(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
ملک بھر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی جو ہو رہی ہے اس پر ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ ابھی کل ہمارے ہاں ایک شیعہ راہنما قتل ہوگئے ہیں، ضلعی امن کمیٹی کے ممبر تھے، معروف وکیل اعجاز حسین رسول نگری۔ اس سے پہلے کئی سنی راہنما قتل ہوئے۔ یہ شیعہ سنی حوالے سے جو فرقہ وارانہ طرفین کا قتل ہے، میں اس سے پہلے بھی اس کے متعلق کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں فریقین بھی ملوث ہوں گے لیکن اصل میں یہ بیرونی ایجنسیوں کی کارستانی ہے ہمارے ملک کے امن کو تباہ کرنے کے لیے۔ ورنہ پاکستانی اپنے حالات کو جانتے ہیں۔ کوئی ہوگا شر پسند جو اس مقام پر جاتا ہو، لیکن نہ عام سنی اور نہ عام شیعہ کوئی بھی ایک دوسرے کے قتل و قتال پر راضی نہیں ہیں۔ یہ فضا پیدا کی جا رہی ہے، عمداً پیدا کی جا رہی ہے، ملک میں خلفشار پیدا کرنے اور بڑھانے کے لیے، تاکہ عالمی طاقتیں پاکستان کے حوالے سے جس ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتی ہیں، آسانی سے کر سکیں۔
ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں۔ قتل کا عمل جہاں بھی ہو، یہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جو بھی ایسا کرتا ہے، غلط کرتا ہے۔ ہم کل کے واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ میں ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بھی ہمارے ہاں روایت بن گئی ہے کہ جونہی کوئی شیعہ قتل ہوا تو شہر کے سنیوں کی شامت آگئی، اور سنی قتل ہوا تو شہر کے شیعوں کی شامت آگئی۔ ہماری پولیس کی یہ روایت ہے۔ اب کل یہ شیعہ راہنما قتل ہوئے ہیں تو رات کو شہر کے دینی مدارس کے منتظمین، مہتممین، علماء تھانوں میں تھے، اور اب بھی تھانوں میں ہیں۔ قتل ہوا پیپلز کالونی میں اور باغبانپورہ کے مدرسہ اشرف العلوم کے مہتمم مولانا نعیم اللہ اس وقت بھی تھانہ باغبانپورہ میں زیر حراست ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے منتظم مولانا ریاض سواتی اور ان کے بھائی مولانا عرباض سواتی بھی تھانے میں ہیں۔ جامعہ قاسمیہ کے قاری گلزار احمد قاسمی صاحب آج صبح بہت مشکل سے تھانے سے واپس آئے ہیں۔ یہ میرے ہاتھ میں بھی جو رقعہ ہے اسی کے متعلق ہے کہ ساری رات ایسے لوگوں کی شامت آئی رہی جن کا ایسے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
اب یہ مدارس، مدرسہ نصرۃ العلوم، مدرسہ اشرف العلوم اور جامعہ قاسمیہ، کبھی آپ نے وہاں شیعہ سنی عنوان سے کوئی اجتماع یا کوئی سرگرمی ہوتے دیکھی ہے؟ کبھی آپ نے ان کے منتظمین کو آپ نے ان فرقہ وارانہ مسائل میں دلچسپی لیتے دیکھا ہے؟ سینکڑوں ایسے لوگ بلاوجہ صرف کاروائی ڈالنے کے لیے، اور کچھ نہیں، بس وزیر اعلیٰ کو یہ بتانے کے لیے میں نے شہر میں اتنے آدمی پکڑ لیے ہیں، اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے۔ ارے بھئی اگر تم میں اصل مجرم پکڑنے کی اہلیت نہیں ہے تو اس کا عتاب غیر متعلق لوگوں پر اور شریف شہریوں پر کیوں پڑتا ہے؟ اور لطیفے کی بات یہ ہے کہ آج میں نے خود تھانے میں یہ دیکھا کہ وہاں آدمی پکڑ کے لائے گئے اور ان سے کہا گیا کہ گنتی پوری رکھنا، ڈی ایس پی صاحب آئیں گے، ان کے سامنے گنتی میں کمی نہ ہو۔ کیا یہ معیار ہے تمہارے انصاف کا، یہ طریقہ ہے تمہارا قاتل پکڑنے کا؟
ہم اس پر پر زور احتجاج کرتے ہیں اور انتظامیہ کے اس رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اصل قاتلوں کو پکڑو، ہم تمہارے ساتھ ہیں، کسی مجرم کی سفارش نہیں کریں گے، لیکن ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایس ایس پی صاحب وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے کے لیے شہر کے علماء کے گھر اور شہر کے مدارس پر آدھی رات کو چھاپے ماریں اور درجنوں آدمیوں کو پکڑ کر حوالات میں بند کر دیں۔ اگر یہ کارروائی جاری رہی تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور پھر امن کی ذمہ داری تم پر ہوگی۔

