’’فلسفۂ ختمِ نبوت اور احمدیہ تحریک: تاریخی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ (جلد دوم)

   
پیش لفظ / تقریظ / مقدمہ
۶ ستمبر ۲۰۲۵ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

امتِ مسلمہ کو درپیش فتنوں میں انکارِ ختمِ نبوت کا فتنہ سب سے قدیم اور سنگین چلا آ رہا ہے اور آج یہ فتنہ اسلام اور اسلامیت کے خلاف فکری و نظریاتی جنگ میں اسلام دشمن عالمی قوتوں کا سب سے بڑا ہتھیار اور مورچہ ہے جہاں سے ختمِ نبوت کے بنیادی عقیدہ کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کی وحدت اور مرکزیت کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہم پاکستانیوں کو بالخصوص مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی ہر ماحول میں اس کی سازشوں کا سامنا رہتا ہے۔ مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بقول ملتِ اسلامیہ کی دینی و ملی اتھارٹی اور مرکزیت کو نبوت کے عنوان سے تبدیل کر دینے کی یہ سازش اس قدر ہمہ گیر اور متنوع ہے کہ آج کے دور میں امتِ مسلمہ بالخصوص پاکستان کے لیے سب سے بڑے خطرہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

علماء امت اور مسلم دانشوروں نے اس کی شرعی، اعتقادی اور فکری صورتوں پر تو بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بحث جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کا کوئی پہلو اب کسی نئی بحث کا متقاضی دکھائی نہیں دیتا؛ مگر اس کے سماجی، تاریخی اور نفسیاتی دائروں پر ابھی بہت کچھ کام کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کیونکہ جہاں قادیانیت کی شرعی پوزیشن کو واضح کرنا ضروری تھا وہاں اس کے سیاسی کردار اور مروجہ عالمی کشمکش میں — جو سیاسی اور تہذیبی دونوں حوالوں سے بحث طلب ہے — اس کی سرگرمیوں کا تعین، ادراک اور تجزیہ اب بھی ہم سے خاصی محنت کا تقاضہ کر رہا ہے۔ بالخصوص آج کی بین الاقوامی تہذیبی، سیاسی اور اور اعتقادی کشمکش میں قادیانیوں کے اہداف، طریق کار، ہتھیاروں اور کمین گاہوں کی نشاندہی اس جدوجہد کا سب سے بڑا تقاضہ ہے۔

ہمارے فاضل دوست اور ملک کے معروف استاذ و دانشور پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ بیگ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور زیرنظر کتاب میں ان میں سے اہم پہلوؤں پر تعارفی اور تجزیاتی مواد مرتب کر کے ان مسائل کے حل کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ تحریکِ ختمِ نبوت کے ایک پرانے کارکن کے طور پر راقم الحروف کی ہمیشہ یہ گزارش رہتی ہے کہ قادیانیت کو اس کے موجودہ بین الاقوامی کردار، اہداف اور طریق کار کے حوالے سے پوری طرح دیکھے بغیر تحفظِ ختمِ نبوت کی ذمہ داری کو کما حقہ پورا نہیں کیا جا سکتا اور یہ کام ہم سب کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس محاذ کے ہمارے پرانے ساتھی پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ بیگ نے انتہائی محنت و کاوش اور تجزیہ و تنقیح کے ساتھ ان حوالوں سے مفید بحث کی ہے جو اس جدوجہد میں کام کرنے والوں کے لیے یقیناً‌ راہنمائی کا ذریعہ بنے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور مصنف موصوف کو سعادتِ دارین سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter