’’سزاؤں اور جنگوں کے قوانین و اخلاقیات‘‘

   
یکم جولائی ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج کے ماحول میں مروجہ عالمی و قومی قوانین معاشرتی معاملات سے مذہب کی لاتعلقی پر تشکیل پاتے ہیں اور چلائے جا رہے ہیں؛ اس لیے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی نے معاشرتی امن و نظم اور عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ عالمی و بین الاقوامی تعلقات و معاملات کے لیے جو قوانین دیے ہیں اور جن پر ہزاروں سال عمل ہوتا رہا ہے وہ قصۂ پارینہ قرار دے کر بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں؛ اور ان کے عملی نفاذ اور ان کی بنیاد پر معاشرہ، قوم اور ریاست کی تشکیل کو معاذ اللہ بے وقت کی راگنی سمجھ کر مسلسل ان کی نفی کی جا رہی ہے۔ جبکہ اسلام آج کے ماحول بلکہ قیامت تک کے لیے انہیں انسانی سوسائٹی کی فلاح اور عدل و انصاف کا معیار قرار دیتا ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ امتِ مسلمہ بحیثیت امتِ مسلمہ ان قوانین و احکام سے دستبردار ہونے کے لیے مجموعی طور پر تیار نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر علاقہ میں امتِ مسلمہ کے اربابِ دین اور اصحابِ علم قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ و تطبیق کا معاشرتی ماحول پھر سے بحال کرنے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں؛ جس میں انہیں مروجہ نظام و قانون کی طرف سے مخالفت بلکہ مزاحمت کا سامنا درپیش ہے اور اس وقت عالمِ اسلام میں اس حوالہ سے عجیب سی فکری و علمی دھماچوکڑی کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔

اس تناظر میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی پر مبنی نظامِ شریعت کو آج کے معروضی حالات میں آج کی قانونی زبان اور اصطلاحات و تعبیرات میں اسی طرح ازسرِنو سامنے لایا جائے جیسے مغل دور میں فتاویٰ عالمگیری کی صورت میں اس وقت کی اہم ترین علمی و فقہی ضرورت کو پورا کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں بہت سے اہلِ علم نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس خلا کو پر کرنے کی اپنی حد تک کوشش کی ہے جو لائقِ تحسین ہے؛ اور زیرِنظر تصنیف ’’سزاؤں اور جنگوں کے قوانین و اخلاقیات‘‘ اسی سمت ایک قدم دکھائی دیتی ہے جو ہمارے فاضل مفتی نذیر احمد خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی کاوش ہے؛ اور ہمارے لیے خوشی کی ایک بات یہ بھی ہے کہ موصوف مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈووکیٹ بھی ہیں۔

ہم ایک عرصہ سے یہ گزارش کر رہے ہیں کہ مروجہ قوانین اور اسلامی شریعت کے فہم و ادراک اور تفہیم و تشریح کے لیے فقہی احکام اور مروجہ قوانین کے ماہرین کی مشترکہ کاوش ناگزیر ہے تاکہ شریعتِ اسلامیہ کو آج کے دور کی ضروریات اور ماحول کے تناظر میں صحیح طور پر مکمل توازن کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ ہم مولانا مفتی نذیر احمد خان ایڈووکیٹ کی اس کاوش کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی اس کاوش کو قبولیت اور مقبولیت سے نوازیں اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter