(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج بہت خوشی کی بات ہے، بہت خوشی کی بات ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ ملک بنا تھا کہ یہاں اسلام کا نظام رائج ہوگا، قربانیاں تو لوگوں نے اس مقصد کے لیے دی تھیں، ۱۹۴۷ء میں جو لوگ ذبح ہوئے تھے، کٹے تھے، شہید ہوئے تھے، جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے تھے، ان کا مقصد تو یہی تھا، آزادی کی جنگ میں جو لوگ سولیوں پر چڑھے تھے، پھانسیوں پر لٹکے تھے، ان کی غرض تو یہی تھی کہ ملک آزاد ہوگا، الگ ملک بنے گا، خدا کا قانون نافذ ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم پچاس سال سے خدا کے قانون کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
ہم بنیادی طور پر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ ہم نے اپنا مالیات کا نظام قرآن و سنت کے اصولوں پر چلانا ہے یا دنیا والوں کی پیروی کرنی ہے۔ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر بینک نہیں چلتے، نظام نہیں چلتا۔ ارے بھئی جو لوگ بغیر سود کے نظام چلانا چاہیں، ان کا نظام اس کے بغیر بھی چلتا ہے۔ اس وقت بھی دنیا میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ بین الاقوامی سطح کے بینک ہیں جو سود کے بغیر کامیابی سے چل رہے ہیں۔ یہ عذر صرف ہمارا ہے۔ ہمارے ہاں غیر سودی نظام کو قبول نہ کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بین الاقوامی اداروں کے ایجنٹ بیٹھے ہوئے ہیں اور کیمشنوں کی بات ہے، عیاشی کا معاملہ ہے۔ غریب آدمی مر رہا ہے اور اسے کوئی پوچھتا نہیں، اور یہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگ سودی نظام کے سارے مفادات اور کمیشن اور دلالی اور سارے تعیشات اور سہولتیں اٹھا کر ایک طبقے نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اور یہ لوگ اپنی خواہشات اور مفادات کے لیے موجودہ سسٹم تبدیل نہیں ہونے دے رہے۔ یہ ایک طبقہ ہے جو کل ملا کر تین چار ہزار لوگ ہیں، جو بااثر ہیں اور انہیں اپنے مفادات، اپنی عیاشیاں اور اپنی بدمعاشیاں عزیز ہیں، انہی اغراض کے لیے یہ سسٹم ہم پر مسلط کیا ہوا ہے۔
ہمارے ہاں ایک عرصے سے عدالتوں میں یہ جنگ جاری تھی، ملک کے دینی حلقے، دینی جماعتیں، دیندار عوام چاہتے تھے کہ اس ملک سے سود کا نظام ختم ہو۔ کیوں جی آپ سود کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا آپ خدا کے ساتھ حالتِ جنگ میں رہنا چاہتے ہیں یا غیر سودی نظام چاہتے ہیں؟ ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہم خدا کے ساتھ حالتِ جنگ میں بھی ہیں اور خدا سے مدد بھی مانگ رہے ہیں۔ کوئی صحیح مسلمان تو یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ سود کا نظام قائم رہے۔
آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ اور اس بات پر پاکستان کے دینی حلقے اور پاکستان کے دیندار عوام یہ جنگ جیت گئے ہیں کہ سود اسلام کے خلاف ہے، قرآن و سنت کے خلاف ہے، اور اس ملک میں سود کی گنجائش نہیں ہے۔ اب اندرونی و بیرونی رکاوٹیں آئیں گی تو ان سے مقابلہ ہوگا لیکن ان شاء اللہ العزیز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں، دنیا بھر کے مسلم ممالک میں، وہ وقت آنے والا ہے کہ یہ سود کا سسٹم ختم ہوگا، خلافت کا نظام قائم ہوگا، اسلام نافذ ہوگا اور قرآن و سنت کی حکمرانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اس فیصلے کو پاکستان کے لیے اور عالمِ اسلام کے لیے باعثِ برکت بنائے۔ آمین۔ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ججوں کو مبارکباد دیتے ہیں، اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اب مزید اپیل کی حماقت نہ کرے۔
جیسا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے، ججوں نے کہا ہے، ۳۱ مارچ تک یہ سودی سسٹم بدلیں، متبادل سسٹم موجود ہے، ساری تیاری ہو چکی ہے، یہ صرف ذاتی مفادات اور بیرونی اشارے ہیں جو اس تبدیلی میں رکاوٹ ہیں۔ امریکہ کی غلامی کرو گے، آئی ایم ایف کی غلامی کرو گے، اور ورلڈ بینک کی غلامی کرو گے تو یہ گند چلتا ہی رہے گا۔ ان کی غلامی سے نکلو، اللہ رسول کی غلامی اختیار کرو، ان شاء اللہ العزیز برکتیں ہی برکتیں ہوں گی، اس کا قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے وعدہ کر رکھا ہے۔ تورات کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر یہ تورات کو نافذ کرتے ’’لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلہم‘‘ زمین بھی رزق اگلتی، آسمان بھی رزق برساتا۔ ہماری تو حکمرانوں سے یہی درخواست ہے کہ ورلڈ بینک کی منتیں کرنے کی بجائے، آئی ایم ایف کے سامنے کشکول رکھنے کی بجائے، امریکہ کے سامنے سر جھکانے کی بجائے، ایک اللہ سے صلح کر لو۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس سے سارے مسئلے ٹھیک ہو جائیں گے۔ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا معاملہ ٹھیک کر لو، اسلامی نظام کو اپنا لو، ان شاء اللہ العزیز سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ان گزارشات کے ساتھ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر میں آپ سب کو مبارک باد بھی دیتا ہوں اور ہم سب خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ججوں کو مبارک باد بھی پیش کرتے ہیں۔

