بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے فرنٹ پر فلسطین کا مسئلہ، بیت المقدس کا مسئلہ، فلسطینیوں کا مسئلہ، اس وقت پوری دنیا میں زیربحث بھی ہے اور تمام لوگ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکرمند بھی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔
فلسطین کی یہ موجودہ لڑائی جو ہے، یہ تو تقریباً سو سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا تو دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر بسانے کا عمل شروع کیا تھا۔ ورنہ یہاں پورے فلسطین میں یہودیوں کی ایک فیصد ڈیڑھ فیصد آبادی تھی۔ یہ ساری دنیا سے برطانیہ نے سمیٹے تھے اور اکٹھے کر کے یہاں لائے تھے، یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے، کہ ہم تمہاری یہاں حکومت بنوائیں گے۔ اور بنوائی۔ ۱۹۱۶ء میں معاہدہ ہوا تھا برطانیہ کا اور یہودیوں کا، بالفور ڈکلیریشن کہلاتا ہے، اعلانِ بالفور۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ نے یہودیوں کی عالمی تنظیم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، معاہدہ نیٹ پہ موجود ہے، کہ ہم یہودیوں کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ فلسطین میں آئیں، دنیا بھر سے واپس آئیں، یہاں اپنی ریاست قائم کریں، حکومت بنائیں۔ اور یہ حق تسلیم کرنے کے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ جب بھی ہمیں موقع ملا ہم اس کا راستہ ہموار کریں گے۔
اس معاہدے کے تحت، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد عربوں کی تقسیم ہوئی ہے اور مختلف علاقوں میں کہیں اٹلی کہیں برطانیہ کہیں فرانس نے قبضہ کیا ہے تو برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور وہ عمل شروع کر دیا تھا کہ دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر بسایا تھا یہاں۔ اُس زمانے میں یہودی آتے تھے، زمین خریدتے تھے، مکان بناتے تھے، اور ٹارگٹ یہ تھا کہ ہم اتنی آبادی حاصل کر لیں کہ ہم یہاں دعویٰ کر سکیں۔ اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک فتویٰ دیا تھا کہ یہودیوں کو فلسطین کی زمین بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ یہاں ریاست قائم کر کے، قبضہ کر کے بیت المقدس کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اس فتوے کی حمایت میں ہمارے دو بڑے بزرگوں نے بھی فتوے دیے تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا مستقل کتابچہ موجود ہے جس میں انہوں نے اُن کے فتوے کی حمایت کی تھی۔ اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فتویٰ، ’’کفایت المفتی‘‘ یہاں لائبریری میں ہو گی، اس میں موجود ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں کہ یہودی آ کر جگہ خرید کر برطانیہ کی سرپرستی میں یہاں بسنے لگ گئے ہیں اور ٹارگٹ ان کا یہ ہے کہ بیت المقدس پہ قبضہ کرنا ہے۔ بہرحال چلتی رہی یہ بات۔ تو میں نے اس لیے یہ بتایا ہے کہ یہ لڑائی تو شروع ہو گئی تھی پہلی جنگِ عظیم کے بعد، اس کو تقریباً ایک سو سال ہو گیا ہے۔
آزادی کی جنگیں دس بیس سال کی نہیں ہوتیں۔ آزادی کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں انگریز آئے تھے تو ہماری آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا تھا ۱۷۵۷ء میں، نواب سراج الدولہؒ نے جنگ لڑی تھی اور شہید ہو گیا تھا۔ پھر ٹیپو سلطان نے ۱۸۰۱ء میں جنگ لڑی تھی اور شہید ہو گیا تھا۔ تو ۱۷۵۷ء میں ہم نے آزادی کی جنگ کا آغاز کیا تھا اور ہمیں آزادی ایک سو نوے سال کے بعد ملی ۱۹۴۷ء میں۔ میں نے دوسری بات یہ عرض کی ہے کہ آزادی کی جنگیں دو چار سال کی نہیں ہوتی۔ پنجابی میں ’’کالے پے جانے آں کہ کیوں نئیں ہو ریا‘‘ (عجلت میں آجاتے ہیں کہ نتیجہ کیوں نہیں سامنے آ رہا)۔ خود ہماری جنگِ آزادی سراج الدولہ سے شروع کر کے قائد اعظمؒ تک آئی تو ایک سو نوے سال کی آزادی کی جنگ بنتی ہے جو ہم نے لڑی ہے اور اس کے بعد ہمیں [نتیجہ ملا ہے]۔ یہ لمبی ہوتی ہیں، کبھی اس میں پسپائی ہوتی ہے، کبھی پیشرفت ہوتی ہے۔ اور جب قومیں اگر اَڑی رہیں — اگر سرینڈر ہو گئے تو سرینڈر ہو گئے — لیکن اگر اڑی رہیں ڈٹی رہیں تو بالآخر آزادی کا راستہ نکل آتا ہے۔
اِس وقت فلسطینی، سب سے بڑا اللہ پاک نے ان کو یہ اعزاز دیا ہے کہ اڑے ہوئے ہیں ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ مار کھانا شکست نہیں ہوتا، ہتھیار ڈالنا شکست ہوتا ہے۔ آزادی کے لیے قربانیاں ہوتی ہیں۔ کبھی بالاکوٹ (۱۸۳۱ء) سجتا ہے، کبھی ۱۸۵۷ء سجتا ہے، کہیں شاملی سجتا ہے، کہیں سردار احمد کھرل لڑتا ہے، کہیں ٹیپو لڑتا ہے۔ یہ لڑنا اور شہید ہونا، یہ شکست نہیں ہوتی۔ ہتھیار ڈالنا شکست ہوتی ہے۔ اور یہ اعزاز، اللہ پاک ان کو استقامت دے، موجودہ راؤنڈ میں تیس ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی دے کر بھی کھڑے ہیں اور سرینڈر نہیں ہو رہے، دستبردار نہیں ہو رہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ سیانے لوگ مشورہ دے رہے ہیں: چھوڑ دو یار، چھوڑ دو یار۔ نہیں، وہ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ ان کا استقامت کے ساتھ کھڑے رہنا ہی ان کی کامیابی ہے۔ اللہ پاک اس استقامت کا صلہ انہیں ضرور عطا فرمائیں گے ان شاء اللہ العزیز۔ بیت المقدس بھی آزاد ہو گا، فلسطینی بھی آزاد ہوں گے۔
لیکن اس میں تیسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آخر ہم بھی مسلمان ہیں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ ہمارا بھی کوئی فرض بنتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے ’’ما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنسآء والولدان‘‘ (النساء ۷۵) ایک علاقے کے مظلوم مسلمان چیخ و پکار کر رہے ہیں، تم کیوں نہیں لڑائی میں شریک ہوتے؟ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ہمیں یہ کہہ رہے ہیں۔ ایک علاقے کے مسلمان مستضعفین کمزور مار کھا رہے ہیں، ذبح ہو رہے ہیں، قربانی دے رہے ہیں، شہید ہو رہے ہیں، ’’ما لکم؟‘‘ کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ ’’لا تقاتلون‘‘ تم کیوں نہیں لڑتے؟
ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم بحیثیت امتِ مسلمہ ہماری تو ڈبل ذمہ داری ہے: ایک امتِ مسلمہ کی حیثیت سے کہ ہم اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں۔ میں اللہ پاک سے یہ دعا کیا کرتا ہوں کہ مولا کریم! فلسطین ہمارے بھائی ہیں، یا اللہ! ہمیں بھی ان کا بھائی بنا دے۔ ہم اُن کے بھائی نہیں بن رہے۔ ہم تماشائی کھڑے ہیں کہ مر رہے ہیں یار۔ نہیں، ہماری ذمہ داری ہے، بحیثیت مسلمان کے بھی اور بحیثیت پاکستانی کے بھی۔ پاکستانی کی حیثیت سے اس لیے کہ ہم نے پہلے دن کہہ دیا تھا۔ پاکستان بھی انہی دنوں میں بنا ہے اور اسرائیل بھی انہی دنوں میں بنا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے دوٹوک کہا تھا کہ یہ ناجائز ریاست ہے، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اُس دن ایک صاحب نے کہا کہ قائد اعظم کو مدت گزر گئی ہے اب حالات بدل گئے ہیں۔ میں نے کہا، جو ناجائز ولادت ہو، حالات بدلنے سے جائز نہیں ہوا کرتی…
پاکستانی کے طور پر ہمارا قوی موقف چلا آ رہا ہے کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں، قائد اعظم نے اعلان کیا تھا، اس وقت سے تقریباً ہم اسی پر قائم ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ہمارے قدم ڈانواڈول ہوئے تھے، ہم تھوڑے سے لڑکھڑانے لگے تھے، ہم نے یہ باتیں کہنا شروع کر دی تھیں، ہمارے اُس وقت کے وزیر اعظم صاحب نے کہ یار قائد اعظم کی بات کونسی وحی تھی، ہم بدل نہیں سکتے؟ ہم یوں کہنے لگے تھے۔ فلسطینیوں نے ہمیں بھی روکا ہے، تیس ہزار کی قربانی دے کر ہمارے قدم بھی روکے ہیں، کچھ اور ملکوں کے قدم بھی روکے ہیں۔ یہ بھی ان کی کامیابی ہے کہ انہوں نے دنیا کے بڑے مسلمان ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اس سازش کو ناکام بنایا ہے، تیس ہزار بندے مروا کر، شہادتیں دے کر۔
یہ میں عرض کر رہا ہوں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پہلا کام تو حکومتوں کا ہے کہ بھئی بیٹھ کر سوچیں تو سہی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری اس تحریک کی پاکستان میں جو قیادت فرما رہے ہیں، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم، ہماری دینی مہم کی قیادت ملک بھر میں وہ فرما رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں، کارکن ہیں ان کے، انہوں نے کل بھی کہا ہے کہ کم از کم مسلمان حکمران مل کر بیٹھ کے سوچو تو سہی کہ ہم نے کچھ کرنا ہے یا نہیں کرنا، کرنا ہے تو کیا کرنا ہے، بیٹھو تو سہی۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اکٹھے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس مہم میں ہماری سب کی قیادت فرما رہے ہیں۔ دو باتیں انہوں نے کہی ہیں، وہی میں بھی عرض کرنا چاہوں گا:
ایک بات یہ ہے کہ مسلمان حکمران کم از کم مل کر بیٹھیں سوچیں تو سہی کہ ہمارے بھائی مر رہے ہیں، ہم نے کیا کرنا ہے۔ بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکلے گا۔ اور دوسرا پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ہم بہت سے معاملات میں شریک رہے ہیں۔ ہم دنیا کے کونسے جھگڑے میں فریق نہیں بنے؟ کیوں جی، ہماری فوجیں کہاں کہاں نہیں گئیں؟ یہاں کیوں نہیں بھیج رہے۔ ہم صومالیہ گئے ہیں، ہم عراق میں گئے ہیں، ہم بوسنیا میں اور پتہ نہیں کہاں کہاں پھرتے رہے ہیں۔ ہمارے ٹروپس جاتے رہے ہیں شرکت کے لیے۔ حکمرانوں سے یہ گزارش ہے کہ ہمارا تو یہ مزاج ہے، ہم خود لڑتے ہیں، یہاں کیوں قدم رکے ہوئے ہیں فلسطینی بھائیوں کے لیے؟
حکومتوں کی ذمہ داریاں دو ہیں: ایک ہے ان کا ساتھ دیں، اور اس سے پہلے یہ کہ کم از کم مل بیٹھ کر سوچیں تو سہی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جو کر سکتے ہیں وہی کریں لیکن سوچیں تو سہی۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ دنیا بھر میں دیکھیں اگر امریکہ کے عوام جلوس نکال رہے ہیں اور اظہار کر رہے ہیں، برطانیہ کے عوام اس کا اظہار کر رہے ہیں، یورپ کے ملکوں کے لوگ ان کی حمایت میں سڑکوں پر آ رہے ہیں، تو ہم کیوں نہیں آتے؟ یہ آج کی دنیا میں بڑی مضبوط حمایت ہوتی ہے رائے عامہ کی۔ اسٹریٹ پاور جو ہوتی ہے یہ آج کی دنیا کا بہت بڑا سیاسی ہتھیار ہوتا ہے۔ آج مغرب میں، مشرق میں، امریکہ میں، یورپ میں، ہر بڑے شہر میں جلوس نکل رہے ہیں۔ ہمیں یہ آواز بلند کرنی چاہیے اور یہ آواز بلند کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم ساتھ ہیں۔ اگر امریکہ کی یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم ساتھ ہیں تو ہمیں اعلان کرتے ہوئے کیا تکلیف ہوتی ہے؟ یہ جو حمایت کی مہم ہے، رائے عامہ کی مہم، میڈیا کی مہم، اس کو جتنا زیادہ ہم تیز کر سکتے ہیں ہمیں کرنا چاہیے اور اس کا پریشر ڈالنا چاہیے۔
تیسری بات، لڑائیوں میں سیاسی لڑائی بھی ہوتی ہے، ہتھیاروں کی لڑائی بھی ہوتی ہے، اور معاشی لڑائی بھی ہوتی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معاشی جنگیں ہوئی ہیں۔ خود حضورؐ کا محاصرہ بھی تین سال ہوا ہے، بائیکاٹ ہوا ہے، شعبِ ابی طالب میں۔ بدر کی لڑائی کہاں سے شروع ہوئی تھی؟ قریش کا تجارتی قافلہ روکنے کے لیے نکلے تھے۔ قرآن پاک میں ہے ’’اذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم ویرید اللہ ان یحق الحق بکلماتہ‘‘ (الانفال ۷) اللہ پاک فرماتے ہیں تم جب مدینے سے چلے تھے، تمہارے ذہن میں دو تھے، کہ ایک ابوجہل کا جنگی قافلہ ہے، ایک ابوسفیان کا تجارتی قافلہ ہے۔ تم اُدھر جانا چاہ رہے تھے میں نے اِدھر بھیج دیا۔ ’’اذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم‘‘ اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ ایک تمہارے قابو میں دوں گا۔ ’’تودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم‘‘ تم یہ چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ہاتھ میں آئے، اصل ٹارگٹ وہ تھا۔ اللہ نے کہا کہ میں نے رخ اِدھر موڑ دیا۔ تو حضورؐ تو معاشی جنگ کے حوالے سے دیکھ رہے تھے کہ ان کی تجارت روکنی ہے، ان کی تجارت کے راستے میں رکاوٹ بننا ہے۔ حضورؐ کے بھی بائیکاٹ ہوئے ہیں، حضورؐ نے بھی بائیکاٹ کیے ہیں۔
میں ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کروں گا کہ معاشی جنگ کیا ہوتی ہے۔ صلح حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم دس سال جنگ نہیں کریں گے۔ کچھ اور شرطیں بھی تھیں۔ تو بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمرے پہ چلے گئے۔ مسلمان ہو گئے تھے۔ یمامہ کہاں ہے، ریاض کا علاقہ ہے سعودیہ کا۔ عمرے پہ گئے تو مکے پہ کنٹرول اُن (قریش) کا تھا۔ وہاں کسی نے طعنہ دیا ثمامہ بن اثالؓ کو طواف کرتے ہوئے کہ ثمامہ! مسلمان ہو گئے ہو؟ محمدؐ [کا دین قبول کر لیا ہے؟]۔ ثمامہؓ نے کہا، آرام سے بیٹھو، میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو مکے میں پوری گندم یمامہ سے آتی ہے، ایک دانہ نہیں آئے گا، آرام سے بیٹھو۔ اور ثمامہ بن اثالؓ نے واپس جا کر گندم بند کر دی۔ یمامہ گندم کا علاقہ تھا، مکے کی منڈی میں وہیں سے گندم آتی تھی۔ ثمامہؓ نے جا کر اعلان کر دیا۔ سردار تھے۔ بھئی، مکے کی منڈی میں کوئی گندم نہیں جائے گی۔ نہیں گئی۔ مکے والوں نے وفد بھیجا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہ جناب ہمارا آپ کا صلح کا معاہدہ چل رہا ہے اور آپؐ کے ساتھی نے غصے میں آ کر ہماری گندم کی سپلائی بند کر دی ہے۔ تو حضورؐ نے خط لکھا ثمامہؓ کو، ریکارڈ پر ہے، بخاری شریف میں ہے، خط لکھا اور بندہ بھیجا کہ ’’یار ہتھ ہولا رکھو‘‘ (اتنی سختی نہ کریں) ہمارا معاہدہ چل رہا ہے۔
یہ معاشی جنگ بھی جنگ ہوتی ہے اور رکاوٹ ڈالنا، بائیکاٹ کرنا، یہ بھی جہاد کا حصہ ہے۔ ہم کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ یہ محاذ تو ہمارے اپنے ہیں: میڈیا کا محاذ، اسٹریٹ پاور کا محاذ، یہ ہم کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ اور معاشی جنگ، بائیکاٹ، معاشی طور پر نقصان پہنچانا، یہ ہم کر سکتے ہیں کہ نہیں کر سکتے؟ جو ہم کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔ ہمیں، علماء کرام کو، سیاسی جماعتوں کو، رائے عامہ کے محاذ پر اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں زیادہ سے زیادہ آواز بلند کرنی چاہیے، کم از کم اتنی تو کرنی چاہیے جتنی امریکہ کے اسٹوڈنٹس کر رہے ہیں، برطانیہ کے عوام کر رہے ہیں، اتنی تو کرنی چاہیے۔ اور ہمارے تجارتی ماحول کو بائیکاٹ کے راستے سوچنے چاہئیں۔ اگر مکے والوں کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے، مکے والے حضورؐ کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں، تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ تو ہمیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ، کم از کم درجہ یہ ہے کہ ہم اپنی نفرت کا اظہار تو کریں کہ ہم یہ یہودی مال نہیں لیتے، یہ ہمارے بھائیوں کے قاتل ہیں۔
یہ میں نے گزارش کی ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہ کھڑے ہیں، ان کے کھڑے رہنے کے لیے ہمیں دعا کرنی چاہیے، ان کا کھڑا رہنا ہی ان کی کامیابی ہے۔ ہم ان کو مشورے دیں یہ وہ۔ نا، نا۔ تیس ہزار اور بھی شہید ہو جائیں، ان کا کھڑا رہنا ہی ان کی کامیابی ہے۔ اور ہماری بہت سی حکومتوں کے لیے رکاوٹ ہے۔ اور دوسری بات کہ حکومتوں کو جو کرنا چاہیے ان کو کرنا چاہیے، ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر وہ نہیں کرتے تو جو کام ہم پبلک میں کر سکتے ہیں، علماء کر سکتے ہیں، سیاستدان کر سکتے ہیں، تاجر کر سکتے ہیں، وہ تو کریں، اپنا حصہ تو ادا کریں۔
وہ ایک مشہور واقعہ ہے، ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو کون چونچ میں پانی لے کر ڈال رہا تھا، چڑیا تھی یا بلبل تھی؟ کسی نے کہا، تمہارے یہ پانی کے دو قطرے کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا، جتنی میری چونچ ہے اتنا تو ڈالوں گی، کچھ کرے نہ کرے اس کی مرضی۔ ہم اپنی چونچ کے مطابق تو کام کریں۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائیں تاکہ کل قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش ہونا ہے قیامت کے دن، وہاں بھی شرمساری نہ ہو کہ کچھ نہ کچھ ہم نے کیا ’’ہتھ پیر مارے سن‘‘۔ تو یہ ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے، اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

