پیپلز پارٹی کے مستقبل کے عزائم، منشور کے آئینے میں

   
۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو اور شریک چیئرپرسن مسز بے نظیر زرداری نے ۱۳ اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے۔ اخبارات کے مطابق دونوں بیگمات نے اپنے منشور میں اسلام کو دین، جمہوریت کو سیاست، سوشلزم کو معیشت، شہادت کو نصب العین اور عوامی اختیارات کو بنیاد قرار دیا ہے۔

معمولی لفظی ہیرپھیر کے ساتھ یہ وہی الفاظ ہیں جو مسٹر بھٹو نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں کہے تھے اور جن کا عملی مظاہرہ ان کے دورِ اقتدار میں خوب کیا گیا تھا۔ اسلام کو دین قرار دینے والوں نے غیر ملکی سربراہوں کے ساتھ رقص و سرود کی محفلیں جمانے، شراب نوشی میں مدہوش ہو کر ہوش و تمیز گنوانے، لادین نظریات کو فروغ دینے اور ہر طرح کی عریانی و فحاشی کو عام کرنے جیسے اقدامات کر کے اسلام کا جس طرح مذاق اڑایا اور مساجد و مدارس اور قرآن مجید کی جس طرح بے حرمتی کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ علماء کرام کی تضحیک اور ڈاڑھیاں نوچنے کے واقعات تو اب بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔ جہاں تک جمہوریت کو سیاست قرار دینے کا معاملہ ہے اس کا اندازہ اپوزیشن کو دبانے، اسمبلیوں سے اٹھا کر پھینکنے، اجتماعات، جلوسوں اور اظہار رائے کی آزادی سے محروم کرنے، اخبارات و جرائد پر سنسر لگانے، مارشل لاء اور کرفیو تک کو اپنانے اور اپوزیشن ارکان، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرنے، معصوم طالبات کو تعلیمی اداروں سے اٹھا کر انہیں عصمت ہی نہیں زندگی تک سے محروم کرنے جیسے بے رحمانہ اقدامات کی مثالوں سے ہو جاتا ہے۔ سید شمس الدین شہید، خواجہ رفیق شہید، عبد الصمد اچکزئی شہید، احمد مینگل کے خون اور شیرپاؤ کے جلسہ میں بموں کے دھماکوں اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگانے کے اقدامات کو کون بھول سکتا ہے۔ پھر سرحد میں جمعیۃ نیپ کی جمہوری حکومت کو آمرانہ اقدامات سے ختم کرنے کا جو جمہوری طریقہ پی پی نے اپنایا اس سے اس کی جمہوریت کا نقاب خودبخود سرک جاتا ہے۔

پی پی پی نے نام نہاد مظلومیت کے دور میں اسلام کی تسبیح اتنی مرتبہ کی اور ایک دینی جماعت نے اپنوں کو چھوڑ کر جس طرح اس کے ساتھ حق رفاقت ادا کیا، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ پی پی پی نے شاید اپنا قبلہ بدل لیا ہے۔ موت سے زندگی کا سفر طے کرنے کے بعد اس نے اس دینی جماعت کو جو ہاتھ دکھایا سو دکھایا، اس نے اسلام کو جس طرح استعمال کیا ہے اس سے تو ضیاء الحق بھی طفل مکتب ہی دکھائی دیتا ہے کہ بیگمات نے بڑی صفائی سے اسلام کو سرسری سی جگہ دے کر سوشلزم کو معیشت کی کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ کیونکہ اگر اسلام کو معیشت، سیاست، اقتصایات، جمہوریت اور معاشرت پر ’’مسلط‘‘ کر دیا جائے تو اس سے جو انقلابات نمودار ہوتے ہیں اور غریب کو جو سکھ کی نیند ملتی ہے وہ پی پی کا مقصد کبھی نہیں رہا۔ انہوں نے ہمیشہ سوشلزم کو آگے کیا ہے اور سوشلزم کے اصطلاحی کے بجائے لفظی مفہوم پر زور دے کر غریب طبقہ کو بے وقوف بنانے کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔

سیٹوں کی تقسیم میں وہ پرانے اور غریب کارکنوں کو قربانی کے بکرے کا درجہ دے کر جاگیرداروں، سرمایہ داروں، زمینداروں، وڈیروں، ٹوانوں، دولتانوں، نوابوں، خانوں، ملکوں اور سرداروں کو آگے لائی ہے۔ جبکہ اس نے غریب کارکنوں کو ’’سوشلزم‘‘ کے نعرے کے حصار میں مقید رکھنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں ’’حدود آرڈیننس سمیت عورتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین ختم کر دیے جائیں گے‘‘ کو بھی اپنایا ہے۔ پی پی کے نزدیک امتیازی قوانین سے مراد ہمیشہ شرعی قوانین رہے ہیں۔ پھر حدود آرڈیننس کے خلاف کھلم کھلا بات کر کے اس نے اپنے خبث باطن کو نمایاں کر دیا ہے۔ پی پی سے کسی خیر کی ہمیں تو کبھی بھی توقع نہیں رہی، اب اسے زندگی دینے والوں کو سوچنا ہوگا کہ انہیں مستقبل میں کیا کرنا ہوگا۔ ہمارے نزدیک پی پی کے مستقبل کے عزائم ہمیشہ سے ملک و ملت اور اسلام کے مفادات سے متصادم رہے ہیں۔ اس نے دھوکہ اور فریب کو اپنا کر لادینیت، آمریت، دہریت، لاقانونیت، اخلاقی انارکیت اور معاشی ناہمواری کو ہی فروغ دیا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے عزائم یہی ہیں۔

عوام کو آئندہ انتخابات میں سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا اور اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے اسلام پسند امیدواروں کو کامیاب کرانا ہوگا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں اور پی پی پی اور دیگر لادین عناصر کی مذموم سرگرمیوں سے پردہ اٹھائیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter