کیا۔ مصطفیٰ کمال کو اس مہم میں دیگر دو افسروں عصمت پاشا اور انور پاشا کی حمایت حاصل تھی۔ مگر آگے چل کر انور پاشا ان کے ساتھ نہ رہے جبکہ عصمت پاشا نے یہ رفاقت آخر دم تک نبھائی حتیٰ کہ جب ۱۹۲۴ء میں جمہوریہ ترکیہ کا اعلان ہوا تو اس کے صدر مصطفیٰ کمال اتاترک اور وزیراعظم عصمت پاشا بنے جو اب عصمت انونو کا لقب اختیار کر چکے تھے۔

مصطفیٰ کمال رفتہ رفتہ افواج کے کمانڈر انچیف کے منصب تک پہنچے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی درپردہ سیاسی جدوجہد بھی جاری رہی۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر جنگی خدمات سرانجام دیں اور ایک کامیاب جرنیل اور مدبر کے طور پر ان کا تعارف نمایاں ہوتا گیا۔ انہوں نے خلافت عثمانیہ کے مرکز استنبول کی بجائے انقرہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور پورے استقلال کے ساتھ اپنے مشن میں سرگرم رہے۔

پہلی عالمی جنگ میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے اثرات اس پر بھی پڑے اور یورپی قوتوں نے شکست خوردہ ممالک کے حصے بخرے کیے تو اسی بندر بانٹ میں استنبول پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الوحید تھے، مصطفیٰ کمال نے قابض متحدہ فوجوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور یورپی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ ان کی فوجیں ترکی کی حدود سے باہر نکل جائیں اور ترکی کی خودمختاری اور وحدت و آزادی کو تسلیم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مصطفیٰ کمال نے یونان کے ساتھ دوبدو جنگ بھی لڑی اور اس مہارت کے ساتھ ترک فوجوں کی کمان کی کہ یونانی فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یوں مصطفیٰ کمال اتاترک قوم کے نجات دہندہ اور آزادی کی علامت کے طور پر ترک قوم کے ہیرو بن گئے۔

اس دوران نومبر ۱۹۲۲ء میں ترکی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے یورپی ملکوں کی کانفرنس ہوئی جس میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی طرف سے عصمت انونو نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں برطانوی وفد کے لیڈر لارڈ کرزن نے ترکی کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کرنے کے لیے چار شرائط پیش کیں۔

  1. خلافت کے نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
  2. خلیفہ کو ملک بدر کر دیا جائے۔
  3. خلیفہ کے تمام اموال قومی تحویل میں لیے جائیں۔
  4. ترکی کے سیکولر ریاست ہونے کا اعلان کیا جائے۔

اس وقت عصمت انونو ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کانفرنس سے واپس آگئے مگر بعد میں ترکی کی نئی قومی لیڈرشپ نے ان تمام شرائط کو تسلیم کر لیا۔ چنانچہ تین مارچ ۱۹۲۴ء کو خلافت کا نظام ختم کر کے خلیفہ کے خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا اور جمہوریہ ترکیہ کے قیام کا اعلان کر کے اسے سیکولر ریاست بنانے کے لیے جو اہم اقدامات کیے گئے وہ درج ذیل ہیں:

  1. دستور سے سرکاری مذہب اسلام کی شق خارج کر دی گئی۔
  2. ملک بھر میں دینی مدارس اور خانقاہوں پر پابندگی لگا کر مذہبی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔
  3. عورتوں کو تمام معاملات میں مردوں کے مساوی قرار دے کر پردہ کو قانوناً جرم قرار دے دیا گیا۔
  4. یورپی لباس پہننا اور ننگے سر رہنا ضروری قرار دے دیا گیا۔
  5. پیری مریدی ممنوع قرار دی گئی اور مزاروں پر جانے اور دعائیں مانگنے پر پابندی لگا دی گئی۔
  6. ہجری تقویم ختم کر کے شمسی کیلنڈر رائج کر دیا گیا۔
  7. جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔
  8. عربی زبان میں قرآن کریم کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی اور ترکی زبان کا عربی رسم الخط منسوخ کر کے رومن رسم الخط اختیار کر لیا گیا۔
  9. نماز، دعا اور قرآن کریم کی تلاوت ترکی زبان میں لازمی قرار دے دی گئی۔

مصطفیٰ کمال اتاترک نے پیپلز پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت ۱۹۲۳ء میں قائم کر لی تھی جس کے ذریعے وہ اقتدار میں آئے اور ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو جمہوریہ ترکیہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے جدید ترکی کے راہنما اور حکمران کی حیثیت سے پندرہ برس تک حکومت کی اور ۱۰ نومبر ۱۹۳۸ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

   
2016ء سے
Flag Counter