حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ اور آزادئ وطن

   
جمعیۃ علماء اسلام، لاہور
۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء

(شاہدرہ لاہور میں کارکنانِ جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے زیر اہتمام حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کا خلاصہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کارکنانِ جمعیۃ علماء اسلام لاہور کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے فکری اور نظریاتی نشستوں کا سلسلہ شروع کر کے بہت پرانی یاد تازہ کر دی ہے، کسی زمانے میں فکری اور تربیتی نشستیں اہتمام کے ساتھ ہوا کرتی تھیں اور ہم لوگ انہی نشستوں کی پیداوار ہیں، پھر یہ سلسلہ رک گیا اور کارکنوں کی فکری و نظریاتی تربیت کا خلا پیدا ہوتا چلا گیا جس کے نقصانات ہم سب بھگت رہے ہیں۔ اب یہ کام دوبارہ شروع ہو رہا ہے تو میں بہت خوش ہوں کہ جماعتی کام کرنے والوں کو کم از کم یہ تو شعور حاصل ہو گا کہ ہم یہ کام کیوں کر رہے ہیں؟ ہمارا مشن کیا ہے؟ اور ہمارے اکابر یہ کام کس انداز اور حکمت کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے عزائم اور محنت میں برکت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

آج کی یہ نشست حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہوئی ہے جو حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے فرزند اور جانشین تھے اور انہیں ہماری تحریک آزادی میں یہ مقام حاصل ہے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۷۵۷ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ شہیدؒ کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ کر لیا تھا، پھر ۱۸۰۱ء میں میسور کے سلطان ٹیپو شہیدؒ کو شکست دے کر وہاں بھی قابض ہو گئے تھے، اس کے بعد جب وہ آگے بڑھے تو اس وقت کے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانیؒ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے مطالبات اور غلبہ کے ساتھ ہتھیار ڈالتے ہوئے دارالحکومت دہلی کے انتظامی و مالی معاملات اس کی سپرداری میں دے دیے تو گویا بیرونی مداخلت اور تسلط کے سامنے ریاست نے ہتھیار ڈال دیے، جس پر یہ نعرہ لگا کہ ’’زمین خدا کی، ملک بادشاہ کا، اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘۔

اس وقت حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط کو چیلنج کرتے ہوئے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں سے آزادی کے لیے جہاد کو فرض قرار دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس فتویٰ پر اس کے بعد پورے متحدہ ہندوستان کے طول و عرض میں آزادی کی جنگیں لڑی گئیں۔ بالاکوٹ کا معرکہ، بنگال کی فرائضی تحریک، سندھ میں حروں کی جدوجہد، پنجاب میں سردار احمد خان کھرل شہیدؒ، اور سرحد کے علاقہ میں حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ کی تحریکات، اور ۱۸۵۸ء کا ملک گیر معرکہ حریت اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔ پھر اس سے اگلے مرحلہ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے مسلح جنگ کی بجائے پر امن سیاسی تحریک کو آزادی وطن کے لیے اپنا راستہ قرار دیا جس کے بعد تحریکِ خلافت، تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان وجود میں آئیں۔

اس پس منظر میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی جدوجہد اور خدمات کے حوالہ سے میں انتہائی اختصار کے ساتھ تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا:

  1. ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح آج بھی آئی ایم ایف معاشی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ہماری قومی آزادی کا دائرہ محدود کرتی جا رہی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور آئی ایم ایف کے کام اور طریق کار کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ مغل بادشاہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ جو معاہدہ کر کے اپنے انتظامی و مالی معاملات اس کے سپرد کر دیے تھے، اور آج حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں، ان معاہدات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ ہم آج کی معروضی صورتحال کو صحیح طور پر سمجھ سکیں اور قومی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کے اہداف طے کر سکیں۔
  2. حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جہاد کی فرضیت کا جو فتویٰ دیا تھا اس کا ازسرنو مطالعہ کیا جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ انہوں نے اس فتویٰ میں جو اہداف بیان فرمائے تھے کیا وہ سب حاصل ہو گئے ہیں؟ اور اگر ابھی تک وہ اہداف پوری طرح حاصل نہیں ہوئے تو اس فتویٰ پر عمل کو مکمل کرنے کے لیے آج کی معروضی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟
  3. شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے آزادی وطن کے لیے اپنی تحریک کے مقاصد میں ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ کو سب سے بڑا مقصد بیان کیا تھا اور ان کے رفیق خاص مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ نے دو رسالے تصنیف کر کے ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ کے خدوخال واضح کر دیے تھے۔ ایک رسالہ کا نام ’’انواع الدول‘‘ ہے جس میں اُس وقت کی موجودہ حکومتوں کے نظاموں کا تعارف پیش کیا تھا جبکہ دوسرے رسالے کا نام ’’دستور اساسی ملت‘‘ ہے جس میں انہوں نے آزادی کے بعد اپنے ملک کے لیے ایک نظام تجویز کیا تھا۔ یہ تحریک کامیاب نہیں ہوئی تھی مگر مقاصد اور اہداف تو واضح تھے۔ ہمیں ان دو رسالوں کی بنیاد پر تحریک آزادی کے اہداف کے بارے میں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کون سا مقصد ہم پورا کر سکے ہیں اور کون سے اہداف ابھی تشنہ تکمیل ہیں۔

میری آج کے تمام علماء کرام اور دینی کارکنوں سے گزارش ہے کہ اپنی جدوجہد، صف بندی اور طریق کار پر نظر ثانی کے لیے فکری اور عملی بنیادوں پر ان تین کاموں کا اہتمام کرنا ضروری ہے کیونکہ اسی صورت میں ہم اپنی معروضی جدوجہد کو صحیح رخ پر ڈال سکیں گے اور مستقبل کی جدوجہد اور پیش رفت کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کر سکیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter