قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

   
۲۷ اگست ۲۰۱۷ء

۲۴ اگست کو ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم جناب جسٹس دوست محمد خان نے لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ

’’ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔‘‘

جسٹس موصوف نے ہماری معاشرتی صورتحال کی بالکل صحیح عکاسی کی ہے اور ہم ان کے اس ارشاد کی تائید کرتے ہوئے اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بالکل بجا ہے کہ ہم قومی سطح پر اسلامائزیشن کی بات پورے شدومد کے ساتھ کرتے ہیں لیکن معاشرتی ماحول میں اسلامی احکام و قوانین پر عمل کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی اسلامائزیشن کے معاشرتی تقاضوں کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ریاستی ادارے اور قومی طبقات اس حوالہ سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے باہمی محاذ آرائی کا منظر پیش کر رہے ہیں، مثلاً:

  • پارلیمنٹ نے بہت سے اسلامی قوانین کو ملک میں نافذ کر رکھا ہے مگر عدالتی نظام میں ان پر عملدرآمد کے لیے مناسب ماحول مہیا نہیں کیا جا رہا۔
  • ملک کا تعلیمی نظام اسلامی قوانین کی تعلیم اور ان کے عملی نفاذ کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور جج صاحبان کی فراہمی سے مسلسل گریزاں ہے۔
  • میڈیا کے کم و بیش تمام ذرائع ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی پاسداری اور عملداری میں تعاون کرنے کی بجائے معاشرتی ماحول کو اسلامی تعلیمات اور احکام سے دور کرنے میں مصروف ہیں۔
  • علماء کرام اور دینی حلقے عوام کو اسلامائزیشن کے تقاضوں، شرعی احکام اور اسلامی اخلاقیات و اقدار کی تعلیم و تربیت دینے میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا نہیں کر پا رہے۔
  • بین الاقوامی سیکولر ادارے اور ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کی غالب اکثریت اسلامی معاشرت اور اقدار و روایات سے عوام کو دور کرنے کے لیے منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
  • انٹرنیٹ کے ذریعے خلاف اسلام عقائد و نظریات نئی نسل میں سرایت کر کے خاموش ارتداد کا ذریعہ بن رہے ہیں جبکہ ہمارے دینی حلقے سماجی بنیادوں پر ان کے سدباب کی بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں جو کہ آج کی نسل کے لیے اجنبی ہیں۔
  • ہم آزادی کے ۷۰ سال گزر جانے کے بعد بھی ہندو ثقافت کے لوازمات سے نجات حاصل نہیں کر سکے جبکہ مغربی ثقافت کی یلغار بھی عروج پر ہے جو ہمارے خیال میں پاکستان میں عوامی سطح پر نفاذ اسلام کی راہ ہموار کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامائزیشن کی خواہش اور کوشش کسی جہاز کی طرح گزشتہ ستر برس سے فضا میں ہی چکر کاٹ رہی ہے اور اسے معاشرتی ماحول میں اترنے کی کوئی جگہ میسر نہیں آرہی۔ جسٹس صاحب محترم نے یہ بات بھی درست فرمائی ہے کہ ہماری دوعملی اور بدعملی کی وجہ سے ڈینگی، دہشت گردی اور دھماکوں جیسے عذاب ہم پر مسلط ہیں کیونکہ کوئی مصیبت اور عذاب بھی بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشورٰی آیت ۳۰ میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ ’’تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی یعنی تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔‘‘ یعنی شخصی یا اجتماعی طور پر آنے والی کسی بھی مصیبت کا سبب ہم خود ہوتے ہیں، یہ اسباب ظاہری بھی ہوتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسا کہ ظاہری طور پر دیکھا جائے کہ آج ہمیں امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کا سامنا ہے تو اس کا سبب وہ خارجہ پالیسی ہے جو ہم نے قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل اختیار کر رکھی ہے۔

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ سرظفراللہ خان نے ملک کے بنتے ہی اسے امریکی کیمپ میں دھکیلنے کی پالیسی اختیار کی تو ملک کے دینی حلقوں نے اجتماعی طور پر آواز بلند کی کہ یہ صاحب استعمار کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ملک کو غلط راستے پر لے جا رہے ہیں اس لیے انہیں برطرف کیا جائے۔ مگر ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس مطالبہ پر کان دھرنے کی بجائے مطالبہ کرنے والوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیے جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ امریکہ کی ہر خواہش کے سامنے سر جھکانے اور روس کے خلاف سرد جنگ میں بے پناہ قربانیوں کے ذریعے امریکہ کو کامیابی دلوانے کے باوجود آج اس کے سامنے مجرم کی طرح کھڑے ہیں، اور امریکہ روایتی جاگیرداروں کی طرح ہم سے مزید قربانیوں کا تقاضا بھی کر رہا ہے اور ساتھ ہی دھمکیاں بھی دیے جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ سیاسی، معاشرتی، تہذیبی اور قانونی دنیا میں ہمارے جتنے بھی موجودہ مصائب ہیں ان کی پشت پر خود ہماری اسی طرح کی پالیسیاں کارفرما ہیں۔

جبکہ قومی مصائب کے کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جس کا ذکر قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور اس کی قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے لوگوں پر جو عذاب نازل فرمائے، قرآن کریم کی سورۃ الاعراف آیت ۱۳۳ میں ان میں سے بعض کا ذکر کیا گیا ہے کہ طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون کی صورت میں ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ جبکہ بائبل کی کتاب ’’خروج‘‘ میں ان عذابوں کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ دریاؤں کا پانی خون کی شکل اختیار کر لے گا، ہر طرف مینڈک ہی مینڈک گھومتے پھریں گے، ٹڈی دل کے لشکر فصلوں کو تباہ کر دیں گے اور مچھروں کی یلغار سے لوگ پریشان ہو جائیں گے، وغیرہ۔ جسٹس صاحب موصوف نے ڈینگی کو خدا کا عذاب کہا ہے اور یہ بات درست ہے۔ بائبل کی کتاب خروج کی آیت ۲۰ تا ۲۲ میں فرعون کی قوم پر مچھروں کے اس عذاب کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ

’’تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ صبح سویرے اٹھ کر فرعون کے آگے کھڑے ہونا۔ وہ دریا پر آئے گا سو تو اسے کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ وہ میری عبادت کریں، ورنہ اگر تو انہیں جانے نہ دے گا تو دیکھ میں تجھ پر اور تیرے نوکروں پر اور تیری رعیت پر اور تیرے گھروں میں مچھروں کے غول غول بھیجوں گا اور مصریوں کے گھر اور تمام زمین جہاں جہاں وہ ہیں مچھروں کے غولوں سے بھر جائے گی۔‘‘

اس پس منظر میں ہمیں بحیثیت قوم اپنی موجودہ صورتحال اور قومی مصائب و آلام کا ان کے اسباب کے حوالہ سے جائزہ لینا ہوگا جو ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی۔ قوم کے ہر طبقہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار کا جائزہ لے کہ ہماری کون سی حرکتوں اور بداعمالیوں کے نتیجے میں پوری قوم کو اس عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ایک ارشاد گرامی بھی نقل کرنے کو جی چاہ رہا ہے جو حضرت امام مالک بن انسؒ نے اپنی کتاب ’’مؤطا‘‘ میں روایت کیا ہے کہ:

  • جس قوم میں غلول (کرپشن) عام ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے دلوں پر دشمن کا رعب طاری کر دیتا ہے،
  • جس قوم میں زنا پھیل جائے اس میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے،
  • جس قوم میں ماپ تول میں کمی کا رجحان بڑھ جائے اللہ تعالیٰ اس کے رزق سے برکت اٹھا لیتے ہیں،
  • جس قوم میں ناحق فیصلے ہونے لگیں اس میں باہمی خونریزی بڑھ جاتی ہے،
  • اور جو قوم عہد شکنی اختیار کر لے اس پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

لیکن کیا عدالت عظمیٰ کے ایک معزز جج کی نشاندہی پر ہم اپنے مصائب کے باطنی اسباب کا جائزہ لینے کو تیار بھی ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیں اور اجتماعی توبہ و استغفار کے ساتھ اپنی ان اجتماعی بداعمالیوں سے باز آنے کی توفیق سے نوازیں جو پوری قوم کے لیے عذاب کا باعث بن گئی ہیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter