سید سلمان گیلانیؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار

   
۲۲ اپریل ۲۰۲۶ء

گزشتہ روز ایوانِ اقبالؒ لاہور میں شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے کیا تھا اور جمعیۃ کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا سعید یوسف خان، مولانا سید کفیل بخاری اور دیگر زعماء کے علاوہ علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات کے مختلف راہنماؤں نے اس میں شرکت کی۔

سید سلمان گیلانیؒ کے ساتھ میری رفاقت اور دوستی کم و بیش نصف صدی سے چلی آ رہی تھی اور ان کے والد گرامی شاعرِ حریت الحاج سید امین گیلانیؒ کے ساتھ بھی نیاز مندی اور دینی جدوجہد میں رفاقت رہی ہے۔ سید سلمان گیلانیؒ ایک باذوق شاعر اور پرجوش دینی و ملی کارکن تھے جن کے کلام، لہجہ اور جوش و جذبہ سے دینی کارکنوں کو حوصلہ ملتا تھا اور میں انہیں قافلۂ حق کا حدی خوان کہا کرتا تھا۔ شعر و شاعری اور ادب صرف ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہی نہیں بلکہ حق و باطل کی جدوجہد اور رزم گاہ کا ایک کارگر ہتھیار بھی ہے جو ہر دور میں استعمال ہوا ہے۔ اور اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دفاع کے لیے خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

دورِ نبویؐ کے بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ بطور مثال عرض کر رہا ہوں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کم و بیش ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ کے ہمراہ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو وہاں کا ماحول مشرکین کا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاہدہ کے تحت صرف تین دن کے لیے وہاں تشریف لائے تھے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے، ان کی اونٹنی کی مہار معروف شاعر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کے ہاتھ میں تھی، باقی سب لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے اور عبد اللہ بن رواحہؓ رجز (جنگی ترانے) پڑھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کیفیت میں دیکھ کر اشارے سے منع کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا اور فرمایا ’’دعہ یا عمرؓ‘‘ اسے پڑھنے دو، اس کے شعر دشمن کے سینے میں تمہارے تیروں سے زیادہ نشانے پر لگ رہے ہیں۔

ہمارے ہاں تحریک آزادی، تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، تحریک نفاذ شریعت، تحریک تحفظ ناموس رسالت، تحریک مدح صحابہ کرامؓ اور دیگر دینی و ملی تحریکات میں جن شعراء نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حدی خوانی کا فریضہ ادا کیا ہے ان میں الحاج سید امین گیلانیؒ کا نام بہت نمایاں ہے اور سید سلمان گیلانیؒ نے اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد زندگی بھر ان کی روایات اور مشن کا پرچم سربلند رکھا ہے جس کا تذکرہ ان کی یاد میں ہونے والے اس تعزیتی سیمینار میں مقررین نے کیا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں اور ان کے خاندان کو یہ روایات قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس سیمینار کی دو باتوں کا میں بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا:

ایک یہ کہ سید سلمان گیلانیؒ کے بھائی نعمان گیلانی، بیٹے اسامہ گیلانی اور پوتے علقمہ گیلانی کو اس سیمینار میں سید سلمان گیلانیؒ کا کلام انہی کے لہجے میں پڑھتے ہوئے دیکھا اور سنا تو حوصلہ ہوا کہ اگر انہوں نے اس میں توجہ دی تو احباب کی حوصلہ افزائی اور بزرگوں کی سرپرستی سے حدی خوانی کا یہ سلسلہ تیسری نسل میں بھی اپنے خاندان کی روایات کا پرچم بلند رکھے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

جبکہ دوسری بات امیر محترم حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے حوالہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے دیرینہ رفیق سید سلمان گیلانی مرحوم کی خدمات کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ملک کی مجموعی صورتحال اور عالمی حالات پر بھی بہت متوازن خطاب کیا جو وقت کی ضرورت تھا اور اس سے ملک کی دینی جدوجہد کو اپنا رخ واضح کرنے میں حوصلہ ملا ہے۔ بالخصوص ان کا یہ کہنا کہ ملک کے داخلی مسائل کی طرف سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی مگر قومی تقاضوں اور عالمی صورتحال میں پاکستان کے سفارتی کردار کے بارے میں بھی ہمارا واضح موقف ہے کہ ملک و قوم کے دفاع میں پوری قوم ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی اور دیگر سنگین قومی مسائل کے حوالہ سے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ملک گیر تحریک کا اعلان کیا تھا اور عوامی مظاہروں کی کال دی تھی لیکن حکومتی حلقوں کی طرف سے ان سے ملاقات کر کے کہا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اسلام آباد کے مرکزی کردار اور مذاکرات کے موقع پر یہ مظاہرے نہیں ہونے چاہئیں تو ہم نے یہ بات قبول کر لی اور مظاہرے سرِدست مؤخر کر دیے جن کے لیے پھر کسی مناسب موقع پر ہم اعلان کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی یہ بات سن کر مجھے ان کے والد گرامی قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ جب وہ دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے انڈیا گئے تو ان کے قافلے میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اس دور میں ملک کے اندر صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور مولانا مفتی محمودؒ کے کے درمیان شدید مخاصمت کا ماحول تھا جو اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے اور صدر ضیاء الحق مرحوم کے خلاف سیاسی جماعتوں متحدہ محاذ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ دہلی میں بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں نے مفتی صاحبؒ کو گھیر لیا اور صدر ضیاء الحق کے ساتھ اختلافات کے بارے میں سوالات شروع کر دیے۔ مولانا مفتی محمودؒ کچھ دیر تو ٹالتے رہے مگر جب سوالات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو مفتی صاحبؒ نے دوٹوک کہا کہ ضیاء الحق کے ساتھ میرے اختلافات ملک کے داخلی ماحول میں ہیں جو واہگہ سے اُس پار ہیں جبکہ میں یہاں پاکستان کا نمائندہ ہوں جس کے صدر ضیاء الحق ہیں اس لیے اس سلسلہ میں کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔

لاہور کے سیمینار سے مولانا فضل الرحمٰن کے اس متوازن خطاب سے بہت خوشی ہوئی کہ یہی اعتدال اور توازن قومی اور ملی معاملات میں ہمارے اکابر کی روایت ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسے ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter