بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش کی دینی و قومی تحریکات میں علماء لدھیانہ کا کردار ہمیشہ ہراول دستے کا رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں قوم و ملت کی نہ صرف صحیح سمت راہ نمائی کی ہے بلکہ خود بھی جدوجہد اور محنت کے میدان میں سرفہرست رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا معرکہ ہو، مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مدعیانِ نبوت کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا محاسبہ و تعاقب ہو، یا مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا میدان ہو، ہر جگہ لدھیانہ کے علماء کرام اور ان کے اکابر کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ کے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
علماء لدھیانہ کے مختلف خاندانوں کے ساتھ دینی و قومی جدوجہد میں مجھے بھی رفاقت اور شرکت کا اعزاز حاصل ہے اور میں ان کے عزم و حوصلہ اور جرأت و استحکام کا عینی گواہ ہوں۔ دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجتماع کے موقع پر بھارت کے مختلف شہروں میں حاضری کا موقع ملا تو لدھیانہ میں رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے گھر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن اور حضرت مولانا سعید الرحمٰن رحمہما اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقاتوں اور ان کی میزبانی سے استفادہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوا۔
اس خاندان کے ایک باشعور عالم دین حضرت مولانا مفتی صدام حسین لدھیانوی نے کم و بیش دو صدیوں پر محیط اس عظیم تاریخی داستان کو ’’کاروانِ علماءِ لدھیانہ‘‘ میں خوبصورتی کے ساتھ جمع و مرتب کر کے نئی نسل پر احسان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائیں اور ہماری نئی نسل کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

