عالمی استعمار کا ایجنڈا اور ہماری دینی قیادت

قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے پاکستان کے دستور پر نظرثانی کے لیے جو دستوری ترامیم کا پیکج دیا ہے اس میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اور پونم کے جس اجتماع میں یہ آئینی پیکج پیش کیا گیا اس میں ایک سندھی قوم پرست لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ راجہ داہر کو قومی ہیرو سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۱۹۹۹ء

اسلامی نظامِ سیاست کے خدوخال عصری تناظر میں

سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ’’الکہف‘‘ کے اس ادارے اور نظم کے تحت بچیاں اس قدر تعداد میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ، اللہ پاک مزید برکات سے نوازیں اور ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ پھر یہ ذوق کہ دین اور دینی تقاضے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ماحول اور آج کی جو عصری صورتحال ہے، اس سے واقف ہونے کا شوق، یہ بھی دین کا تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۶ء

پاکستان کی ایٹمی قوت اور عالمِ اسلام کے جذبات

بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا انتظار تو تھا مگر یہ خدشہ بھی تھا کہ بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر ان کی نمائندہ لابیاں جس طرح کا مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے جو سازشیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں اپنا رنگ دکھا نہ دیں۔ چنانچہ اس تذبذب کے عالم میں گوجرانوالہ کے ایک صحافی دوست نے فون پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور ان کی کامیابی کی خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۱۹۹۹ء

پاکستانی قبائل میں امریکہ کی دلچسپی

گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز گزارنے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ کلاچی اور موسیٰ زئی شریف میں جانا ہوا۔ بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (س) صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی شریف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۱۹۹۹ء

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ اور پاکستان کا اصولی موقف

آج مجھے گفتگو کرنی ہے اس سوال پر کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات ہو رہی ہے، پاکستان کا اصولی موقف کیا ہونا چاہیے اور کیا ہے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ اس پر مجھے تھوڑی سی بات کرنی ہے لیکن مجھے اس سے پہلے، مسئلے کی نوعیت کیا ہے، اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر تھوڑی سی گفتگو کرنا ہو گی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۱۹ء

انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہمارے تحفظات

آج دس دسمبر ہے جو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس چارٹر پر مختلف نشستوں میں ہم نے بات کی ہے، آگے بھی کرتے رہیں گے ان شاء اللہ، لیکن آج ایک اصولی بات کہ ہیومن رائٹس چارٹر کیا ہے، اس کے ساتھ ہمارے معاملات کیا ہیں، آج ذرا ایک جنرل قسم کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۵ء

ضلع دیر بالا کی ’’ختمِ نبوت کانفرنس‘‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دیر کے عوام کو، علماء کرام کو، دینی کارکنوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا، جو آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو، اپنے عوام کو، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی، حضورؐ کی محبت اور عقیدت، بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت کے ساتھ شعوری وابستگی کے لیے محنت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء

اجتہاد کا مسیحی دنیا سے مستعار تصور

سب سے پہلے تو آپ سب حضرات کو اس ذوق پر مبارکباد دینا چاہوں گا کہ مسائل کی تحقیق کا ذوق ہے، جو آج کل کم ہوتا جا رہا ہے، الحمد للہ اس ذوق نے آپ کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔ کچھ مسائل جو ہمیں دینی حوالے سے پیش آتے ہیں، جن پر گفتگو ہوتی ہے، مباحثہ ہوتا ہے، ان پر تحقیق کر لی جائے، اپنا مطالعہ صحیح کر لیا جائے، مکمل کر لیا جائے، معلومات کی ترتیب صحیح کر لی جائے، تاکہ متعلقہ مسئلے پر بات اعتماد سے کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۱۶ء

نشرِ خبر اور اسلامی تعلیمات

بخاری شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ایک مرحلے میں، کچھ دن ایسا ہوا کہ حضورؐ کو اپنے اوپر کچھ اثرات محسوس ہوتے تھے۔ ظاہری بات یہ ہوتی تھی کہ کھانا کھایا ہے [پھر بھول کر] دوبارہ مانگا ہے [بتایا جاتا کہ] ابھی تو آپ نے کھانا کھایا تھا [فرماتے] اچھا۔ کھانا نہیں کھایا [عرض کیا جاتا کہ] کھانا کھا لیں [فرماتے کہ] کھا لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۴ء

علم کی حفاظت کے دو پہلو

بخاری شریف کی ’’کتاب العلم‘‘ میں ہمارے ایک قدیمی بزرگ حضرت امام ربیعۃ الرائے رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک نصیحت اور ایک ارشاد امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے کسی ترجمۃ الباب میں۔ امام ربیعہ رائےؒ کا تعارف یہ ہے کہ یہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذِ محترم ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذِ محترم ہیں، اس کے بعد کچھ اور کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter