خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟

آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ء

جہادِ افغانستان کے علمبرداروں سے مغربی دنیا کی نا انصافی

آج دیکھیے کہ افغانستان کے ہمارے مجاہد بھائی گھیرے میں ہیں۔ ان کے خلاف بھی الزام یہ ہے کہ ورلڈ کلچر کو قبول نہیں کر رہے، اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط نہیں کر رہے، آج کے جو عالمی تقاضے ہیں انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہ عورت کے پردے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کی جو تمام بے حیائی اور فحاشی ہے، یہ یہاں پر اسے قبول کیوں نہیں کر رہے؟ دنیا میں ایک خطہ ایسا کیوں ہے جو انسانی خواہشات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۹۹ء

القدس: تاریخی پس منظر اور دعویدار اقوام

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ۲۰۱۸ء کے دوران امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، انہی دنوں مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ایک نشست میں اس پر گفتگو کا موقع ملا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس، جسے القدس بھی کہتے ہیں اور عبرانی زبان میں اسے یروشلم کہا جاتا ہے، فلسطین کا وہ تاریخی شہر ہے جس پر صدیوں سے بین الاقوامی تنازعہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

انسانی حقوق کے نام پر خاندانی نظام کی بربادی

یہ بات کہنے کی نہیں ہے، منبرِ رسول پر بیٹھا ہوں، لیکن بات سمجھنے کی غرض سے بات کرنی پڑتی ہے۔ مغرب نے اخلاقیات اور جنسی آزادی میں جو انارکی پھیلائی ہے، اکثر مغربی ممالک میں یہ قانون ہے کہ مرد اور مرد آپس میں اگر جنسی تعلقات قائم کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جس لواطت پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو زمین سے اکھاڑ کر آسمان سے واپس اُلٹا پٹکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی منصوبہ جات کی معاونت میں ثروت مند علاقوں کا کردار

گلگت، بلتستان، شمالی علاقہ جات، آپ حضرات جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ سب سے آخری حصہ ہے جو چین کے ساتھ ملتا ہے۔ وہاں ہمارے اہلِ سنت بھائی ہمیشہ مظلومیت کا شکار رہے ہیں، اور آج بھی ہیں۔ این جی اوز کی سرگرمیوں کا وہاں بہت وسیع دائرہ ہے۔ وہاں بین الاقوامی تنظیمیں مالی امداد، فنڈز اور ہسپتالوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو اپنے زیر اثر لانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۹ء

مومن کی معراج اور بیت المقدس کی پکار

آج کے دن دنیا بھر میں معراج کا ذکر ہوتا ہے، ہمارا ہاں بھی جمعۃ المبارک کے اور دیگر اجتماعات میں، دروس میں بھی، اخبارات و رسائل میں بھی۔ اس میں ہمارے لیے لمحۂ فکریہ دو باتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ میں، معراج کے اِس سفر میں، ہمارے لیے فکر اور غور کی دو باتیں ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ جو سفر کروایا، ہمارے لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۱۹۹۹ء

اقتدار کی کرسی اور اللہ کا قانون

ان پچاس سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے کرسی کی جنگ اور پیسے کی لوٹ مار کے سوا کوئی اور کام بھی کیا ہے؟ طریقۂ واردات ہر شخص کا اور ہر گروہ کا مختلف ہے، ورنہ پچاس سال میں ہمارے ہاں خود ہمارے ہی ووٹوں اور نعروں سے، ہماری حمایت سے بننے والی حکومتوں نے، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے، پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہمارے نمائندگان نے لوٹ کھسوٹ اور اقتدار و کرسی کی خاطر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء

فرقہ وارانہ فساد اور انتظامیہ کی نااہلی

ملک بھر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی جو ہو رہی ہے اس پر ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ ابھی کل ہمارے ہاں ایک شیعہ راہنما قتل ہوگئے ہیں، ضلعی امن کمیٹی کے ممبر تھے، معروف وکیل اعجاز حسین رسول نگری۔ اس سے پہلے کئی سنی راہنما قتل ہوئے۔ یہ شیعہ سنی حوالے سے جو فرقہ وارانہ طرفین کا قتل ہے، میں اس سے پہلے بھی اس کے متعلق کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں فریقین بھی ملوث ہوں گے لیکن ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter