حضور اکرمؐ کی سیرت اور علماء کی ذمہ داری

   
۱۵ جون ۲۰۰۱ء

فیصل آباد میں دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں ’’تنظیم العلماء اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی‘‘ کے نام سے متحد ہو گئی ہیں اور انہوں نے اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ، مدارس و مراکز کی حفاظت اور مسلکی امور کے حوالہ سے مشترکہ جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ملک کے دیگر شہروں کے علماء کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ تنظیم العلماء فیصل آباد کے زیراہتمام سات جون جمعرات کو بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد میں ایک عظیم الشان سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت تنظیم کے سرپرست شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد نے کی، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان مہمان خصوصی تھے اور ان کے علاوہ کانفرنس میں میجر جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام عباسی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا مجیب الرحمان لدھیانوی اور دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں راقم الحروف کو بھی کچھ گزارشات پیش کرنے کی دعوت دی گئی اور راقم نے جو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

سیرت النبیؐ ایک مقدس عنوان ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں تذکرہ ہوتا ہے وہاں برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے، اور اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن سیرت طیبہ کے بیان کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس صاف و شفاف آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کر کے ان کی تلافی کی کوشش کریں اور اپنے مسائل و مشکلات میں اسوۂ رسولؐ سے رہنمائی حاصل کریں۔ اس مناسبت سے آج کے عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے ایک دو واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ ہم آج کے حالات اور صورتحال میں سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ مسائل بے شمار ہیں اور واقعات بھی بہت سے ہیں لیکن ان میں سے صرف دو مسئلوں کے حوالے سے بات کروں گا:

  1. ایک یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلی ثقافت سے کس طرح نجات حاصل کی تھی؟
  2. اور دوسرا یہ کہ اس وقت بھی عالمی قوتیں موجود تھیں اور مسلمانوں کے درپئے آزار تھیں، حضورؐ نے ان کا کس انداز میں سامنا کیا تھا؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں دو باتیں بطور خاص فرمائی تھیں اور انہی کا حوالہ دوں گا۔ ایک یہ کہ ’’فزت و رب الکعبہ‘‘ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مشن کی تکمیل اور اس میں اپنی کامیابی کا اعلان کیا تھا جو بحیثیت پیغمبر آخر الزمانؐ آپ کے سپرد کیا گیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ ’’کل امر الجاہلیۃ تحت قدمی ہاتین‘‘ فرما کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلی ثقافت اور کلچر کے مکمل خاتمہ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جاہلیت کی تمام رسوم و اقدار آج کے بعد میرے قدموں کے نیچے ہیں۔

یہ جاہلی ثقافت کیا تھی؟ وہی جسے آج جدید تمدن اور ترقی یافتہ کلچر کی صورت میں ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی بنیاد مادر پدر آزادی پر ہے اور جس کی سب سے بڑی نشانی فحاشی، عریانی اور بے حیائی ہے۔ جس میں زنا ہے، ناچ گانا ہے، سود ہے، جوا ہے، معاشی استحصال ہے، رنگ و نسل کا امتیاز ہے، لسانیت اور علاقائیت کے فتنے ہیں، اور انسان کے سفلی جذبات کو ابھار کر اسے اخلاقِ انسانی سے بے گانہ کرنا ہے۔ یہ سب کچھ اس جاہلی ثقافت کا حصہ ہے جو ابوجہل کی ثقافت تھی، ابولہب کا کلچر تھا، اور عتبہ و شیبہ کا تمدن تھا۔ آج کی جدید ثقافت کے علمبرداروں سے میرا سوال ہے کہ جدید تہذیب اور ترقی یافتہ کلچر کے نام پر تم جو کلچر دنیا پر مسلط کر رہے ہو، اس میں کون سی نئی بات ایسی ہے جو ابو جہل اور ابو لہب کے کلچر میں نہیں تھی؟ اور جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں اپنے قدموں کے نیچے رکھنے کا اعلان نہیں کیا تھا؟ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سولائزیشن وار اور ثقافتی جنگ کے نام پر آج کا عالمی استعمار جو کلچر ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ہم اس سے پہلے نمٹ چکے ہیں اور ہم نے اسے چودہ سو برس پہلے شکست دی تھی، جیسے ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی تمام اقدار و روایات کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا اعلان فرمایا تھا۔

دوسری بات یہ کہ اس دور میں بھی روم اور فارس کی دو بڑی طاقتیں موجود تھیں، دونوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو سابقہ پیش آیا تھا اور دونوں نے شکست کھائی تھی۔ ان میں سے ایک کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرکہ آرائی کا تذکرہ کرنا چاہوں گا اور وہ روم کی عظیم سلطنت تھی۔ یہ عیسائی سلطنت تھی اور قسطنطنیہ اس کا دارالحکومت تھا۔ اسے اُس دور کا امریکہ سمجھ لیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ سلطنتِ روما کا حکمران قیصر بڑا لشکر تیار کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اقدامات کی تصدیق کے بعد پہلا فیصلہ یہ کیا کہ یہ جنگ مدینہ منوہ یا اسلامی ریاست کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی بلکہ وہ خود پیش قدمی کر کے تبوک کی سرحد پر جائیں گے، جو شام کی سرحد پر تھا، اور شام اس زمانہ میں رومی سلطنت کا صوبہ ہوا کرتا تھا۔

سخت گرمی کا موسم تھا، فصلیں پکی ہوئی تھیں، کاشتکاروں اور باغبانوں کے لیے سال کا آخر تھا جس کی وجہ سے سخت معاشی تنگی تھی، لمبا سفر تھا، مگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکرِ نبویؐ کا اعلان فرما دیا اور تیاریاں شروع کر دیں۔ صحابہ کرامؓ نے سب مشکلات اور رکاوٹوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کوچ کیا اور کم و بیش ایک ماہ کا سفر طے کر کے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر سمیت تبوک کی سرحد پر جا پہنچے۔ وہاں ایک ماہ رہ کر قیصر روم کی فوجوں کا انتظار کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیرت انگیز اور جراتمندانہ پیش قدمی کا قیصرِ روم کے دل میں ایسا رعب ڈالا کہ اسے قسطنطنیہ سے فوج لے کر نکلنے کی جرات نہ ہوئی۔ اور اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ماہ کی مسافت سے دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد فرمائی، جسے احادیث مبارکہ میں خصائص نبویؐ میں ذکر کیا جاتا ہے۔

اس دوران کا ایک اور واقعہ بھی سامنے رکھ لیجیے کہ اس دور میں مدینہ منورہ میں ایک ’’این جی او‘‘ قائم ہوئی اور مسجد کے مقدس نام پر قائم ہوئی۔ جس کے بنانے والوں نے قسم کھا کر کہا کہ ’’انا اردنا للحسنی‘‘ ان کا ارادہ بہت اچھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں جانے اور وہاں نماز پڑھا کر مسجد کا افتتاح کرنے کا وعدہ فرما لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ یہ مسجد نہیں بلکہ مسجد کے نام پر کافروں کی گھات اور مورچہ ہے اس لیے آپؐ اس مسجد میں نہ جائیں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کو آگ لگوا دی اور بعض مفسرین کے ارشاد کے مطابق عبرت اور سبق کے لیے اس نام نہاد مسجد کے کھنڈرات پر فِلتھ ڈپو بنوا دیا۔ یہ مسجد اس لیے منافقین نے بنائی تھی تاکہ وہ ان کے باہمی مشوروں کا مرکز ہو اور رومی استعمار کے ساتھ رابطوں اور ان کی ہدایت کی وصولی کے لیے مرکز بنے۔ مگر علم ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برداشت نہیں کیا اور مسجد کے نام پر بننے والی اس بلڈنگ کو نذرِ آتش کر دیا۔

اس کے ساتھ اسی معرکہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور واقعہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غزوہ کے لیے تبوک جانے والے لشکر میں منافقین کی ایک بڑی تعداد نہیں گئی اور عذر بہانے کر دیے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول بھی فرما لیا۔ البتہ تین مخلص صحابی حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت مرارہ بن ربیعؓ اور حضرت ہلال بن امیہؓ کسی عذر کے بغیر ساتھ جانے سے رہ گئے تھے۔ انہوں نے کوئی عذر بھی نہیں کیا اور تبوک سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کے بعد صاف طور پر عرض کر دیا کہ کوئی عذر نہیں ہے، غلطی ہوئی ہے اس لیے جو سزا دی جائے قبول ہے۔ یہ ان کے خلوص کی علامت تھی اور ایمان کا اظہار تھا۔ چنانچہ انہیں اس کی سزا ملی جو سوشل بائیکاٹ کی صورت میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو ان کے ساتھ لین دین، بول چال اور تعلقات سے منع کر دیا، حتیٰ کہ بیویوں کو بھی حکم ہوا کہ تا حکمِ ثانی خاوندوں کے گھر چھوڑ کر ماں باپ کے ہاں چلی جائیں۔ یہ بائیکاٹ پچاس دن تک جاری رہا اور قرآن کریم کی زبان میں یہ سماجی مقاطعہ اس قدر سخت تھا کہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ان تینوں صحابہؓ پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی جسموں میں تنگ پڑ گئیں۔ یہ سخت ابتلا اور آزمائش کا دور تھا۔

اس دوران رومی حکمرانوں کا ایک قاصد مدینہ منورہ آیا اور حضرت کعب بن مالکؓ سے ملا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ آپ پر آپ کے صاحب یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے ہیں اور انہوں نے آپ کو جماعت سے الگ کر دیا ہے، اس لیے ہم آپ کو پیشکش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس آجائیں، ہم آپ کو جگہ بھی دیں گے، خرچہ بھی دیں گے اور اعزاز اور پروٹوکول بھی دیں گے۔ یہ آج کی اصطلاح میں سیاسی پناہ کی پیشکش تھی جو حضرت کعب بن مالکؓ کو رومی حکمرانوں کی طرف سے دی گئی، مگر حضرت کعب بن مالکؓ نے اس کا کیا جواب دیا؟ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالکؓ اس قاصد کو ساتھ لے کر محلہ کے تنور پر گئے جہاں آگ جل رہی تھی اور کوئی خاتون روٹیاں پکا رہی تھیں۔ حضرت کعبؓ نے قاصد کے سامنے اس خط کو پھاڑ کر تنور میں پھینک دیا اور اسے کہا کہ جا کر اپنے افسروں کو بتا دو کہ کعبؓ نے تمہارے خط کا یہ جواب دیا ہے۔ یہ حضرت کعبؓ کی غیرتِ ایمانی کا اظہار تھا جو آج ہمارے لیے بھی نمونہ ہے اور ایمان کی علامت ہے۔

یہ واقعات میں نے اس لیے عرض کیے ہیں کہ ہمیں بھی آج اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے اور امریکہ نام کی ایک بڑی طاقت ہمیں اپنا غلام بنائے رکھنے یا کچل دینے کے لیے ادھار کھائے ہوئے ہے۔ اور ہمیں اپنی خود مختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے اس کی بالادستی اور سازشوں کی دلدل سے نکلنا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اپنا کر اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چل کر ہی ہم اس دلدل سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter