گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز گزارنے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ کلاچی اور موسیٰ زئی شریف میں جانا ہوا۔ بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (س) صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی شریف نے بھی اس سفر میں ہماری رفاقت فرمائی۔
اس موقع پر مولانا قاضی عبد اللطیف کے ساتھ ملکی حالات اور علماء حق کی جدوجہد کے حوالہ سے متعدد امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ قاضی صاحب موصوف حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے رفقاء میں سے ہیں، سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے ہیں اور ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے قبائل کی صورتحال کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور کہا کہ قبائل کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے اور ان کے اسلامی کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے منظم طریقہ سے کام ہو رہا ہے اور امریکہ اس کام میں براہ راست دلچسپی لے رہا ہے۔
آزاد قبائل کا یہ خطہ جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک طویل پٹی کے طور پر چلا آ رہا ہے، برصغیر پاک و ہند پر فرنگی تسلط کے دوران تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ رہا ہے۔ افغانستان کو مغلوب کرنے میں ناکامی کے بعد فرنگی حکمرانوں نے اس خطہ کو زیرتسلط لانے کی مسلسل کوشش جاری رکھی، مگر حریت پسند قبائل نے اپنی نیم آزادی کو ایک حد تک آخر وقت تک بحال رکھا۔ اور یہ خطہ تحریکِ آزادی کے بیس کیمپ کے ساتھ ساتھ متحدہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان بفر سٹیٹ کا کام بھی دیتا رہا۔
جہاد بالا کوٹ اور معرکہ ۱۸۵۷ء کے بچے کھچے مجاہدین اور ان کے بعد فقیر ایپیؒ اور حاجی صاحب ترنگ زئیؒ کی جہادی سرگرمیوں کا مرکز یہی علاقہ تھا۔ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے فرنگی حکمرانوں سے گلوخلاصی کے لیے جس تحریک کا تانا بانا بُنا اور جسے تحریکِ ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس کا اہم مرکز بھی یہی علاقہ تھا۔
پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس خطہ کا جداگانہ تشخص اور نیم خودمختاری کا نظام بحال رکھا گیا ۔ اور روسی استعمار کے خلاف افغان مجاہدین کی گیارہ سالہ جنگ میں آزاد قبائل کے غیور علماء کرام، دیندار عوام اور اس خطہ کا جداگانہ تشخص جہادِ افغانستان کے لیے بہت بڑا سہارا ثابت ہوا۔
امریکہ بہادر کا خیال تھا کہ وہ روس کے خلاف افغان مجاہدین کی بھرپور امداد کر کے اس قدر اثر و رسوخ ضرور حاصل کر لے گا کہ اس خطہ میں اپنی مرضی کے اقدامات کر سکے، اور اسی کی مدد سے کامیاب ہونے والے مجاہدین اس کی پالیسیوں میں معاون ثابت ہوں۔ مگر دینی مدارس میں تربیت حاصل کرنے والے ’’طالبان‘‘ نے امریکہ کی تمام تر امیدیں خاک میں ملا دیں اور انہیں اس خطہ میں امریکی پالیسیوں کے لیے آلہ کار بنانے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اس لیے امریکہ بہادر اب ان اسباب و عوامل کا کھوج لگا رہا ہے جو طالبان کے بے لچک اسلامی تشخص کے پیچھے کارفرما ہیں اور ان اسباب و عوامل کو رفتہ رفتہ غیر مؤثر بنانے کے لیے امریکی منصوبہ ساز متحرک ہو گئے ہیں۔
دینی مدارس کے خلاف پراپیگنڈا کی عالمی مہم اور دینی تحریکات و شخصیات کی مسلسل کردار کشی اسی مہم کا حصہ ہے۔ اور امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آزاد قبائل کے نام سے پایا جانے والا یہ علاقہ بھی اسلامی عقائد و احکام کے ساتھ بے لچک وابستگی اور روایتی پشتون کلچر کے باعث طالبان کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور پاکستان میں اسلامی انقلاب کی بات کرنے والوں کا بیس کیمپ بن سکتا ہے۔
اس لیے آج کل امریکہ بہادر کو سب سے زیادہ فکر قبائلی علاقہ کے جداگانہ تشخص کو ختم کرنے کی ہے۔ اور خلیج عرب میں شخصی آمریتوں اور بادشاہتوں کی پشت پناہی کرنے والے امریکہ کو پاکستان کے ٹرائبل ایریا کے باشندوں کے شہری حقوق کا غم کھائے جا رہا ہے۔ بہانہ ہیروئن کی پیداوار روکنے کا اور اسلحہ کی سمگلنگ پر قابو پانے کا ہے مگر اس حوالہ سے جو ایکشن امریکی سفارتکاروں کی براہ راست نگرانی میں کیے جا رہے ہیں ان کا اصل ہدف اِس خطہ کی اُس امتیازی حیثیت کو ختم کرنا ہے جو تحریکِ آزادی میں آزادی کی تحریکات کے بیس کیمپ کا کام دیتی رہی ہیں۔ جہادِ افغانستان میں اسے افغان مجاہدین کی پناہ گاہ کی حیثیت حاصل تھی اور مستقبل میں اسلامی انقلاب کے امکانات میں اس علاقہ کی پوزیشن کھلی آنکھوں سے دیکھی جا رہی ہے۔
اس پس منظر میں مولانا قاضی عبد اللطیف کا یہ کہنا بہت فکر انگیز ہے کہ ٹرائبل ایریا میں ہیروئن اور اسلحہ کی سمگلنگ کی روک تھام کے عنوان سے کیے جانے والے اقدامات امریکی پروگرام کا حصہ ہیں اور امریکہ ان کے ذریعے اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ قاضی صاحب موصوف نے اس سلسلہ میں یہ واقعہ بھی یہاں بیان کیا کہ آزاد قبائل کے ایک سردار حاجی گل کو، جو سینٹ کے رکن بھی رہے ہیں، ہیروئن کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور امریکہ کے حوالہ کرنے کا پروگرام طے ہو چکا ہے۔ ان کا اصل قصور یہ ہے کہ جہادِ افغانستان کے بالکل آغاز میں افغان مجاہدین کے امیر مولوی محمد نبی محمدی نے ان سے قرض کے طور پر اسلحہ مانگا تو انہوں نے ان کی بے سروسامانی کے باوجود انہیں ساٹھ لاکھ روپے کا اسلحہ ’’قرضِ حسنہ‘‘ کے طور پر دے دیا تاکہ وہ اس سے روسی افواج کے خلاف جنگ کا آغاز کر سکیں۔ چنانچہ حاجی گل کا یہ ایثار جہادِ افغانستان کے بالکل ابتدائی دور میں افغان مجاہدین کے لیے بہت بڑا سہارا ثابت ہوا، اور آج انہیں ہیروئن کی سمگلنگ کے نام پر اسی جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ اسلحہ سازی میں آزاد قبائل کی مہارت اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کے تیار کردہ معیاری اسلحہ کی مانگ نے بھی امریکہ کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ اس صلاحیت کو ہر قیمت پر ختم کر دینا چاہتا ہے۔
مولانا قاضی عبد اللطیف کی یہ باتیں خاصی فکر انگیز ہیں اور اگر جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادت میں حالات کے ادراک کی کوئی صلاحیت باقی رہ گئی ہے اور ان کی سوچ پر آخری مہر نہیں لگ چکی تو یہ مسئلہ انہی کے سوچنے کا ہے، خدا کرے کہ ان کی سوچ کی کوئی کھڑکی کھلی ہوئی بھی ہو۔

