(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، جمعۃ المبارک کا دن ہے، یہ بتائیں کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدوں کی حمایت انصاف کی بات ہے یا ظلم کی؟ آخر ان کا قصور کیا ہے اور روس کس جرم میں چیچنیا کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اللہ تعالیٰ چیچنیا کے مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے، انہیں سلامت رکھے، اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے۔ اگر ہم ان کے ساتھ چل کر ان کے شانہ بشانہ وہاں لڑ نہیں سکتے تو یہ اضعف الایمان ہے کہ کم از کم ان کی حمایت میں کلمہ حق تو بلند کریں، ان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا تو کریں کہ یہ تو ایمان کا کم سے کم درجہ ہے ’’ولیس وراء ذالک من الایمان حبۃ خردل‘‘۔
ہمارے حکمرانوں نے ہمیں کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہنے دیا۔ جب ہمیں روس کے مقابلے میں افغانستان میں ضرورت تھی تو دنیا بھر سے مجاہدین آتے تھے اور ہم نے خود راستے کھولے تھے، اور جب آج چیچنیا کے مسلمانوں کو روس کے مقابلے میں مسلمانوں کی امداد کی ضرورت ہے تو ہماری یہ منافق مسلمان حکومتیں مسلمان مجاہدین کے وہاں جانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ یہ بھی لوگ یہاں آکر افغانستان میں روس کے خلاف لڑے تھے۔ ان کا حق تو یہ ہے کہ ہم بھی وہاں جائیں اور ان کے شانہ بشانہ لڑیں، لیکن اگر یہ ہم نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کی حمایت تو کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا تو کریں۔
لیکن ہمارا حال تو یہ ہے کہ آپ نے اخبارات میں آج ایک چھوٹی سی چار سطروں کی خبر پڑھی ہوگی کہ چیچنیا کے سابق صدر سلیم خان چیچنیا کی حکومت کے نمائندے کے طور پر ایک ہفتے سے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ کراچی میں علماء سے ملے، دینی جماعتوں سے ملے، اسلام آباد گئے جہاں ہمارے سرکاری اداروں نے سلیم خان کو ہوٹل سے گرفتار کیا اور گیارہ گھنٹے ان کو زیر حراست رکھ سلیم خان اور ان کے ساتھیوں پر تشدد کیا کہ یہ جاسوس ہیں۔ جو چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنا سب سے بڑا حمایتی سمجھ کر یہاں کے علماء اور دینی کارکنوں سے ملنے کے لیے آیا ہے، اسے اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا۔ آج راولپنڈی کے ایک اخبار نے سلیم خان کے ایک ساتھی کی پشت کی تصویر شائع کی ہے، جیسے ہمارے ہاں تھانوں میں لٹا کر کسی نشئی اور کسی مجرم کو چھتر مارے جاتے ہیں، اُس غریب کا وہ حشر کیا ہے۔ اس کے بعد یہ کہا گیا کہ ہمیں غلط فہمی ہوئی تھی، اس لیے ہم رہا کر رہے ہیں۔ لعنت ہے ایسا اقدام کرنے والوں پر، اور لعنت ہے اس پر خاموشی اختیار کرنے والوں پر۔ ہمارے قومی اخبارات نے یہ بات شائع نہیں کی، جبکہ اوصاف اخبار نے کل بھی اور پرسوں بھی یہ رپورٹ کی ہے۔ وزیر داخلہ نے اخبارات کو منع کیا ہے کہ یہ خبر مت چھاپنا، لیکن اسلام آباد کے اخبار نے یہ رپورٹ تفصیل سے چھاپی ہے اور سلیم خان کا انٹرویو بھی چھپا ہے کہ ہمارا ساتھ اسلام آباد میں کیا معاملہ ہوا۔

