’’فاعتبروا يا اولی الابصار‘‘

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۱ ستمبر ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

یہ واقعہ آپ لوگوں نے پڑھ بھی لیا ہے اور دیکھ بھی لیا ہے، اس واقعہ کے مختلف پہلو ہیں۔

ایک پہلو تو ہے انسانی جانوں کا، بے گناہ انسانی جان دنیا کے کسی حصے میں بھی ضائع ہو وہ قابلِ مذمت ہے اور قابل افسوس ہے۔ کشمیر میں ہو، فلسطین میں ہو، چیچنیا میں ہو، بوسنیا میں ہو، ہیروشیما میں ہو، ناگاساکی میں ہو، نہتے اور بے گناہ شہری دنیا کے کسی حصے میں بھی مریں، وہ قابلِ افسوس ہے اور قابلِ مذمت ہے، اور یہ ساری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

اس واقعہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ میں جو کچھ بھی ہوا ہے، اس کی سنگینی سے انکار نہیں ہے، لیکن یہ عمل نہیں ہے بلکہ ردِ عمل ہے۔ یہ واقعہ جس ایکشن کا ری ایکشن ہے وہ دراصل کیا ہے؟ جس جبر، جس ظلم، جس ناانصافی، جس تشدد، جس دہشت گردی کے نتیجے میں یہ ہوا ہے، وہ کیا ہے؟ دنیا پر زبردستی چودھراہٹ مسلط کرنے کی کوشش، ہر قوم کو اسلحے کے زور پر، طاقت کے زور پر، دولت کے ہیرپھیر سے غلام بنانے کی خواہش، یہ واقعہ اس کا نتیجہ ہے۔ امریکہ نہیں، دنیا کی کوئی بھی طاقت کرے گی، اس کا ردِعمل ایسا ہی ہوگا۔ جو کچھ گزشتہ پون صدی سے امریکہ کر رہا ہے، کوئی بھی قوم کرے گی، اس کا خمیازہ ایسے واقعات کی صورت میں ہوگا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ تو بڑا بول کسی کا بھی پسند نہیں کرتے۔ نمرود نے کہا تھا کہ زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ غرور کس سے تڑوایا تھا؟ اس نے کہا تھا ’’انا اُحيی و اُميت‘‘ کہ میں زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا غرور ایک مچھر سے تڑوایا۔ فرعون نے کہا تھا ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔ اس کا غرور جا کر پانی کے اندر بے بسی کی حالت میں ٹوٹا۔ آج بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم سپر پاور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سپرپاور کا بھرم اس واقعہ سے توڑا۔ ’’فاعتبروا يا اولی الابصار‘‘۔ جو طاقت گیارہ ستمبر سے پہلے اس بات کی دعوے دار تھی کہ اس کا نظام اتنا مکمل ہے کہ کوئی چڑیا بھی پَر نہیں مار سکتی۔ یہ عبرت کا مقام بھی ہے اور سبق سیکھنے کا مقام بھی ہے۔

جو لوگ ان حادثات میں فوت ہوئے ہیں اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ہے، یہ لوگ بے گناہ مارے گئے ہیں جس پر ہمیں افسوس ہے۔ ان میں سے جو مسلمان ہیں وہ مغفرت کے مستحق ہیں، ہم ان کی مغفرت کے لیے دعاگو ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم امریکہ سے اور اس کے حمایتیوں سے یہ عرض کریں گے کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرو، دنیا کو تباہی کی طرف لانے والا راستہ چھوڑو، اور دنیا بھر کی مظلوم اقوام کے ساتھ انسانوں والا معاملہ کرو، تاکہ یہ ستم زدہ لوگ تمہارے ساتھ بھی انسانوں والا معاملہ کریں۔

2016ء سے
Flag Counter