یہ ووٹ کیا ہے؟ یہ شہادت ہے، گواہی ہے۔ یہ بات کہ میں ایک شخص کو ایک منصب کے لیے ووٹ دے رہا ہوں، یہ میری طرف سے شہادت ہے کہ میں اس شخص کو اس منصب کا اہل سمجھتا ہوں۔ ایک عوامی منصب کے لیے چار پانچ آدمی امیدوار کے طور پر کھڑے ہیں، اور میں جا کر ووٹ کی صورت میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ ان چار پانچ آدمیوں میں سے میں فلاں آدمی کو اس منصب کا اہل سمجھتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’والذين لا یشہدون الزور‘‘ (الفرقان ۷۲) کہ ایمان والے وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ جھوٹی گواہی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ ہم دھڑے پر، برادری پر، گروپ پر، دھڑلے سے جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کس لیے بنتی ہے؟ قومی اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ ایمانداری سے بتائیے، تقریباً ہم سب نے کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو ووٹ دیا ہے، کبھی ہم نے ایک لمحے کے لیے یہ بات سوچی ہے کہ جس شخص کو ہم ووٹ دے رہے ہیں، آیا وہ قانون کا معنی بھی جانتا ہے کہ ہم اسے قانون بنانے کے لیے بھیج رہے ہیں؟ میں قانون بنانے کے لیے ایک آدمی کو اس کا اہل سمجھ کر شہادت دے رہا ہوں کہ یہ شخص قانون سازی کا اہل ہے۔
کیا کبھی کوئی شخص اپنی گاڑی ٹھیک کرنے کے لیے کسی اناڑی مکینک کو بلاتا ہے؟ جب تک مجھے تسلی نہ ہو جائے کہ یہ مکینک ماہر نہیں ہے اور میری گاڑی کا بیڑہ غرق نہیں کرے گا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اسے اپنی گاڑی کو ہاتھ لگانے دوں۔ اور ملک کی گاڑی چلانے کے لیے ہم اپنے دھڑے کی خاطر، اپنی برادری کی خاطر ایسے لوگوں کو منتخب کر لیتے ہیں جس نے بس قانون نام کی مشنری کا نام ہی سنا ہے، اسے اس کے متعلق پتہ کچھ نہیں ہے۔ یہ بھی ’’شہادة الزور‘‘ ہے، جھوٹی گواہی ہے۔ ہم علی الاعلان یہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد بھگتتے بھی ہیں۔ کیا خیال ہے، ہم ایسے لوگوں کو بھگتتے ہیں یا نہیں؟ اور جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کر لیتے بھگتتے ہی رہیں گے۔
اگر میں اپنے گھر کی خراب مشین کو ٹھیک کرنے کے لیے کسی اناڑی مستری کو لے آؤں گا تو اس کے نتیجہ کون بھگتے گا؟ ظاہر بات ہے کہ میں خود ہی بھگتوں گا۔ اسی طرح اگر ہم بحیثیت قوم ان مناصب کے اہل اور قابل لوگوں کو نہیں منتخب کریں گے، اس کے نتائج اسی طرح بھگتتے رہیں گے جس طرح ہم گزشتہ پچاس سال سے بھگت رہے ہیں۔

