مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

   
۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

جمعیۃ العلماء ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متوازی دھڑے کے ساتھ اختلافات کے خاتمہ اور جماعتی اتحاد کے لیے ایک بار پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس ضمن میں متعدد حضرات نے دونوں جانب سے خلوص کے ساتھ اس نیک مقصد کے لیے محنت کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے۔

حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے خانپور میں حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم سے ملاقات کر کے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اگر حضرت مدظلہ لاہو رتشریف لائیں تو اس سلسلہ میں بات چیت کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت مدنی مدظلہ نے حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری سے بھی اسی قسم کی خواہش کا اظہار کیا۔ چنانچہ دونوں حضرات نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور حضرت درخواستی مدظلہ علالت، بڑھاپے اور سردی کے باوجود لاہور تشریف لے آئے۔ اس موقع پر شیرانوالہ گیٹ لاہور میں حضرت مدنی مدظلہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا جس میں فریقین کے سرکردہ حضرات نے شرکت کی اور اس مشترکہ اجتماع کو دیکھ کر کارکنوں کو یہ خوش کن توقع ہوگئی کہ اب اتحاد کا مرحلہ قریب ہوگیا ہے۔

حضرت درخواستی مدظلہ کی طرف سے گفتگو کے ان مراحل میں وضاحت کے ساتھ کہہ دیا گیا کہ وہ جماعتی اتحاد کی خاطر امارت کے منصب سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں اور باقی معاملات میں بھی جو فیصلہ باہمی اتفاق سے ہو جائے وہ انہیں قبول ہوگا۔ مگر ان کی صرف ایک شرط ہے کہ وہ ایم آر ڈی کے ساتھ چلنے کے لیے کسی صورت میں تیار نہیں ہوں گے۔

استقبالیہ کے بعد جامعہ مدنیہ میں ایک مشترکہ غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں حضرت مولانا سید حامد میاں، حضرت مولانا محمد اجمل خان، مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا سید امیر حسین گیلانی، حاجی محمد زمان خان اچکزئی، مولانا فداء الرحمان درخواستی، ابوعمار زاہد الراشدی اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں فریق دو امور پر اتفاق رائے کے مرحلہ تک پہنچ گئے۔

  • حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنے قیام میں چار پانچ روز کی توسیع کر کے اپنی موجودگی میں مصالحت کی بات چیت کی تکمیل کرائیں۔
  • دونوں فریقوں میں عہدوں کے مسئلہ پر کوئی بنیادی جھگڑا نہیں ہے، اصل بات پالیسی کے اختلاف کی ہے۔ جب تک پالیسی کا مسئلہ اتفاق رائے سے طے نہ ہو اس وقت تک عہدوں یا انتظامی ڈھانچہ میں ردوبدل سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

ان دونوں امور پر اتفاق رائے کے بعد اجلاس برخواست ہوگیا مگر نہ تو حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے قیام میں توسیع کر سکے اور نہ ہی ایم آر ڈی اور پالیسی کے دیگر مسائل پر اتفاق رائے کی کوئی صورت نکل سکی۔ اس لیے مصالحت کی یہ گفتگو کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ جہاں تک جماعتی اتحاد کے لیے مساعی کا تعلق ہے حضرت درخواستیؒ مدظلہ کی پیش کش سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے لیے ہم ہر وقت تیار ہیں اور ہمارے نزدیک بنیادی پالیسی کے تعین کے سوا اس میں اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

یہ چند سطور اس لیے تحریر کر دی ہیں تاکہ ملک بھر میں جماعتی احباب صورتحال سے باخبر رہیں اور کسی بے جا خوش فہمی کا شکار ہونے کی بجائے جماعتی مقاصد کے لیے حسب سابق جدوجہد جاری رکھیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter