علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

   
۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے تو انہوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی پیدا کی اور صریح کفر کی بجائے الحاد و زندقہ کے راستہ سے مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹانے کے لیے فکری فتنوں کا دروازہ کھول دیا۔ ان تمام فتنوں کا بنیادی ہدف قرآن و سنت کی چودہ سو سالہ اجماعی تعبیر و تشریح اور امتِ مسلمہ کا اجماعی تعامل راہ ہے جس کی نفی کرنے اور مسلمانوں کو اس سے دور ہٹانے کے لیے مسلسل تگ و دو کی جا رہی ہے۔

اسی فتنہ کا ایک نیا رخ مسلم ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اس عنوان سے سامنے آیا ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق علماء کے روایتی حلقوں اور اداروں کو نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے، اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ جدید دور کے تقاضوں کی روشنی میں قرآن و سنت کی جو تعبیر کرے وہی حق ہے۔ پاکستان کے محکمہ اوقاف کے ایک ذمہ دار افسر ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا ایک مضمون گزشتہ ماہ روزنامہ نوائے وقت لاہور اور روزنامہ جنگ لاہور دونوں میں شائع ہوا جس میں انہوں نے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال مرحوم کی طرف منسوب کر کے اس فکر کی باقاعدہ اشاعت کا آغاز کیا ہے۔ علامہ اقبال مرحوم اس لحاظ سے تاریخ کی ایک مظلوم شخصیت ہیں کہ ہر باطل گروہ نے ان کے متنوع کلام میں سے اپنے مطلب کی باتیں نکال کر انہیں اپنے حق میں استعمال کیا ہے:

  • اشتراکیت کے پرچار میں ان کا کلام پیش کیا گیا ہے،
  • حدیثِ رسولؐ کے منکرین نے انکارِ حدیث کے لیے علامہ اقبالؒ کے کلام کا سہارا لیا ہے،
  • اور اب قرآن و سنت کو چودہ سو سالہ اجماعی تعامل اور تشریح سے الگ کر کے منتخب پارلیمنٹ کے حوالہ کر دینے کی فتنہ انگیز فکر کی بنیاد بھی علامہ اقبال کے بعض خطبات کو بنایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ نے علامہ اقبالؒ کے بعض خطبات اور مضامین کے اقتباسات پیش کر کے جو فکر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • علماء نے اجتہاد کا دروازہ بند کر رکھا ہے اور وہ مختلف فرقوں اور فقہوں میں بٹ گئے ہیں اس لیے ان میں اجتہاد کی اہلیت نہیں رہی۔
  • جدید دور میں شریعت کی تعبیر اور اجتہاد کا حق منتخب پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔
  • پارلیمنٹ کی حیثیت مجتہد مطلق کی ہے، وہ اجتہاد کے اس عمل میں گزشتہ دور کے اجتہادات حتیٰ کہ اجماعِ صحابہؓ کی بھی پابند نہیں ہے۔
  • اجتہادِ مطلق کا دروازہ کسی دور میں بھی بند نہیں ہوا، آج بھی یہ دروازہ کھلا ہے اور علامہ اقبال بھی امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور احمد بن حنبل کی طرح مجتہد مطلق کے منصب پر فائز ہیں۔

علامہ اقبال نے یہ باتیں کہی ہیں یا نہیں اور اگر کہی ہیں تو کس پس منظر میں کہی ہیں، ان تمام باتوں سے قطع نظر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس نئے فکر کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اگر غور کیا جائے تو اس حقیقت کے ادراک میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ یہ بات حتمی دیکھ کر کہ مسلمانوں کو کسی حالت میں بھی قرآن و سنت سے ہٹانا ممکن نہیں ہے، اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا اختیار ایسے اداروں کو دے دیا جائے جو مفاد پرست طبقوں اور افراد کی خواہشات کے مطابق قرآن و سنت کی تعبیرِ نو کر سکیں، اس طور پر کہ قرآن و سنت پر عمل کا نعرہ متاثر نہ ہو اور قرآن و سنت کے حقیقی نفاذ سے بعض طبقات، اداروں اور افراد کے مفادات پر جو زد پڑتی ہے اس سے بھی محفوظ رہا جا سکے۔

اور پھر ستم کی بات یہ ہے کہ اجتہاد اور تعبیرِ شریعت کا اختیار ایک ایسے ادارے کے لیے طلب کیا جا رہا ہے جس کی رکنیت کے لیے اجتہاد کی مطلوبہ علمی اور تجرباتی اہلیت تو کجا قرآن کریم ناظرہ پڑھ سکنا بھی شرط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے جواب میں عرض کیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کو تعبیر شریعت کا اختیار دینے کے لیے تیار نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے اتنی علمی اہلیت و استعداد کو شرط قرار دیا جائے جو اجتہاد اور تعبیر شریعت کے لیے ناگزیر ہے۔

اس فکر کے داعیوں نے اپنے جدید فکر کے حق میں بظاہر بڑی دلکش دلیل دی ہے کہ علماء اس وقت چار پانچ فقہی مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں اس لیے نفاذ اسلام کے عمل کو فرقہ واریت کے اثرات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ تعبیر شریعت کا حق علماء سے واپس لے کر پارلیمنٹ کو دے دیا جائے۔ لیکن ان لوگوں کی توجہ اس کے منطقی نتیجہ کی طرف نہیں گئی کہ چار پانچ فقہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے عالم اسلام میں موجود تمام منتخب اسمبلیوں کو اجتہاد کا حق دینے سے ان اسمبلیوں کے الگ الگ اجتہادات کی بنیاد پر جو سینکڑوں علاقائی اور جغرافیائی فقہیں تشکیل پائیں گی اس کی فرقہ واریت کی دلدل سے امت کو نکالنے کے لیے یہ حضرات پھر کیا راستہ تجویز کریں گے؟ صرف پاکستان میں وفاقی، پنجابی، سندھی، سرحدی اور بلوچی اسمبلیوں کی الگ الگ پانچ فقہیں بنیں گی اور چار یا پانچ فقہوں سے نجات دلانے کے شوق میں امت کو سینکڑوں نئی فقہوں کی دلدل میں دھکیل دیا جائے گا۔

الغرض یہ ایک باطل فکر ہے جس کی طرف علماء اور دینی دانشوروں کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter