والدہ ماجدہ کا انتقال

   
۲۹ اگست ۱۹۸۸ء

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی اہلیہ محترمہ اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف) کی والدہ مکرمہ کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی اور وہ کچھ عرصہ سے ذیابیطس او رہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ دو ہفتہ سے ان کی طبعیت زیادہ خراب تھی چنانچہ انہیں شیخ زاید ہسپتال لاہور میں داخل کرا دیا گیا مگر وہ تین چار روز بیہوش رہنے کے بعد وفات پا گئیں۔ ان کی نماز جنازہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے پڑھائی جس میں ممتاز علماء کرام، سیاسی راہنماؤں، سماجی شخصیات اور جماعتی کارکنوں کے علاوہ ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اور نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مرحومہ ایک عبادت گزار اور شب زندہ دار خاتون تھیں اور انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس میں بسر کیا۔ وہ صبح و شام اپنے گھر میں بچیوں اور بچوں کو قرآن کریم حفظ و ناظرہ، ترجمہ قرآن اور بہشتی زیور کی تعلیم دیا کرتی تھیں اور یہ سلسلہ تقریباً پینتالیس برس سے تسلسل کے ساتھ جاری تھا۔ وہ خود قران کریم کی حافظہ نہیں تھیں لیکن جن بچیوں نے ان سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ان کی تعداد پچیس سے زائد ہے جبکہ باقی شاگرد بچوں اور بچیوں کا کوئی شمار نہیں ہے۔ ان کے شاگردوں میں ان کے اپنے بچوں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد القدوس خان قارن اور مولانا عبد الحق خان بشیر کے علاوہ بریگیڈیر محمد علی چغتائی اور اے آئی جی پولیس احمد نسیم جیسی ممتاز شخصیات شامل ہیں۔

سابق وفاقی وزیر غلام دستگیر خان، میئر گوجرانوالہ کارپوریشن الحاج محمد اسلم بٹ، کونسلر ڈاکٹر محمد احمد اور سابق ڈپٹی میئر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کے علاوہ ممتاز علماء کرام علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا قاضی عصمت اللہ، مولانا محمد فیروز خان، مولانا حکیم عبد الرحمان آزاد، مولانا خالد حسن مجددی، مولانا حکیم محمود اور دیگر شخصیات نے مولانا محمد سرفراز خان اور مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کر کے مرحومہ کی وفات پر تعزیت کی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔

   
2016ء سے
Flag Counter