عظیم تر مشرقِ وسطیٰ یا عظیم تر اسرائیل؟

   
تاریخ : 
۲ مارچ ۲۰۰۴ء

ایک قومی اخبار نے اپنے برسلز کے نمائندے کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ

’’مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کے خاتمے کا ایک امریکی منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے، اور اس کے تحت تمام اسلامی دنیا اور عرب ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق ’’اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کی حکمتِ عملی پر امریکہ، یورپی یونین اور جی ایٹ ممالک میں غیر رسمی طور پر زبردست بحث جاری ہے۔ اور یہ منصوبہ برسلز میں نیٹو، یورپی یونین اور جی ایٹ کے سربراہی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، ممکن ہے بعض یورپی ممالک اس منصوبے کی مخالفت کریں، تاہم ان کی مخالفت کے باوجود اس منصوبے پر جون کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق برسلز میں مذکورہ قومی اخبار کے نمائندے کو یورپی سفارتی ذرائع نے نام افشا نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ بہت جلد ’’اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کے منصوبے کا اعلان کر دے گا، جس کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کا خاتمہ کر کے جمہوریت نافذ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ علاقے میں کھلی معیشت کا نظام نافذ کر کے تمام عرب اور اسلامی ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔ اس منصوبے کی حتمی تیاری کے لیے موسم گرما میں ایک بہت بڑی سربراہی کانفرنس یورپ میں منعقد کی جائے گی۔ جس میں امریکہ، یورپ اور جی ایٹ ممالک کے سربراہان اس منصوبے پر بات چیت کریں گے۔ ان سفارتی ذرائع کے مطابق اس موقع پر تمام بات چیت کا مرکزِ ثقل اسلامی دنیا کا مستقبل ہو گا۔‘‘

جہاں تک مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کا تعلق ہے، یہ مغرب نے ہی قائم کی تھیں، اور اب سے ایک صدی قبل خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد عرب دنیا کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں الگ الگ بادشاہتوں کے تحت تقسیم کر دیا تھا، جبکہ اس سے قبل عرب دنیا کے اکثر حصے خلافتِ عثمانیہ کے ماتحت تھے۔ لیکن برطانوی استعمار نے جب دوسرے یورپی ممالک کے تعاون سے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو جمہوریت کا دعویدار ہونے کے باوجود اس نے اس خطے میں بہت سی بادشاہتوں کو جنم دیا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف تعاون کرنے والے بہت سے علاقائی گروہوں کو الگ الگ خطے کی امارت و بادشاہت دے کر ان سے معاہدے کر لیے تھے، ورنہ اس سے قبل ان بادشاہتوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہ کرشمہ بھی مسلم دنیا نے مشرقِ وسطیٰ میں ہی دیکھا تھا کہ برطانوی جمہوریت کے بطن سے عرب بادشاہتیں جنم لے رہی ہیں۔ وہ معاہدے تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں جو اس خطے کے علاقائی گروہوں کے ساتھ برطانوی استعمار نے کیے تھے، اور جن میں سیاسی اور معاشی معاملات میں برطانوی بالادستی کو تسلیم کرنے، اور اس کی وفاداری کے عہد کے عوض ان خاندانوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا تھا کہ ان ریاستوں کا اقتدار برطانیہ کی ضمانت کے ساتھ انہی خاندانوں کے پاس رہے گا، اور ان خاندانوں کا جو فرد برطانوی معاہدوں کا وفادار رہے گا اسے اقتدار میں حصہ ملتا رہے گا، خواہ اسے اپنے ملک کے عوام کی حمایت حاصل نہ ہو۔

پھر جب برطانوی استعمار کے قویٰ مضمحل ہونے کے بعد اس کی جگہ تازہ دم امریکی استعمار نے سنبھالی تو اس نے بھی جمہوریت اور انسانی حقوق کی تمام فائلوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان بادشاہتوں کے ساتھ حکمرانی اور وفاداری کے رشتے استوار کیے، انہیں تحفظ فراہم کیا، اور ان سے اپنے مفادات حاصل کیے۔ امریکہ اور برطانیہ دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، اور دنیا کے کسی بھی خطے میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کو خطرہ لاحق ہو تو وہاں مداخلت کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ کی بادشاہتیں چونکہ خود ان کی اپنی قائم کردہ تھیں، اس لیے عرب عوام کے انسانی حقوق اور ان کے جمہوری معاملات سے امریکہ اور برطانیہ کو کوئی سروکار نہ رہا، اور ان ممالک کے عوام آج بھی جمہوری، شہری اور انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

ان بادشاہتوں کے ردعمل میں ’’عرب قومیت‘‘ کی تحریک نمودار ہوئی اور مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر مرحوم اور بعث پارٹی نے عرب قومیت کے نعرے پر بادشاہتوں کے خلاف مہم چلائی۔ بہت سے ملکوں میں انقلابات آئے، بادشاہتیں ختم ہوئیں اور قومی حکومتیں قائم ہوئیں، بعض ممالک میں کسی حد تک جمہوریت، ووٹ اور اسمبلی کا نظام بھی قائم ہوا، لیکن اسرائیل کے وجود، قوت اور مغرب کی طرف سے اس کی مسلسل پشت پناہی اور سرپرستی کے باعث عرب قومیت کے نام پر بپا ہونے والے انقلابات اسرائیل اور اس کے پردے میں امریکی استعمار کی قوتوں اور چالوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی حقوق اور جمہوری عمل اسی جگہ رہا، اور ان ملکوں میں بھی فوج کی طاقت کے بل پر شخصی حکومتیں مستحکم ہوتی چلی گئیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جن ممالک میں بادشاہتیں قائم نہ رہ سکیں، وہاں بھی شخصی آمریتیں ہیں، اور مغرب کی طرف سے ان کی پشت پناہی کے باعث جمہوریت اور انسانی حقوق ’’ہنوز دِلی دور اَست‘‘ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا قیام اور اسے اس درجہ طاقتور بنا دینا کہ اردگرد کے ممالک کے لیے اس کی بالادستی قبول کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ رہے، اسی منصوبہ کا حصہ ہے، جس پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد کے بعد اب اس کے اگلے حصے کی جھلکیاں مذکورہ رپورٹ کی صورت میں سامنے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ صدی کے دوران عرب ممالک اور اسلامی ممالک کو جمہوری حقوق اور اقتدار میں شرکت کے مسلّمہ حق سے محروم کرنے کی حکمتِ عملی کا مقصد یہی تھا کہ جب اس اگلے منصوبے پر عملدرآمد کا موقع آئے تو مسلم ممالک اس قدر بے جان ہو چکے ہوں کہ وہ عرب ممالک اور اسلامی ممالک کو مغرب کے تحفظ کی چھتری کے نیچے لانے کے پروگرام میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ ’’اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کا پروگرام کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بین الاقوامی رپورٹوں میں اس کا مسلسل تذکرہ ہوتا رہا ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس سے قبل اسے ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا مگر اب اسے ’’عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

’’عظیم تر اسرائیل‘‘ یہودیوں کی صہیونی ریاست کا وہ دیرینہ خواب ہے جس کے لیے فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی گئی۔ جسے پال پوس کر اور مسلح کر کے مغرب نے اس قدر طاقتور بنا دیا ہے کہ وہ اپنے عزائم اور ایجنڈے کی تکمیل میں کسی کی پروا نہیں کر رہا، اور تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کرتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ عظیم تر اسرائیل کا نقشہ اس کی طرف سے سامنے آ چکا ہے جس میں پورے عراق اور مدینہ منورہ سمیت نصف سعودی عرب کے علاوہ بہت سے عرب ممالک اس کا حصہ ہوں گے، اور وہ اس خطے کا سب سے بڑا چودھری ہو گا جس کی ماتحتی میں عربوں اور مسلمانوں کو رہنا ہو گا۔

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور جنوبی ایشیا میں بھارت کو اسی منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ کھلی معیشت کے لیے جی ایٹ کے پروگرام کو بھی شامل کر لیں تو مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کی تجارت، تیل، معدنی وسائل، اور افرادی قوت کو جی ایٹ اور مغرب کی وساطت سے امریکہ کی تحویل میں دینے کی منصوبہ بندی صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ مغرب کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر بار نئی اصطلاح اختیار کرتا ہے۔ جب یہی منصوبہ لے کر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال، اور روس نے تیسری دنیا اور مسلم ممالک پر تسلط جمایا تھا تو اسے ان علاقوں کو ترقی دینے اور نوآبادیات کا عنوان دیا گیا تھا۔ لیکن اب وہی ممالک اکٹھے ہو کر امریکہ کی قیادت میں انہی مقاصد کے لیے دوبارہ آئے ہیں تو اس منصوبے کو عرب اور اسلامی ممالک کو تحفظ کی چھتری فراہم کرنے کا نام دے دیا گیا ہے۔ اور ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ پر ’’عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے ملتِ اسلامیہ کو ایک نئی غلامی کے جال میں جکڑنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

جہاں تک اس منصوبے کا تعلق ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر امریکہ، یورپی یونین اور جی ایٹ نے یہ پروگرام بنا لیا تو اس پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی، اور انہیں اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس لیے کہ مسلم ممالک پر مسلط حکمرانوں کی کرم فرمائی سے اس وقت مغربی استعمار کے مقابلہ میں عالمِ اسلام کی صورتحال اس کہاوت جیسی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ کسی شخص سے پوچھا گیا کہ اگر وہ جنگل میں جا رہا ہو اور خالی ہاتھ ہو، آگے سے کوئی درندہ آجائے اور اس پر حملہ آور ہو جائے تو وہ کیا کرے گا؟ اس نے جواب دیا کہ پھر میں نے کیا کرنا ہے، جو کچھ کرنا ہے اسی درندے نے کرنا ہے۔ آج ہم عملاً اس مقام پر کھڑے ہیں کہ خالی ہاتھ ہیں اور درندوں کے حصار میں ہیں، ایسے میں درندے اپنا کام کر گزریں تو کچھ بعید نہیں۔ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ اگر حواس قائم اور حوصلہ بحال رہے تو ایسے حالات میں بھی بچاؤ کی کوئی نہ کوئی صورت سجھائی دے ہی دیتی ہے۔ یہ کام اہلِ دانش کا ہے، وہ حواس قائم رکھیں، حوصلہ کے بحال رہنے کی صورت نکالیں، اور ملتِ اسلامیہ کو اس خوفناک الجھن اور دلدل سے نکالنے کے لیے عقل و دانش کو استعمال میں لائیں۔ لیکن جیسا کہ نظر آ رہا ہے، اربابِ دانش ہی مرعوبیت کا شکار ہو گئے، ان کے حواس ہی خطا ہو گئے، اور ان کے حوصلوں نے ہی جواب دے دیا تو جنگل میں خالی ہاتھ جانے والے شخص کو درندے سے بچانے کی کوئی تدبیر بھلا کس کو سجھائی دے سکتی ہے؟

ہمیں عرب بادشاہتوں سے کوئی دلچسپی نہیں، اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے قیام میں مغربی ممالک سنجیدہ ہیں، اس منصوبہ میں ’’عرب اور اسلامی ممالک کے لیے تحفظ کی چھتری‘‘ اور ’’عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کے نام سے جو خوفناک اژدھا دکھائی دے رہا ہے، اس نے اور کسی سمت دیکھنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔ ہمارے حکمران اپنی اپنی ڈیوٹی پر ہیں، علماء کرام کو اپنے روایتی کاموں سے فرصت نہیں، اور اربابِ عقل و دانش کی ایک بڑی تعداد کو ملت کی بجائے اپنے اپنے مستقبل کی فکر نے گھیر رکھا ہے۔ ان حالات میں مذکورہ رپورٹ کے مطابق اسی سال برسلز میں منعقد ہونے والی بہت بڑی سربراہی کانفرنس میں اسلامی دنیا کے مستقبل پر جو غور و خوض ہونے والا ہے، اس میں امت کی راہنمائی کون کرے گا؟ اور ملت کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے آگے بڑھنے کی ہمت کس کو ہو گی؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter