دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے نام ایک اہم خط
محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی جدوجہد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اسلام کے نام پر سرگرمیوں سے روکنے، توہین رسالتؐ پر موت کی سزا اور دیگر نافذ شدہ بعض اسلامی قوانین کے حوالہ سے اس وقت عالمی سطح پر جو کشمکش جاری ہے اس کے بارے میں دو اہم خبریں پیش خدمت ہیں جو تازہ ترین صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں رائے عامہ کی راہنمائی فرمائیں اور اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام دشمنی ۔ یہود و نصارٰی میں قدرِ مشترک
امریکی سینٹ نے ملائیشیا کے لیے بارہ لاکھ ڈالر کی فوجی امداد کو مبینہ مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اور یہودیوں پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی تنقید کو ہدف اعتراض بناتے ہوئے امریکی قیادت نے کہا ہے کہ فوجی امداد کے حصول کے لیے مہاتیر محمد کو اس تنقید پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ دوسری طرف ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یہودیوں کے بارے میں جو یہ بات کہی تھی کہ دنیا پر دراصل چند مٹھی بھر یہودی حکومت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا جالندھری پر اکابر کا اعتماد
مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی مبینہ الزامات و اعتراضات سے برأت اور اکابر کی طرف سے ان پر اعتماد کے اظہار سے ملک بھر کے سنجیدہ علمی، مسلکی اور دینی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ وہ مہم دم توڑ گئی ہے جو قاری صاحب محترم کے خلاف نہیں بلکہ وفاق المدارس کے خلاف تھی اور اس کی ڈوریاں خداجانے کہاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک بھر کے دیوبندی حلقوں، مراکز، مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کی وحدت و مرکزیت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
اسلامی علوم کے ان شعبوں میں علمی و فکری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ جو بات خوشی اور اطمینان کا باعث بن رہی ہے، یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فضلاء میں میل جول بڑھ رہا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے اور ان کا اہتمام کرنے والے اساتذہ و طلبہ میں دونوں طرف کے فضلاء شریک ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز میں دینی مدارس کے فضلاء کی تعداد روز افزوں ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ و فضلاء کی دلچسپی اس میں مسلسل بڑھ رہی ہے جو ہمارے پرانے خواب کی تعبیر ہے کہ قدیم و جدید علوم کے ماہرین یکجا بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حکیم محمد سعید شہیدؒ
خدا غارت کرے ان سفاک قاتلوں کو جنہوں نے اس شریف النفس انسان کے خون سے ہاتھ رنگے، اور قہر نازل کرے ان منصوبہ سازوں پر جو علم و اخلاق کے اس سفیر کے قتل کی شرمناک سازش کے مرتکب ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حکیم صاحب کے ساتھ میرا براہ راست تعارف نہیں تھا اور کوئی ایسی مجلس یاد نہیں جس میں ان سے آمنا سامنا ہوا ہو۔ مگر ان کی فکر، سوچ، جدوجہد اور تگ و دو سے ہمیشہ شناسائی رہی اور وقتاً فوقتاً خط و کتابت کا رابطہ بھی قائم رہا۔ حکیم صاحب طب کی دنیا کی ایک نامور شخصیت تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کا تعارف علم و دانش کی دنیا میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مرزا غلام نبی جانباز مرحوم
خبر لگانے والے نیوز ایڈیٹر غریب کو کیا معلوم کہ جانباز مرزا کون تھا اور اس ملک و قوم کے لیے اس کی خدمات کیا تھیں؟ یہ خبر کسی آزادی و حریت کے قدردان ملک کے اخبار میں چھپتی تو اس کا انداز یہ نہ ہوتا۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ آزادی کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھ میں آئی انہیں اس کے لیے کچھ کرنا نہیں پڑا۔ آزادی کے لیے دو سو سال تک قربانیاں اور طبقوں نے دیں اور آزادی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے دوسرے طبقات کو آگے بڑھا دیا گیا اس لیے انہیں کیسے خبر ہو سکتی ہے کہ آزادی کیا ہے اور اس کے لیے قوم کو کیا قیمت ادا کرنی پڑی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک واگزاریٔ مسجد نور گوجرانوالہ اور نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم
نوید انور نوید مرحوم اس تحریک میں ہمارے سربراہ تھے۔ ان کا دماغ، زبان، قلم اور جسم اس تحریک کے لیے مسلسل حرکت میں رہے اور ان کے جنون نے ہمیں بھی مسلسل حرکت میں رکھا۔ نوید انور نوید مرحوم کے ساتھ ہمارا بہت اچھا وقت گزرا۔ وہ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے کھرے دشمن تھے۔ انہوں نے ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک میں بھی بطور کارکن اور پھر بطور وکیل ہمیشہ سرگرم کردار ادا کیا اور بے لوث خدمات سرانجام دیں۔ ان کی جدوجہد اور تگ و تاز کی بہت سی یادیں ذہن کے گوشوں میں محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم کبیر والا کی وفیات
شورکوٹ سے کبیر والا کا سفر ہوا اور دارالعلوم عیدگاہ میں حاضری دی جسے اس خطے میں ’’ام المدارس‘‘ کا مقام حاصل ہے۔ مولانا محمد انورؒ میرے دوستوں میں سے تھے اور بے تکلف ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا علی محمدؒ اس دور میں جمعیۃ علمائے اسلام کے سرپرستوں اور دعاگو بزرگوں میں شمار ہوتے تھے جب میں جمعیۃ میں ایک متحرک کردار کے طور پر سرگرم ہوا کرتا تھا۔ دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کی کوکھ سے سینکڑوں دینی اداروں نے جنم لیا، ہزاروں علماء کرام نے تعلیم و تربیت حاصل کی، ہزاروں دینی کارکنوں کی ذہن سازی اور فکری تربیت اس ادارہ میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا بشیر احمد خاکیؒ
مولانا بشیر احمد خاکی 1967ء میں شورکوٹ کی ایک مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے آئے اور 1969ء میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے درسگاہ کی بنیاد رکھی جو آج علاقہ کے دینی اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور انہیں جاگیرداروں کے جبر سے نجات دلانے کو بھی اپنا مشن بنا لیا۔ ایک غریب اور مسافر مولوی جب سیاست کے میدان میں اترا اور الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مولوی الیکشن نہ جیت سکا تو بھی علاقے کی انتخابی سیاست میں اتنی اہمیت ضرور حاصل کر لے گا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا منظور احمد الحسینیؒ
سیالکوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے ایک احتجاجی جلسہ میں شریک تھا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ خبر دی کہ مولانا منظور احمد الحسینی کا سعودی عرب میں گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس آئےہوئے تھے کہ بلاوا آگیا اور وہ اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔ حرم پاک میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بے شمار صالحین کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 346
- 347
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »