حضرت مدنیؒ کی زندگی کے نمایاں پہلو

   
بزم شیخ الہندؒ، گوجرانوالہ
۱۸ نومبر ۲۰۲۵ء

(بزم شیخ الہندؒ گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۱۸ نومبر ۲۰۲۵ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے خطاب فرمایا جسے مدیر بزم شیخ الہند مولانا حافظ خرم شہزاد نے نقل کیا، بغرضِ افادہ نذرِ قارئین ہے۔    ماہنامہ الجمعیۃ، راولپنڈی)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بزمِ شیخ الہندؒ گوجرانوالہ اور اپنے عزیز بھائی اور ساتھی حافظ خرم شہزاد صاحب کا شکرگزار ہوں کہ وقتاً‌ فوقتاً‌ اپنے اکابر میں سے کسی نہ کسی بزرگ کے عنوان سے ہمیں اکٹھا کرتے ہیں، مختلف اصحابِ دانش سے، ہمیں ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور ہمارے ایمان اور عزم میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ بزمِ شیخ الہندؒ کی اس محنت کو قبولیت و برکات سے نوازے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

آج کی یہ نشست شیخ الاسلام، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمات اور ان کی محنت کے حوالے سے منعقد کی گئی ہے۔ مجھ سے پہلے ہمارے فاضل دوستوں جناب پروفیسر امجد علی شاکر صاحب اور پروفیسر حافظ غضنفر عزیز صاحب اور دوسرے اکابر نے بڑی تفصیل سے بات کی ہے اور میرے بعد حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، وہ دعا بھی فرمائیں گے اور تذکرہ بھی فرمائیں گے۔ میں بالکل اختصار کے ساتھ دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ کہ ہمیں اپنے بزرگوں کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔ قرآن پاک نے بھی یہی اسلوب دیا ہے کہ صرف پہلی امتوں کے واقعات ہی نہیں بیان کیے بلکہ پہلے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیم اور اہلِ حق کے واقعات بھی بیان کیے ہیں، ان کی تعلیمات بھی بیان کی ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ جوڑے رکھا ہے۔ اپنے ماضی کے ساتھ جڑے رہنا اور اپنے بزرگوں کو یاد کرنا، یہ ہماری روایت کا حصہ ہے اور یہ روایت اس لیے بھی ہے کہ ہم صرف علوم منتقل نہیں کرتے بلکہ علوم کے ساتھ وہ ماحول بھی ہمیں ملا ہے اور اس ماحول کو بھی منتقل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بیسیوں پہلو ہیں لیکن میں تین پہلوؤں پر مختصر عرض کروں گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا ان سے تعلق کیا ہے؟ میں اپنی بات کرتا ہوں کہ وہ میرے دادا استاد ہیں۔ میں حدیث کا طالب علم ہوں اور پڑھنے پڑھانے کا تھوڑا شغل ہے۔ ہمارے پاس والد محترم کے ساتھ سب سے بڑا حوالہ حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ ہیں۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمۃ اللہ علیہ دونوں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور ہمیں ان کی نسبت سے حدیث کی روایت میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اور الحمد للہ، اللہ پاک نے فضل فرمایا ہے کہ ہمارا یہ مشغلہ شب و روز چلتا رہتا ہے اور یہ سارا مشغلہ حضرت مدنی رحمہ اللہ کے جوتوں کی برکت ہے۔ انہوں نے دیوبند میں ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ مسجد نبوی میں بھی حدیث مسلسل پڑھائی ہے اور حدیث کے اساتذہ میں ان کا ایک عظیم مقام ہے۔

تو ہمارا حضرت مدنیؒ رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ سب سے بڑا اور سب سے پہلا تعلق یہ ہے کہ وہ ہمارے دادا استاد ہیں۔ ہمیں جو کچھ بھی تھوڑا بہت حاصل ہوا ہے وہ حضرت والد صاحبؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ سے حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ ایک تعلق ہمارا یہ ہے اور یہ دائمی تعلق ہے۔

دوسرا تعلق یہ ہے کہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک دائرہ اور مشن تعلیم کا تھا، دوسرا مشن آزادی کی جنگ تھا۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آزادی کی جنگ کی قیادت سنبھالی اور اس کا حق ادا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے، انہوں نے آزادی کی جنگ کی قیادت کا حق ادا کیا۔ ہندوستان کو، اس برصغیر کو، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، برما اور اس سے ملحقہ خطے کی آزادی کے لیے جو علماء کرام نے جنگ لڑی ہے، اس میں شیخ الہندؒ کے بعد سب سے بڑے قائد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ ابھی جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم اپنی گفتگو فرما رہے تھے اور میں بھی اس بات کا حوالہ دوں گا کہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ شرط لگا دی تھی کہ میں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں آزاد ہوں گا اور انہوں نے واقعی آزادی کی جنگ کی قیادت کی، قربانیاں دیں اور جدوجہد کی۔ یہ بھی ہمارا ان سے بہت بڑا رشتہ ہے اور آج کے معروضی حالات میں ہمارا یہ رشتہ سب سے زیادہ توجہ کے قابل ہے۔

میں اپنے نوجوان علماء سے عرض کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے آزادی کے حصول کی جنگ لڑی تھی، ہمیں بھی آزادی کی جنگ یعنی آزادی کے تحفظ کا مرحلہ درپیش ہے۔ اس آزادی کو مکمل کیسے کرنا ہے اور بچانا کیسے ہے؟ آج ہماری آزادی ایک عنوان بن کر رہ گئی ہے اور اس کے اردگرد جو جال بنے گئے ہیں اور جو جال بنے جا رہے ہیں اور جو کچھ ہمارے اردگرد شکنجہ کسا جا رہا ہے جس کو مختلف لفظوں میں پاکستان بننے کے بعد ہماری آزادی ریموٹ کنٹرول میں چلی گئی تھی، اب وہ ترقی کر کے روبوٹ کنٹرول پہ آ گئی ہے۔ ہم آزادی کے تحفظ، اس کی تکمیل، اس معرکے میں ہیں اور ہمارے لیے حضرت مدنی رحمہ اللہ کی قربانیاں، ان کی خدمات اور جدوجہد مشعلِ راہ ہیں۔

لہٰذا ہمارا ان کے ساتھ دوسرا تعلق یہ ہے کہ وہ آزادی کی جنگ کے قائد تھے۔ آج ہمیں بھی وہی مسئلہ درپیش ہے۔ ہم آزادی کو بچانے اور اسے مکمل کرنے کے معرکے میں ہیں۔ ویسے تو ہمارے تمام اکابر ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں لیکن جنگِ آزادی میں بالخصوص حضرت مدنی رحمہ اللہ کی قربانیاں، ان کا ایثار اور ان کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

تیسری بات جس کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ حضرت مدنی رحمہ اللہ علیہ کا ایک مشن اور بھی تھا، انہوں نے اپنے استاد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور مشن کو بھی سنبھالا تھا۔ یہ جو قدیم اور جدید کی تفریق پیدا کر دی گئی تھی، علی گڑھ اور دیوبند کی، اس تفریق کو مٹانے اور ایک ٹریک پہ لانے کے کام کا آغاز تو حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی میں کر دیا تھا اور بہت حد تک انہوں نے آزادی کی جنگ اور سیاسی جدوجہد میں دونوں کو ایک ٹریک پر لانے میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن اس کو پھر سنبھالا حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز نے۔ اور میں اس میں اکثر حوالہ دیا کرتا ہوں کہ وہ جب مالٹا کی قید سے رہا ہو کر آئے تو انہوں نے آسام کو اپنا مرکز بنایا اور ایک بڑا تعلیمی ادارہ بنانے کا پروگرام طے کیا۔ انہوں نے اٹھارہ سال کا ایک نصاب بھی ترتیب دیا تھا، نصابِ مدنی کے عنوان سے اسے چھپوایا بھی تھا۔ بہرحال تقدیر کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، دارالعلوم دیوبند کے حالات نے انہیں دارالعلوم آنے پر مجبور کیا اور وہ تشریف لائے۔

مجھے کئی دفعہ سلہٹ (بنگلہ دیش) جانے کا اتفاق ہوا ہے، لیکن اتفاق کی بات ہے کہ ایک دفعہ میں سلہٹ گیا تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ جس مسجد میں قیام پذیر تھے اور جہاں ہر سال جا کر اعتکاف بیٹھا کرتے تھے، اس مدرسے کی لائبریری میں اپنی عادت کے مطابق تلاش کرتے کرتے مجھے حضرت مدنیؒ کا لکھا ہوا واہ مطبوعہ نصاب وہاں سے ملا، میں یہاں پاکستان لایا۔

تو یہ قدیم اور جدید کے درمیان جو منافرت یا خلیج ہے اس کو دور کرنا اور دینی و ملی جدوجہد میں دونوں طبقوں کو ایک ٹریک پہ لانا یہ بھی حضرت مدنی رحمہ اللہ کا مشن تھا جس کے لیے انہوں نے کام کیا تھا۔ بدقسمتی سے آج ہمیں یہ مرحلہ بھی درپیش ہے، آج اس خلیج کو دوبارہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تو یہ تین محاذ ہیں جن میں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے فکری اور علمی راہنما ہیں۔ دینی تعلیم کا نظام، آزادی کا حصول، آزادی کا تحفظ، آزادی کی تکمیل اور اپنے اردگرد جو بین الاقوامی جال ہیں ان جالوں سے نکلنا، قوم کو نکالنا اور قدیم اور جدید کی تفریق کو کم سے کم کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اب بھی یہ مسائل درپیش ہیں اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ، ان کی جدوجہد آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان کی جدوجہد کا صحیح ادراک اور شعور نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter