(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
باطل قوتوں کا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے کسی خود ساختہ شخصیت کے ساتھ عقیدت کے جذبات پیدا کرو اور پھر رفتہ رفتہ عقیدت کو استعمال کرتے ہوئے عقائد کو متزلزل کر دو۔ یہ بات بطور اصول اور قاعدے کے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے، قرآن کریم کے مضامین کے حوالے سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و سنت کے حوالے سے جہاں کہیں کوئی بات شک کے انداز میں آئے، فوراً دوٹوک فیصلہ کر لو کہ یہ گمراہی کا راستہ ہے، مسلمان کے عقیدہ میں شک کا بیج ڈالنے کی کوشش ہے، اور انہی حوالوں سے آج عام مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
قادیانیوں کے بارے میں آپ جانتے بھی ہیں اور سنتے بھی رہتے ہیں۔ دنیا میں عام طور پر ایک غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ جناب جب قادیانی پاکستان کے باشندے ہیں اور ایک اقلیت ہیں تو آپ ان پر پابندیاں کیوں لگا رہے ہیں؟ جب باقی اقلیتوں کو کام کرنے کی آزادی ہے تو قادیانیوں کو آزادی کیوں نہیں ہے؟ یہ ایک جائز سوال ہے۔ عیسائی بھی یہاں کام کرتے ہیں، یہاں سکھوں کی عبادت گاہیں بھی ہیں، ہندو بھی ہیں اور ان کے مندر بھی ہیں، کچھ یہودی بھی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اور یہاں کے مقام دانشور بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ جب قادیانیوں کا وجود آپ نے تسلیم کیا ہے کہ جیسے دوسری اقلیتیں ہیں ویسے ہی قادیانی بھی اقلیت ہیں، تو پھر ان کو عبادت گاہیں بنانے کی اور دوسری اقلیتوں کی طرح اپنا کام کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟ آج ہم پر جو بین الاقوامی دباؤ ہے جس میں امریکہ بھی ہے، اقوام متحدہ بھی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی ہے اور دوسرے ادارے بھی ہیں، ان کا بنیادی سوال یہی ہے کہ بھئی اگر عیسائیوں کو اجازت ہے تو قادیانیوں کو کیوں نہیں ہے؟
یہ بات ذرا سمجھنے کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قادیانیوں کے ساتھ ہمارا جھگڑا یہ نہیں ہے کہ ہم ان کو یہاں رہنے نہیں دیتے، انہیں کام کرنے نہیں دیتے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس طرح باقی اقلیتیں اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کر کے پاکستان میں رہتی ہیں، اسی طرح قادیانی بھی رہیں، اس لیے کہ ان کا یہ حق ہے۔ لیکن کسی اقلیت کو اسلام کا نام استعمال کر کے، مسلمانوں کی اصلاحات استعمال کر کے، خود کو مسلمان ظاہر کر کے یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ قادیانی اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے کہ وہ مسلمانوں سے الگ ہیں۔ حالانکہ وہ نئی نبوت کے قائل ہیں، نئی وحی کے قائل ہیں، شرعی احکام کو منسوخ مانتے ہیں، مرزا غلام احمد کو نبی کہتے ہیں، اور وہ خود کو مسلمان قرار دیتے ہوئے اسلامی شعائر اور اسلامی اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں۔
یہ سوال ہوا تھا جب ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی۔ مرزا ناصر احمد جو مرزا طاہر احمد کا بڑا بھائی تھا اور اس وقت قادیانیوں کا خلیفہ تھا، اسمبلی میں گیارہ دن تک بحث ہوتی رہی، سامنے بیٹھے رہے اور گفتگو ہوتی رہی۔ قومی اسمبلی نے کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا بلکہ گیارہ دن تک مرزا ناصر احمد کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے، وضاحت کرنے، سوالوں کا جواب دینے، اپنی پوزیشن واضح کرنے کا حق تھا۔ اور تین دن تک لاہوری قادیانیوں کا سربراہ اور گیارہ دن تک مرزا ناصر احمد اسمبلی میں پیش ہوتے رہے، گفتگو اور مباحثہ ہوتا رہا، سوالوں کے جوابات دیے جاتے رہے۔ اور آخری سوال جس پر فیصلہ ہوا وہ یہ تھا کہ مرزا ناصر احمد سے اسمبلی کے فلور پر یہ سوال پوچھا گیا کہ ’’دنیا بھر کے مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے، اُن کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟‘‘ کیا دنیا کے سوا ارب مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں؟ پہلے تو مرزا ناصر نے گول مول جواب دینے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل تھے، بحث مولویوں سے ہوئی لیکن سامنے جو اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار تھے، انہوں نے کہا کہ بھئی دوٹوک بات کرو، دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے، کیا تم ان کو مسلمان سمجھتے ہو یا کافر؟ اس نے کہا، کافر۔
اس پر اسمبلی نے یہ فیصلہ دیا کہ کافر دنیا کے سوا ارب مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر تم ہو۔ ایک منتخب پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ دیا۔ مجھے آج حیرت ہوتی ہے ان جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں پر جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جمہوریت جی! عوام جی! عوامی رائے جی! پبلک اوپینین جی! لیکن یہاں آکر ان کی جمہوریت کہاں دفن ہو جاتی ہے کہ ایک منتخب پارلیمنٹ نے بحث و مباحثہ کے بعد، ڈائیلاگ کے ذریعے، ایک جمہوری عمل سے گزر کے فیصلہ دیا ہے کہ قادیانی مسلمانوں سے الگ ہیں۔ آج اس جمہوری فیصلے کو جمہوریت کے ٹھیکیدار تسلیم نہیں کر رہے۔ آج امریکہ کو کیا تکلیف ہے، اتنا دباؤ کہ امریکہ کی پارلیمنٹ قرارداد منظور کر کے ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کریں۔
آج بھی آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ امریکی رپورٹ آئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جناب آپ قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں کہتے ہیں، اس فیصلے کو تبدیل کرو۔ قادیانی مسلمان ہیں یا کافر، اس پر ہم اس وقت شرعی بحث میں نہیں پڑتے کہ اسلامی عقائد کی رو سے تو وہ کھلے طور پر کافر ہیں، لیکن جس دلیل کو، جس ضابطے کو یہ جمہوریت کے دعوے دار مانتے ہیں، اس کے مطابق قادیانی کافر قرار پائے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کے الیکشن جو کہ غیر جانبدارانہ انتخابات تسلیم کیے جاتے ہیں، ان کے نتیجے میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے بھٹو صاحب کی وزارتِ عظمیٰ میں دو ہفتوں کے بحث و مباحثہ کا موقع دینے کے بعد ایک جمہوری انداز میں تمام ضابطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم قادیانیوں کو مسلمانوں کے وجود کا حصہ نہیں مانتے۔ آج جمہوریت کے ان ٹھیکیداروں کو پاکستان کی پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ قبول کرنے میں کیا تکلیف ہے؟
آج امریکہ بار بار پُش کر رہا ہے کہ اس فیصلے کو تبدیل کیا جائے، اسی فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے ووٹوں کے اندراج کے فارم سے عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کر دیا گیا ہے۔ بھٹو صاحب کے زمانے سے عملاً مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ووٹوں کا فرق کرنے کے لیے الگ الگ فہرستیں بنتی تھیں، اور کسی شخص کے مسلمان قرار پانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ ووٹ کے فارم پر موجود اس حلف نامہ کو تسلیم کرتا کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری پیغمبر مانتا ہوں، حضورؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند سمجھتا ہوں، اور جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اسے کافر اور کذاب کہتا ہوں۔ یہ حلف نامہ تھا جس پر دستخط کرنے کے بعد مسلمانوں کی فہرست میں نام آتا تھا۔ لیکن اب یہ حلف نامہ ختم کر دیا گیا ہے اور ۱۰ اپریل ۲۰۰۲ء سے اب تک جتنے ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اس حلف نامے کے بغیر ہوا ہے۔ گویا مسلمان کے لیے پاکستان کے دستور نے جو پابندی لگائی تھی، وہ پابندی عملاً ختم کر دی گئی ہے اور سرکاری کاغذات میں قادیانیوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا۔
اسی پر ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ یہ ایمانیات کی اور ہمارے عقیدے کی خلاف ورزی تو ہے ہی، لیکن پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے، آج کے مسلّمہ سیاسی عمل کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے اس پر ہر مسلمان کو احتجاج کرنا چاہیے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جناب جس طرح پہلے ووٹ کے اندراج کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ تھا، اسی طرح یہ حلف نامہ شامل کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم سمجھیں گے کہ حکمرانوں نے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے لیے امریکہ کا حکم نامہ مان لیا ہے۔ اس کے بعد ملک میں جو مسلمانوں کے جذبات ہوں گے، اس کے نتائج کا حکومت خود اندازہ کر سکتی ہے۔
اسلامی اقدار کے حوالے سے، دستور کی اسلامی دفعات کے حوالے سے، عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے حوالے سے ہم کوئی بیرونی اندرونی دباؤ قبول نہیں کریں گے، ان شاء اللہ العزیز۔ اس کے لیے ہم پہلے بھی جدوجہد کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے، ہر سطح پر مقابلہ کریں گے۔ اسلامیات کے حوالے سے اور دینیات کے حوالے سے ہم خواہ عملی طور پر کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں لیکن ایمانیات اور عقائد ہمارا آخری مورچہ ہے، ہماری آخری دفاعی لائن ہے، اس سے پیچھے ہٹنے کو ہم موت کے مترادف سمجھتے ہیں، اس کی حفاظت کے لیے ہم کٹ مریں گے لیکن کسی لچک کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔

