دینی نظامِ تعلیم ۔ اصلاحِ احوال کی ضرورت اور حکمتِ عملی

   
۸ اگست ۲۰۰۰ء

(یہ مقالہ اگست ۲۰۰۰ء کے دوران انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے سیمینار میں پڑھا گیا۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دینی مدارس کے حوالہ سے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی مجلس مذاکرہ میں منتخب ارباب علم و دانش کے ساتھ ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہماری اس ملاقات و گفتگو کو دین و ملت کے لیے افادیت کا حامل بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جن دینی مدارس کے بارے میں آج ہم بحث و گفتگو کر رہے ہیں وہ اس وقت عالمی سطح کے ان اہم موضوعات میں سے ہیں جن پر علم و دانش اور میڈیا کے اعلیٰ حلقوں میں مسلسل مباحثہ جاری ہے۔ مغرب اور عالم اسلام کے درمیان تیزی سے آگے بڑھنے والی تہذیبی کشمکش میں یہ مدارس اسلامی تہذیب و ثقافت اور علوم و روایات کے ایسے مراکز اور سرچشموں کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں جو مغربی تہذیب و ثقافت کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت اور ایڈجسٹمنٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مدارس ملت اسلامیہ کے ایک بڑے اور مؤثر حصے کو اس بے لچک رویہ اور غیر مصالحانہ طرز عمل پر قائم رکھنے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف طبقات اور اداروں میں یہی ادارہ مغرب کی تنقید اور کردارکشی کی مہم کا مرکزی ہدف قرار پایا ہے اور گلوبل سولائزیشن وار میں اس ادارہ کو امت مسلمہ کے سپرانداز ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے اسے راستہ سے ہٹانے کے مختلف منصوبے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ اسی کا ردعمل ہے کہ دینی مدارس خود کو حالت جنگ میں سمجھتے ہوئے اپنی موجودہ صف بندی میں کسی قسم کے رد و بدل پر آمادہ نہیں ہیں اور ان کے نظام و نصاب میں ترمیم و تبدیلی کی کوئی بھی تجویز ان کے ذہنوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دینی مدارس کے نظام و نصاب میں اصلاح احوال کے حوالہ سے بھی کوئی بات کہتے ہوئے ان کی اس مجبوری کو سامنے رکھنا ہوگا اور ان تحفظات کا لحاظ کرنا ہوگا جن کے باعث دینی مدارس کے ارباب حل و عقد خود کو اردگرد کے ماحول سے بیگانہ رکھنے اور منہ کان لپیٹ کر اس فضا سے گزر جانے پر مجبور پا رہے ہیں۔ اس لیے اپنی گزارشات کو آگے بڑھانے سے قبل دینی مدارس کے تحفظات میں سے دو اہم امور کا تذکرہ اس مرحلہ پر ضروری خیال کرتا ہوں۔

  1. دینی مدارس یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرہ میں عام مسلمان کا تعلق دین کے ساتھ قائم رکھنے، دینی علوم کی ترویج و اشاعت، اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے ان کے مسلمہ کردار کی اثر خیزی کی اصل وجہ ان کا آزادانہ کردار اور انتظامی و مالی خودمختاری ہے جسے وہ عام مسلمانوں کے رضاکارانہ تعاون کے ذریعہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ سرکاری اور ریاستی اداروں کو کسی بھی درجہ میں دینی مدارس کے نظام میں دخل اندازی کا موقع دیا گیا تو وہ اپنے اس کردار یا کم از کم اس کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گے۔
  2. دینی مدارس کے ارباب حل و عقد یہ سمجھتے ہیں کہ ان مدارس کے قیام و وجود کا سب سے اہم مقصد معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کے ادارہ کو قائم رکھنا اور اسے رجال کار فراہم کرتے رہنا ہے جو کہیں اور سے فراہم نہیں ہو رہے۔ اس لیے وہ اپنے نصاب کو اسی دائرہ میں محدود رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دینی مدارس سے تیار ہونے والی کھیپ صرف ان کی اپنی ضروریات میں کھپتی رہے اور اس شعبہ سے افرادی قوت کا انخلا اس انداز سے نہ ہو کہ معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا بنیادی ادارہ ضرورت کے افراد کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہونے لگے۔ ہمارے نزدیک ان دینی مدارس میں جدید سائنسی علوم کے داخلہ کا دروازہ بند رکھنے کی بنیادی وجہ یہی چلی آرہی ہے کہ جدید علوم اور مروجہ فنون سے آراستہ ہونے کے بعد کسی فاضل کو مسجد و مدرسہ کے ماحول میں محدود رکھنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ مسجد و مدرسہ کے نظام کو باقی رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد خود کو دوسرے تمام کاموں سے فارغ کر کے اسی کام کے لیے وقف کر دے۔

چنانچہ اب تک کا تجربہ و مشاہدہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کی یہی حکمت عملی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں اب تک دینی حمیت و وابستگی کو باقی رکھنے بلکہ اسے پوری دنیائے اسلام میں امتیازی حیثیت پر فائز کرنے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے اور اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے ’’سب اچھا‘‘ کہہ کر ہمیں خاموش ہو جانا چاہیے۔ بلکہ دینی مدارس کے اس نظام و نصاب میں اصلاح کی ضرورت خود ان دینی مدارس کے سنجیدہ اکابر ایک عرصہ سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے۔ لیکن عملاً یوں ہوتا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے ان کی مخلصانہ آواز کو جب کچھ دوسرے حلقے ’’کیچ‘‘ کر کے اس کی آڑ میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ آواز بھی وقتی طور پر مصلحت کے تحت دب جاتی ہے اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔

اس پس منظر میں دینی مدارس کے نظام تعلیم میں اصلاح احوال کی ضرورت اور حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں دینی مدارس کے تحفظات اور ان کے ارباب حل و عقد کے ذہنوں میں موجود خطرات و خدشات کو پوری طرح ملحوظ رکھنا ہوگا۔ چنانچہ اسی مجموعی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات میں دینی مدارس کے نظام و نصاب میں جن اصلاحات، ترامیم اور اضافوں کی ضرورت عام طور پر محسوس کی جا رہی ہے انہیں اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

  1. دینی مدارس میں مروجہ زبانوں پر اس درجہ کے عبور کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی کہ ایک فارغ التحصیل عالم دین کسی مسئلہ پر اپنا مافی الضمیر انگلش، عربی یا کم از کم اردو میں ہی شستہ انداز میں قلم بند کر سکے یا اس کا زبانی طور پر کسی علمی محفل میں سلیقہ کے ساتھ اظہار کر سکے۔ اس لیے دینی مدارس میں ایسا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے کہ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں تحریری اور تقریری طور پر مافی الضمیر کے اظہار پر فضلاء کو دسترس حاصل ہو اور انگلش بھی کم از کم اس درجہ میں لازمی ہے کہ لکھی ہوئی چیز پڑھ اور سمجھ کر وہ اس کے بارے میں اپنی زبان میں اظہار خیال کر سکیں۔
  2. درس نظامی کے مروجہ نصاب میں تاریخ بالخصوص عالم اسلام کی تاریخ کے بارے میں قابل ذکر مواد موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک فارغ التحصیل عالم دین عام طور پر تاریخی تسلسل اور اہم واقعات کی ترتیب تک سے بے خبر رہ جاتا ہے اور یہ بات خود دینی رہنمائی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
  3. دوسرے ادیان و مذاہب، معاصر فلسفہ ہائے حیات اور نظام ہائے زندگی کا تقابلی مطالعہ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے پس منظر اور مرحلہ وار پیش قدمی سے بھی علماء کا باخبر ہونا لازمی ہے۔ ورنہ موجودہ عالمی تناظر میں اسلام کی صحیح ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینا ممکن ہی نہیں ہے۔
  4. ملت اسلامیہ کے اندرونی فقہی مذاہب اور مسالک کی تاریخ اور جدوجہد کے ادوار سے واقفیت بھی ایک عالم دین کے لیے ناگزیر ہے لیکن مناظرانہ انداز میں نہیں بلکہ تعارف اور بریفنگ کے انداز میں۔ تاکہ اصل تقابلی تناظر سامنے رہے اور اپنے فقہی مذہب اور مسلک کی خدمت کرتے ہوئے بھی شعور و ادراک کے ساتھ ایک عالم دین کا رشتہ استوار رہے۔
  5. دینی مدارس میں اس وقت مختلف علوم و فنون میں جو کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں وہ بہت مفید اور ضروری ہیں۔ لیکن ان کتابوں کے لکھے جانے کے بعد کی صدیوں میں علوم و فنون میں جو نئی تحقیقات ہوئی ہیں اور ہر علم میں نئے نئے شعبوں اور ابواب کا اضافہ ہوا ہے ان سے علماء کرام کو لاتعلق رکھنا ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انہی علوم و فنون میں نئی لکھی جانے والی مفید کتابوں کا انتخاب کیا جائے اور انہیں بھی شامل نصاب کیا جائے۔
  6. ہمارے ہاں درس نظامی میں عام طور پر کتاب کی تعلیم دی جاتی ہے جس سے طالب علم میں استعداد تو پیدا ہوتی ہے اور اس کی مطالعہ و استنباط کی صلاحیت میں اضافہ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی نظر متعلقہ علم و فن کے وسیع تر تناظر اور افق کی بجائے کتاب کے دائرہ میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے جبکہ علم و فن کے تمام پہلوؤں سے اس کی شناسائی نہیں ہوتی۔ اس لیے طریق تدریس میں اتنی تبدیلی ضروری ہے کہ کسی علم یا فن کی ضروری کتابوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس علم و فن کے تعارف، تاریخ، ضروری مباحث اور جدید معلومات پر محاضرات کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ طلبہ اپنے اساتذہ کے علوم و مطالعہ سے زیادہ بہتر انداز میں فیضیاب ہو سکیں اور علوم و فنون کی فطری پیشرفت کے ساتھ ان کا تعلق قائم رہے۔
  7. ہمارے ہاں نظری، فقہی اور فروعی مباحث میں ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کے احترام اور برداشت کا معاملہ خاصا ناگفتہ بہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ خالصتاً فروعی حتیٰ کہ اولیٰ غیر اولیٰ کے جزوی اختلافات بھی بحث و مباحثہ میں اس قدر شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ کفر و اسلام میں معرکہ آرائی کا تاثر ابھرنے لگتا ہے۔ یہ صورتحال بہت زیادہ توجہ کی طالب ہے اور دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کو اس سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کی ضرورت محسوس کرنی چاہیے۔
  8. ہمارے ہاں درس نظامی میں اساتذہ کی تربیت کا کوئی نظام و نصاب موجود نہیں ہے۔ حالانکہ تمام نظام ہائے تعلیم میں اس کی ضرورت و افادیت مسلم ہے مگر درس نظامی کے مدارس میں عملاً یہ ہوتا ہے کہ اچھی استعداد اور ذوق رکھنے والا فاضل کسی نہ کسی مدرسہ میں تدریس کی جگہ حاصل کر لیتا ہے مگر اس کے بعد طلبہ کی ذہن سازی، تربیت اور ان کی فکری ترجیحات کے تعین میں وہ کسی اصول، ضابطہ و قانون اور متعین اہداف کا پابند نہیں ہوتا بلکہ یہ معاملات خالصتاً اس کے ذاتی ذوق اور رجحانات پر منحصر ہوتے ہیں جس کے اثرات لازماً طلبہ پر بھی پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی سطح پر اساتذہ کی تربیت کے کورس طے کیے جائیں اور بتدریج اس سلسلہ کو اس طرح آگے بڑھایا جائے کہ کسی مدرسہ میں تدریس کا منصب حاصل کرنے کے لیے یہ کورس شرط سمجھا جانے لگے۔
  9. قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام حیات کو ایک مستقل مضمون اور باضابطہ نصاب کے طور پر پڑھایا جائے اور اسلامی احکام و قوانین پر فکر جدید کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات اور شبہات و شکوک کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کو شعوری طور پر اسلامی نظام کی ترجمانی اور نفاذ کے لیے تیار کیا جائے۔
  10. ابلاغ عامہ کے تمام میسر ذرائع مثلاً پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور کمپیوٹر و انٹرنیٹ کے ساتھ دینی مدارس کے طلبہ و فضلاء کی اس درجہ کی شناسائی اور مہارت ضروری ہے کہ وہ ان کے استعمال کی صلاحیت سے بہہرہ ور ہوں اور ان ذرائع سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے کام کی نوعیت اور دائرہ کار کا ادراک کرتے ہوئے اس کے توڑ کے لیے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کر سکیں۔
  11. درس نظامی کے نصاب کی اس انداز میں درجہ بندی ہونی چاہیے کہ تمام طلبہ کے لیے قرآن و حدیث فقہ اور عربی گرامر کی یکساں ضرورت کی ایک حد متعین کر کے اس کے بعد طلبہ کی جداگانہ صلاحیتوں اور ذوق کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف علوم و فنون میں گروپ بندی کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہر طالب علم اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکے۔
  12. دینی مدارس کو اپنے اردگرد رہنے والے عام شہریوں بالخصوص سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے لیے بھی مناسب اوقات میں مختصر کورسز کا اہتمام کرنا چاہیے جن کے ذریعے وہ ضروری عربی گرامر کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ اور ضروریات زندگی کے حوالہ سے حدیث و فقہ کا منتخب نصاب پڑھ سکیں۔
  13. دینی مدارس کے وفاقوں یا بڑے دینی مدارس کی سطح پر باصلاحیت اور ذہین فضلاء درس نظامی کے لیے تخصص کے ایسے کورسز کا اہتمام ضروری ہے جن کے ذریعہ انہیں مروجہ بین الاقوامی زبانوں مثلاً عربی، انگلش، فرنچ اور فارسی وغیرہ میں تحریر و گفتگو کی مہارت حاصل ہو۔ موجودہ عالمی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت، ترجمانی اور دفاع کے لیے تیار کیا جائے اور ان میں بریفنگ، لابنگ اور دفتری کام کی جدید ترین تکنیک کو سمجھنے اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جائے۔
  14. طلبہ میں تحریر و تقریر اور مطالعہ و تحقیق کا ذوق بیدار کرنے کے لیے وفاقوں اور مدارس کی سطح پر خطابت اور مضمون نویسی کے انعامی مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔

یہ تو ان ضروریات اور تقاضوں کی ایک سرسری فہرست ہے جو مروجہ حالات میں دینی مدارس کے روایتی کردار کو زیادہ مؤثر بنانے اور انہیں اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف و مقاصد سے قریب تر کرنے کے لیے ضروری سمجھے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے دینی مدارس اور ان کے وفاقوں کے ارباب حل و عقد کو آمادہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے؟ اس ضمن میں چند عملی تجاویز پیش کر رہا ہوں۔

  • مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ اصحاب علم و دانش کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو دینی مدارس کے مختلف وفاقوں کے ذمہ دار حضرات سے رابطہ قائم کر کے ان سے اس سلسلہ میں تبادلۂ خیال کرے۔
  • مختلف شہروں میں اس مقصد کے لیے خالص علمی اور فکری انداز میں مجالس مذاکرہ کا انعقاد عمل میں لایا جائے جن میں دینی مدارس کے سینیئر اساتذہ کو بھی اظہار خیال کی دعوت دی جائے۔
  • مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے الگ الگ وفاقوں کی جداگانہ حیثیت کا احترام کرتے ہوئے ان کے مابین رابطہ کار کے لیے ایک مشترکہ وفاق یا کم از کم مشاورتی بورڈ کے باضابطہ قیام کی کوشش کی جائے۔
  • بڑے دینی مدارس اور وفاقوں سے گزارش کی جائے کہ وہ دینی مدارس ہی کے پرانے اور تجربہ کار اساتذہ کے مذاکروں کا اہتمام کریں اور دینی مدارس کے نظام و نصاب کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان سے تجاویز لے کر ان کی روشنی میں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر نظر ثانی کا اہتمام کریں۔

مجھے امید ہے کہ اگر اس انداز سے سنجیدگی کے ساتھ کام کا آغاز ہو جائے تو ہم دینی مدارس کو ریاستی اداروں کی مداخلت کے خطرات اور بنیادی مقاصد سے انحراف کے خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے انہیں ان ضروری اصلاحات و ترامیم کے لیے تیار کر سکیں گے جو تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے لیے دینی مدارس کے نظام و نصاب کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

میں آپ سب حضرات کی طویل سمع خراشی پر معذرت خواہ ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان امور پر آپ جیسے ارباب علم و دانش کی گراں قدر آراء و تجاویز دینی مدارس کے مقاصد، مستقبل اور پہلے سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے یقیناً مفید اور بارآور ثابت ہوں گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter