توہینِ رسالت کے قانون کے ساتھ امتیازی سلوک

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۸ اپریل ۲٠٠٠ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

توہینِ رسالت کی سزا کے حوالے سے قانون کا قصہ کافی عرصے سے چل رہا ہے کہ ہمارے ملک میں دینی حلقوں اور عوام کے مطالبے پر یہ قانون نافذ ہے کہ جو شخص بھی قرآن کریم کی گستاخی کرے گا، یا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا، یا دین کے کسی شعار کی گستاخی کرے گا، تو اس کی سزا موت ہے۔ یہ توہینِ مذہب کا قانون بھی کہلاتا ہے، توہینِ رسالت کا قانون بھی کہلاتا ہے۔ اس پر ساری دنیا چیخ و پکار کر رہی ہے کہ یہ آزادی ٔرائے کے منافی ہے۔ آپ اخبارات میں پڑھتے ہوں گے کہ یہ بی بی سی، وائس آف امریکہ، ٹائم اور نیوز ویک وغیرہ مسلسل شور مچا رہے ہیں کہ یہ قانون آزادئ رائے کے منافی ہے اس لیے اسے ختم کیا جائے۔

ایک سوال جو ہم ان سے بار بار کر رہے ہیں لیکن ان کی طرف سے اس کا جواب نہیں مل رہا کہ بھئی اللہ کے پیغمبر کی توہین کرنا کونسا انسانی حق ہے؟ کسی کی رائے سے اختلاف کرنا تو ایک انسان کا حق ہے، لیکن کسی کو گالی دینا کونسا حق ہے؟ اللہ تعالیٰٰ کی، قرآن کی، اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر کی توہین کرنا، گستاخی کرنا۔ کیا کسی کی توہین کرنا تاریخ میں کبھی بھی انسانی حقوق میں شامل رہی ہے؟

پہلے تو یہ شور مچایا جاتا رہا کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے، یہ آزادئ رائے کے منافی ہے، انسانی حقوق کے منافی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس بین الاقوامی مطالبے کے خلاف ہم پاکستانیوں نے آج سے چند سال قبل ایک ملک گیر ہڑتال کر کے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم اس قانون میں تبدیلی قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ پاکستانی قوم نہیں مان رہی تو انہوں نے کہا ایسا کرو کہ اس قانون پر عمل درآمد کا طریقۂ کار تبدیل کر دو۔ یعنی اگر کسی نے کہیں گستاخی کی ہے تو پولیس براہِ راست مقدمہ درج نہ کر سکے، پہلے ڈی سی کے پاس جائے، ڈی سی انکوائری کرے، وہ یہ بات دیکھے کہ مقدمہ درج ہونا چاہیے یا نہیں، اور ڈی سی اپنی تحقیق کر کے مطمئن ہو جائے کہ واقعی گستاخی ہوئی ہے تو پھر مقدمہ درج ہو۔ مقصد یہ کہ اس طریقۂ کار سے توہینِ رسالت کا یہ قانون غیر مؤثر ہو جائے گا۔ چنانچہ کئی سالوں سے بین الاقوامی لابیاں اور ایجنسیاں یہ کوشش کرتی رہیں اور عملاً‌ اعلان کیے بغیر، ڈکلیئر کیے بغیر، گزشتہ چار پانچ سال سے ہمارے ہاں اس قانون کی عملی صورتحال یہی ہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ موت اس جرم کے لیے سخت سزا ہے، اور یہ کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے، اس لیے ہم نے یہ راستہ اختیار کیا ہے تاکہ کوئی شہری اس قانون کو غلط طور پر استعمال نہ کر سکے۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا موت کی سزا کسی اور جرم میں بھی ہے یا نہیں ہے؟ وہ دوسرے قوانین جن میں موت کی سزا ہے، کیا ان کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے یا نہیں؟ قتل کے جرم کی سزا موت ہے، کیا قتل کے مقدمات سب کے سب ٹھیک ہوتے ہیں؟ آپ ان میں یہ طریقۂ کار کیوں اختیار نہیں کر لیتے؟ قتل کے مقدموں کی ایک بڑی تعداد غلط طور پر درج ہوتی ہے، لیکن وہاں تو پولیس براہِ راست کارروائی کرتی ہے۔ اسی طرح منشیات کی سمگلنگ کی سزا ہمارے ملک میں کیا ہے؟ اس کی سزا بھی موت ہے۔ کیا اس میں بھی سارے مقدمے صحیح درج ہوتے ہیں؟ وہاں پر یہی ’’پریسیڈنس‘‘ کیوں اختیار نہیں کی جاتی؟ اگر اصول یہ ہے کہ یہ سزا سنگین ہے اور قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے اس لیے ہم نے یہ راستہ اختیار کیا ہے، تو پھر جتنے قوانین میں سزا سنگین ہے اور ان کے غلط استعمال ہو رہے ہیں تو سب کے سب میں یہ پراسیس اختیار کرو۔ صرف ایک توہینِ رسالت کے قانون میں یہ پراسیس کیوں اختیار کرتے ہو جو کہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے جبکہ باقی قوانین کے تحت مقدمات تو روز مرہ کی بات ہے۔

بلکہ میں ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ آج سے تقریباً‌ بیس سال قبل تک ہمارے ہاں قتل کے مقدمات میں یہ طریقۂ کار تھا کہ مقدمہ سیشن کورٹ تک جانے سے پہلے ایک مجسٹریٹ اس کی انکوائری کیا کرتا تھا کہ یہ سیشن کورٹ میں جانے کے قابل ہے یا نہیں ہے۔ پرانے لوگوں کو یہ بات یاد ہوگی کہ قتل کا مقدمہ درج ہوتا تھا لیکن چالان سیشن کورٹ میں نہیں جاتا تھا۔ ایک مجسٹریٹ انکوائری کرتا تھا کہ یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں چلنے کے قابل ہے یا نہیں ہے، اس کی توثیق کے بعد وہ کیس سیشن کورٹ میں ایڈمٹ ہوتا تھا۔ وہ پراسیس تم لوگوں نے قانون اور انصاف کے منافی قرار دے کر ختم کیا تھا، وہی پراسیس تم توہینِ رسالت کے قانون میں لے آئے ہو۔

بات صرف اتنی ہے کہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے، بین الاقوامی لابیوں کو خوش کرنے کے لیے اس قسم کی حرکتیں ہمارے حکمران کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں بالکل دوٹوک بات کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی دفعات، ختم نبوت کی دستوری دفعہ، امتناعِ قادیانیت آرڈیننس اور توہینِ رسالت کا قانون، ان دفعات اور قوانین میں ذرہ برابر بھی لچک برداشت نہیں کی جائے گی ان شاء اللہ العزیز۔

2016ء سے
Flag Counter