سوال:
جب خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کیا تھا تو پاکستان میں انہیں غیر مسلم شہری کے طور پر قبول کرنے پر اکتفا کیوں کیا گیا ہے؟
جواب:
یہ فیصلہ قیامِ پاکستان کے بعد تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام نے متفقہ طور پر کیا تھا کہ قادیانیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ملک کا شہری تسلیم کیا جائے۔ اور ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختم نبوت کا بنیادی مطالبہ یہی تھا جو ۱۹۷۴ء میں ایک دستوری ترمیم کی صورت میں پارلیمنٹ نے تسلیم کیا اور اس کے بعد سے قادیانی دستوری طور پر پاکستان میں غیر مسلم شہری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کر رہے اور اس کے بعد سے قادیانیوں کے ساتھ ہمارا تنازعہ یہی ہے کہ وہ دستور، پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ تسلیم کرنے کی بجائے ملک میں بطور مسلمان رہنے پر بضد چلے آ رہے ہیں جو ہمارے لیے کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ملک کی اجتماعی دینی قیادت نے یہ مطالبہ کیوں کیا تھا؟ تو میری طالب علمانہ رائے میں اس کی وجہ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی تھا جو بخاری شریف میں اس طرح روایت کیا گیا ہے کہ جب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت کے بڑے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا خط لے کر اس کے دو نمائندے حاضر ہوئے تو ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم مجھے اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ’’نشہد انک رسول اللہ‘‘ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسیلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسے بھی اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’لو لا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما‘‘ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد کوئی شخص کسی اور کو بھی آپؐ کے بعد رسول مانتا ہے تو وہ مرتد ہے اور اس کی سزا قتل ہے۔ لیکن چونکہ اُس وقت کا بین الاقوامی عرف یہ تھا کہ کسی قوم کے سفیر کو قتل نہیں کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اور وہ امن کے ماحول میں واپس گئے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات میں اس وقت کے بین الاقوامی عرف کو تسلیم کرنا چاہیے۔ چنانچہ ہمارے اکابر بزرگوں نے اپنے وقت کے عالمی حالات اور عرف کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق قادیانیوں کے خلاف جہاد کی بجائے انہیں ملک میں غیر مسلم اقلیت کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا اور اب تک ہمارا اجتماعی دینی موقف یہی چلا آ رہا ہے جسے قادیانیوں سے تسلیم کرانا ریاست و حکومت کی بہرحال ذمہ داری ہے۔

