نعمتوں کا احساس اور ان کا درست استعمال

   
جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور
۴ مئی ۲۰۲۶ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک تابعی بزرگ تھے جن کا نام انہوں نے جویبر بیان کیا ہے، وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ تھا، میں مدینہ منورہ امیر المومنین کی مجلس میں حاضر ہوا، میری کچھ ضروریات اور تقاضے تھے جو میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ دور کے علاقے سے آیا ہوں اور مجھے ان چیزوں کی ضرورت تھی، یہ عطا فرما دیں۔ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ پاک نے گفتگو کا ڈھنگ دیا تھا — بعض لوگوں کو گفتگو کا سلیقہ ہوتا ہے، کمزور سی بات بڑے اچھے طریقے سے بیان کر لیتے ہیں — میں نے حضرت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کھڑے ہو کر اچھی خاصی تقریر جھاڑ دی کہ میں اس کام کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ چاہیے، یہ چاہیے۔ اور ساتھ میں نے اپنی بات بنانے کے لیے دنیا کی چیزوں کی مذمت شروع کر دی کہ یہ گندی اور غلط چیزیں ہیں، دنیا کی چیزوں کی برائی اورنحوست بیان کی۔ میں نے خوب خطابت کا رنگ جمایا اور آخر میں عرض کیا کہ یہی کچھ مانگنے آیا ہوں، مجھے عطا فرما دیں کہ یہ میری ضرورت ہے۔

کہتے ہیں کہ پاس ایک بابا جی بیٹھے تھے، سفید ریش اور سفید لباس بزرگ تھے۔ انہوں نے مجھے ٹوکا کہ اللہ کے بندے! یہ کیا کر رہے ہو، دنیا کی اتنی مذمت اور برائی بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دنیا گندی چیز نہیں ہے، دنیا تو اللہ کی نعمت ہے۔ اللہ کی نعمت کو صحیح جگہ استعمال کرو گے تو اللہ کی نعمت ہے، صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرو گے تو آزمائش ہے، یہ خرابی نعمت میں نہیں ہے بلکہ استعمال میں ہے۔ اللہ پاک نے اتنی نعمتیں دی ہیں، ارشاد فرمایا: ’’ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہا‘‘ (النحل ۱۸) میں نے تم پر اتنی نعمتیں نازل کی ہیں، اتنا کچھ دیا ہے کہ تم شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔

اور واقعتاً‌، کیا اللہ کی نعمتیں ہم شمار کر سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ انسانی جسم ہے پانچ ساڑھے پانچ یا چھ فٹ کا، ڈیڑھ دو من کے اعضاء اور ہڈیاں ہیں، ایک مستقل سائنس اس وجود کی نعمتوں کو گننے پر لگی ہوئی ہے۔ میڈیکل سائنس کب سے اسی کام پر لگی ہوئی ہے، اس کا موضوع کیا ہے؟ انسانی باڈی میں کیا ہے؟ کیسے صحیح رہتی ہے؟ کیسے خراب ہوتی ہے؟ پھر کیسے صحیح کی جاتی ہے؟ ہڈیاں کیا کرتی ہیں؟ گوشت کیا کرتا ہے؟ ناخن کیا کرتے ہیں؟ میڈیکل سائنس ہزارہا سال سے اس کی ریسرچ میں لگی ہوئی ہے لیکن کیا یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہے کہ انسان کے وجود کی ساری صلاحیتیں ہمارے علم میں آ چکی ہیں اور کسی مزید خفیہ صلاحیت کی دریافت کا امکان نہیں ہے؟ آج بھی میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ یہ چیز بھی موجود تھی جس کا پہلے ہمیں پتہ نہیں تھا، پٹھوں میں یہ تھا، ناخن میں یہ ہے، وغیرہ، ہر چند سالوں بعد کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے۔

میرا سوال یہ ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس ہزارہا برس سے ، پہلے طب کے نام سے، اب میڈیکل سائنس کے نام سے ، انسان کے ساڑھے پانچ چھ فٹ اور ڈیڑھ دو من کے وجود کی چیزیں گننے میں لگی ہوئی ہے، لیکن کیا آج کی جدید ترین میڈیکل سائنس یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ انسان کے وجود کی ساری نعمتیں ہمارے علم میں آ چکی ہیں اور کسی نئی چیز کا کوئی امکان نہیں ہے ’’وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوہا‘‘ کہ تم تو اپنے وجود کے اندر کی نعمتیں بھی شمار نہیں کر سکتے کہ اللہ نے تمہارے اندر کیا کچھ چھپا کے رکھا ہوا ہے۔

حضرت جویبرؓ کہتے ہیں کہ ان بابا جی نے کہا کہ دنیا اللہ کی نعمت ہے اور نعمت بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال برا ہوتا ہے، اللہ کی نعمتوں کی برائی نہیں کرنی چاہیے، یہ ناشکری ہے۔ پھر انہوں نے نعمتوں کے فائدے گنوائے کہ مثلاً‌ اللہ پاک نے دولت دی ہے، اگر اسے آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرو تو کیا یہ بری چیز ہے؟ اور اپنی زندگی کو اچھا بنانا بھی اللہ کی نعمت ہے کہ اپنے اوپر استعمال کرو اور سہولت اختیار کرو۔

ایک اور حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے، ایک صاحب سامنے سے گزرے، میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے، بال الجھے ہوئے، کئی دنوں سے نہائے نہیں ہیں، دھول جمی ہوئی ہے۔ حضورؐ نے بلایا: اللہ کے بندے! تیرے پاس اتنی توفیق بھی نہیں ہے کہ نہا دھو کے ایک درہم کا تیل لے کے سر پہ لگا لو؟ تو وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا فرما رہے ہیں؟ میرے پاس اتنے اونٹ ہیں، اتنی بکریاں ہیں، اتنی گائے ہیں، میں تو ٹھیک ٹھاک مالدار آدمی ہوں، کھاتا پیتا آدمی ہوں، میں جانوروں کا کاروبار کرتا ہوں۔ تو حضورؐ نے ایک جملہ فرمایا: ’’فلیر علیک اثر نعمۃ اللہ وکرامتہ‘‘ (سنن نسائی ۵۲۲۶) اللہ پاک نے تجھے نعمتیں دی ہیں تو اس کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہیے۔ یعنی پتہ لگنا چاہیے کہ کھاتا پیتا آدمی ہے، تکبر نہ کرے لیکن صاف ستھرا لباس تو پہنے۔ 

یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے فرمائی کہ اگر چار پیسے ہیں تو کپڑے اچھے پہنو، نہاؤ دھوو، سر کے بالوں پر کنگھی پھیرو، تیل وغیرہ لگاؤ۔ لیکن میں اس کو ایک اور حوالے سے عرض کیا کرتا ہوں، کیونکہ علماء اور طلباء تشریف فرما ہیں، علماء کرام اور بالخصوص طلباء سے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اللہ نے جو نعمت آپ کو دی ہے، اس کا اثر آپ پر بھی نظر آنا چاہیے۔ اللہ پاک نے آپ کو کون سی نعمت دی ہے؟ قرآن و سنت کی، علم کی، تو کیا اس کے اثرات آپ پر نظر نہیں آنے چاہئیں؟ اللہ کی نعمت جسم پر، لباس میں، گفتگو میں، اور چلنے پھرنے میں نظر آنی چاہیے کہ مولوی صاحب جا رہے ہیں۔

خیر، درمیان میں یہ بات آ گئی۔ جویبر کہتے ہیں کہ بابا جی نے مجھے منع کیا اور ڈانٹا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور برائی نہیں کرتے کیونکہ خرابی نعمتوں میں نہیں ہے بلکہ استعمال میں ہے۔ کسی بھی نعمت کو اگر اچھے طریقے سے استعمال کرو گے، اللہ کے حکم کے مطابق اور صحیح موقع پر، تو اس سے بڑی نعمت کیا ہے؟ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت کو بھی — جیسے انسان کی صحت ہے — غلط استعمال کرو گے تو خرابی پیدا ہوگی۔ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اور قول امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ ’’اصلحوا مما رزقکم اللہ‘‘ اللہ نے جو دیا ہے اس کو اچھے طریقے سے استعمال کرو۔ اللہ نے صحت دی ہے، جوانی دی ہے، عمر دی ہے، مال و دولت دیے ہیں، عزت دی ہے، عہدہ دیا ہے، یہ ساری نعمتیں ہیں۔ اللہ پاک نے تمہیں جو حیثیت یا مال و دولت دیے ہیں، اس کو اچھے طریقے سے استعمال کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اللہ کے شکر کے حوالے سے اصول کیا ہے؟ ’’لئن شکرتم لازیدنکم‘‘(ابراہیم ۷)  میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔ ایک جگہ اللہ پاک نے بڑی عجیب بات کہی ہے: ’’ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم واٰمنتم‘‘(النساء ۱۴۷)  تم شکر ادا کرو اور ایمان پر قائم رہو تو میں تمہیں سزا دے کر کیا کروں گا؟

جویبر کہتے ہیں کہ مجھے بابا جی نے ڈانٹا اور سمجھایا تو میں نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ بابا جی کون ہیں جنہوں نے میری اچھی خاصی اصلاح کر دی ہے، میں نے تو بڑا زور لگا کے تقریر کی تھی اور دنیا کی مذمت بیان کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’سید المسلمین ابی بن کعبؓ‘‘ یہ مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں، قاریوں کے بھی سردار ہیں۔ حضرت ابی بن کعبؓ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خطاب دیا تھا؟ ’’اقرؤہم ابی‘‘ میرے صحابہؓ میں سب سے اچھا قاری ابی بن کعبؓ ہے۔ اللہ پاک نے بڑی عظمتیں عطا کی تھیں۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ابی بن کعب ہے اور اس نے تمہیں صحیح بات سمجھائی ہے۔

جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے، ان کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، ان کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ استعمال صحیح طریقے سے کریں گے تو اس نعمت کے حسن میں اضافہ ہوگا۔ استعمال اگر غلط طریقے سے کریں گے، قدردانی نہیں کریں گے، شکر ادا نہیں کریں گے، اللہ پاک کے حکم کی تعمیل نہیں کریں گے، تو یہی نعمت عذاب کا باعث بن جائے گی۔ ایک بات مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ ایک انسان کے لیے بیوی اور اولاد سے بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم‘‘سب تمہارے لیے نعمت نہیں ہیں، ان میں کچھ دشمن بھی ہیں کہ بعض بیویاں دشمن بھی ہوتی ہیں، بعض اولاد دشمن بھی ہوتی ہے۔ اس کا کیا مطلب؟ وہی کہ اگر نعمت کا استعمال صحیح ہوگا اور اس کے ساتھ ڈیلنگ صحیح کریں گے تو یہ نعمت ہو گی، اور اگر اس کے ساتھ تمہارا رویہ ٹھیک نہیں ہوگا، اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق نہیں ہوگا، تو یہی نعمت عذاب بن جائے گی۔ تو دشمن کیا ہوتا ہے؟ عذاب ہی ہوتا ہے۔

ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے دنیا کی جو نعمتیں دی ہیں، ان کی ناقدری اور حقارت نہیں کرنی چاہیے، انہیں صحیح استعمال کی کوشش کرنی چاہیے، فائدہ اٹھانا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: ’’لئن شکرتم لازیدنکم‘‘ اگر میری نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو میں نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔ اور لیکن دوسری بات بھی ہے: ’’ولئن کفرتم ان عذابی لشدید‘‘ انہی نعمتوں کی اگر ناقدری کرو گے تو عذاب بھی بڑا سخت دیا کرتا ہوں۔ اللہ پاک ہمیں اپنی نعمتوں کے احساس اور ان کے صحیح استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔

2016ء سے
Flag Counter