آزادی، علماء اور نئی پود

   
جولائی ۱۹۹۷ء

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جس طبقے نے آگے بڑھ کر ایثار و قربانی اور عزیمت و استقامت کی روایات کو زندہ کیا اور امتِ مسلمہ کی جرأت مندانہ قیادت کی، وہ بوریہ نشین علماء کرام کا گروہ تھا، جس کی تگ و تاز کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ اس قدسی طائفہ نے سیاست، ثقافت، تعلیم اور عقائد و نظریات سمیت قومی زندگی کے ہر شعبہ میں بدیشی آقاؤں کا مقابلہ کیا اور بے سروسامانی کے باوجود اپنے علمی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو فرنگی کی تہذیبی یلغار سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔

برصغیر کے طول و عرض میں علماء کی جدوجہد اور قربانیوں کو تاریخ کے اوراق سے چننا اور ان کا کوئی جامع مجموعہ قارئین کے سامنے پیش کرنا آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ مختصر صفحات اس کے متحمل ہیں۔ اس لیے ہم نے ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر صرف چند تحریکات اور شخصیات کی جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے فرنگی استعمار کی ہمہ پہلو یلغار اور اس کے مقابلے میں بوریہ نشین ملاؤں کی چومکھی جنگ کا سرسری سا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔

ان میں سے بیشتر تحریریں نئی نہیں ہیں بلکہ تاریخ کے ریکارڈ میں پہلے سے محفوظ ہیں۔ ہم نے صرف ان کا انتخاب کیا ہے تاکہ نئی نسل کے علم میں یہ بات لائی جا سکے کہ ماضی میں ملتِ اسلامیہ کے عقائد و نظریات، سیاست و تہذیب اور آزادی کا تحفظ کرنے والے کون لوگ ہیں؟ اور آج جبکہ ایک نئے عالمی استعمار کے ہاتھوں عالمِ اسلام کی آزادی، وحدت، خودمختاری اور نظریاتی تشخص کو پھر سے چیلنج کا سامنا ہے، قوم کی راہنمائی اور قیادت کا بار کون لوگ اٹھا سکتے ہیں؟

اس موقع پر ہم ملک کے دینی مراکز اور مدارس سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ نئی پود کو اس کے صحیح ماضی اور تحریکِ آزادی کے اصل کرداروں سے متعارف کرانے کا اہتمام کریں تاکہ اسے آزادی کی صحیح قدر و قیمت کا احساس ہو اور اس کے تحفظ کے لیے اپنے عظیم اسلاف کی جدوجہد کی روشنی میں اپنے کردار اور ترجیحات کا بروقت تعین کر سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter