سورج اور چاند کی گردش کا اسلامی اعتبار
سال تین قسم کے ہیں۔ ایک شمسی اعتبار سے: جنوری، فروری، مارچ، سورج کی گردش کے حساب سے یہ سال۔ ایک قمری اعتبار سے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، یہ چاند کی گردش کے اعتبار سے۔ ایک دیسی مہینوں کا: پوہ، ماگھ، بیساکھ، یہ ہمارے دیسی، موسموں کے اعتبار سے۔ ہمارے ہاں تینوں مروج ہیں۔ زمینداروں میں عام طور پہ یہ موسمی سال جو ہوتا ہے، یہ پوہ مہینہ ہے، یہ ماگھ کا ہے، یہ ہاڑ کا ہے، یہ جیٹھ کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غلبۂ اسلام کی جدوجہد اور اسوۂ ابراہیمیؑ
سیدنا ابراہیمؑ کی یاد کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی اپنی جگہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت قربانی کو تازہ کرنے کے علاوہ عرفات کے میدان میں حج کے روز لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کو زندہ کریں گے۔ مکمل تحریر
مغربی فکر و فلسفہ کی ترویج اور نتائج قرآن و حدیث کی روشنی میں
شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں شکرگزار ہوں اکادمی کے منتظمین کا کہ ایک بار پھر موقع ملا اور ہم آپس میں کچھ دینی، علمی، فکری مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور جو بات بھی علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیاست میں علماء کرام کا کردار
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے اور سیاست میں علماء کرام کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے مختصراً دو تین پہلوؤں سے بات کرنا چاہوں گا۔ ایک تو اس لیے کہ علماء نمائندگی کرتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور پروگرام بنیادی طور پر زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تھا اور اس میں سیاست بھی ایک اہم رول تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فضلائے مدارسِ دینیہ سے وابستہ توقعات اور ان کی سماجی حیثیت
دینی مدارس اور ان کے فضلاء کے حوالے سے گفتگو اور مکالمہ کا یہ پروگرام ’’ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی‘‘ کے زیر اہتمام ترتیب دیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی نگرانی میں یہ ایک شعبے میں مفید اور مسلسل کام ہو رہا ہے، جن کے پیچھے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندیؒ کی نسبت اور ان کا روحانی فیض، اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا فکر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالمی استعمار کا ایجنڈا اور ہماری دینی قیادت
قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے پاکستان کے دستور پر نظرثانی کے لیے جو دستوری ترامیم کا پیکج دیا ہے اس میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اور پونم کے جس اجتماع میں یہ آئینی پیکج پیش کیا گیا اس میں ایک سندھی قوم پرست لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ راجہ داہر کو قومی ہیرو سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظامِ سیاست کے خدوخال عصری تناظر میں
سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ’’الکہف‘‘ کے اس ادارے اور نظم کے تحت بچیاں اس قدر تعداد میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ، اللہ پاک مزید برکات سے نوازیں اور ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ پھر یہ ذوق کہ دین اور دینی تقاضے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ماحول اور آج کی جو عصری صورتحال ہے، اس سے واقف ہونے کا شوق، یہ بھی دین کا تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کی ایٹمی قوت اور عالمِ اسلام کے جذبات
بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا انتظار تو تھا مگر یہ خدشہ بھی تھا کہ بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر ان کی نمائندہ لابیاں جس طرح کا مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے جو سازشیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں اپنا رنگ دکھا نہ دیں۔ چنانچہ اس تذبذب کے عالم میں گوجرانوالہ کے ایک صحافی دوست نے فون پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور ان کی کامیابی کی خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستانی قبائل میں امریکہ کی دلچسپی
گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز گزارنے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ کلاچی اور موسیٰ زئی شریف میں جانا ہوا۔ بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (س) صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی شریف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ اور پاکستان کا اصولی موقف
آج مجھے گفتگو کرنی ہے اس سوال پر کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات ہو رہی ہے، پاکستان کا اصولی موقف کیا ہونا چاہیے اور کیا ہے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ اس پر مجھے تھوڑی سی بات کرنی ہے لیکن مجھے اس سے پہلے، مسئلے کی نوعیت کیا ہے، اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر تھوڑی سی گفتگو کرنا ہو گی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- 1
- 2
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »