تبلیغی جماعت کے اہداف: بانیٔ جماعت کے ملفوظات کی روشنی میں

   
۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء

۱۷ نومبر ۲۰۱۱ء سے رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع شروع ہے جس میں دنیا بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکن اور مبلغین شریک ہو کر اگلے سال کے تبلیغی پروگرام کا آغاز کریں گے اور ہزاروں جماعتیں تشکیل پا کر دنیا کے مختلف حصوں میں دین کی دعوت و تبلیغ کے مشن پر روانہ ہو جائیں گی۔ عالمی تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے افراد کی ہر سال بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اجتماع کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ تقسیم علاقائی نہیں بلکہ انتظامی ہے جس کے مطابق پہلا اجتماع ۱۷ نومبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات کو شروع ہو کر ۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء بروز اتوار کو دعا پر اختتام پذیر ہوگا۔ جبکہ دوسرا اجتماع ۲۴ نومبر جمعرات کو شروع ہو کر ۲۷ نومبر ۲۰۱۱ء بروز اتوار کو دعا کے ساتھ مکمل ہوگا۔ اور دونوں اجتماعات میں ملک کے ہر حصے سے ہزاروں افراد شریک ہوں گے۔

تبلیغی جماعت کی جدوجہد اصولی طور پر مسلمانوں کو دین کے عملی ماحول کی طرف واپس لانے، مسجدوں کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں میں دین کی تعلیم اور دینی اعمال پر عمل کا ذوق بیدار کرنے کی تحریک ہے۔ تبلیغی جماعت کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ جب عام مسلمانوں میں دین پر عمل کا ماحول عام ہوگا، مسجدیں آباد ہوں گی، قرآن و سنت کی تعلیم کا فروغ ہوگا اور امت مسلمہ مجموعی طور پر دینی ماحول کی طرف واپس آجائے گی تو اس سے دو بڑے فائدے ہوں گے:

  • ایک یہ کہ خود امت مسلمہ کے مسائل حل ہوں گے اور ان کی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا جو دین سے دوری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اور روز بروز ان مسائل و مشکلات کی وسعت اور سنگینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
  • دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلم معاشرے میں دینی ماحول بحال ہونے سے غیر مسلم اقوام کے لیے بھی کشش اور دلچسپی کا سامان مہیا ہوگا جو دنیا بھر کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے اور جناب رسول اللہؐ کی تعلیمات کی طرف راغب کرنے کا باعث بنے گا۔

چنانچہ اس کے لیے تبلیغی جماعت کے قائدین مسلم معاشرے میں دینی ماحول کی بیداری اور مسجد کی رونق و آبادی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرون اولیٰ میں اسلام کی دعوت دنیا بھر میں پھیلنے اور بہت سی غیر مسلم اقوام کے اسلام قبول کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مسلمانوں کا دینی کردار اور اخلاقی برتری رہی ہے۔ یہ دینی ماحول اور اخلاقی برتری آج بھی بحال ہو جائے تو دنیا بھر میں اسلام کی دعوت کے فروغ اور سات ارب انسانوں پر مشتمل پوری دنیا کی آبادی کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

عام مسلمانوں کو دین کے اعمال اور ماحول کی طرف واپس لانے کی محنت کا آغاز ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے میوات کے علاقے سے کیا تھا جو برصغیر کے معروف دینی رہنما شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے اور ان کی زندگی میں ہی ان کے خلوص و للٰہیت کے باعث ان کی یہ محنت ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئی تھی۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی وفات ۲۱ رجب ۱۳۶۳ھ کو ہوئی، اس طرح اس جدوجہد کو پون صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر میں مسلسل وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی اور سب سے پہلے امیر حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کے پیش نظر اس محنت کے اہداف کیا تھے اور وہ کن مقاصد کے لیے اس میدان میں سرگرم عمل ہوئے تھے، اس کی ایک جھلک ان کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتابچے میں دیکھی جا سکتی ہے جو برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے مرتب کیا تھا اور دارالاشاعت اردو بازار کراچی کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ ان میں سے چند ملفوظات ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلسل پھیلنے والی اس دینی جدوجہد کے اہداف کیا تھے اور وہ کن مقاصد کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ

  • انبیاء کرام علیہم السلام کی امتوں کی عام حالت یہ رہی ہے کہ جوں جوں زمانۂ نبوت سے ان کو بعد ہوتا تھا، دینی امور (عبادات وغیرہ) اپنی روح اور حقیقت سے خالی ہو کر ان کے ہاں محض ’’رسوم‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے تھے اور ان کی ادائیگی بس ایک بڑی رسم کے طور پر ہوتی تھی۔ اس گمراہی اور بے راہ روی کی اصلاح کے لیے پھر دوسرے پیغمبر مبعوث ہوتے تھے جو اس رسمی حیثیت کو مٹا کر امتوں کو امورِ دین کی اصل حقیقتوں اور حقیقی روحِ شریعت سے آشنا کرتے تھے۔ سب سے آخر میں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس وقت جن قوموں کا تعلق کسی سماوی دین سے تھا ان کی حالت بھی یہی تھی کہ ان کے پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت کا جو حصہ ان کے پاس باقی بھی تھا تو اس کی حیثیت محض چند بے روح رسوم کے مجموعے کی سی تھی، انہی رسوم کو وہ اصل دین و شریعت سمجھتے تھے۔ جناب رسول اللہؐ نے ان رسوم کو مٹایا اور اصل دینی حقائق اور احکامات کی تعلیم دی۔ امت محمدیؐ بھی اب اس بیماری میں مبتلا ہو چکی ہے، اس کی عبادات تک میں یہ رسومات اتر چکی ہیں حتیٰ کہ دین کی تعلیم بھی، جو اس قسم کی ساری خرابیوں کی اصلاح کا ذریعہ ہونا چاہیے تھی، وہ بھی بہت سی جگہ ایک رسم سی بن گئی ہے۔ چونکہ سلسلۂ نبوت اب ختم کیا جا چکا ہے اور اس قسم کے کاموں کی ذمہ داری امت کے علماء پر رکھ دی گئی ہے جو نائبین نبیؐ ہیں تو انہی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس ضلال اور فساد حال کی اصلاح کی طرف خاص طور پر متوجہ ہوں۔
  • طریقت کی خاص غایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام و اوامر کا مرغوب طبعی اور نواہی کا مکروہ طبعی ہوجانا، یعنی ایسی کیفیت پیدا ہوجانا کہ احکام و اوامر ہی کے بجالانے میں لذت و فرحت حاصل ہو اور نواہی یعنی ممنوعات کے پاس جانے سے اذیت اور کراہت ہونے لگے۔ یہ تو ہے طریقت کی غایت، باقی جو کچھ ہے یعنی خاص اذکار و اشغال اور مخصوص قسم کی ریاضت وغیرہ، وہ اس کی تحصیل کے ذرائع ہیں۔ لیکن اب بہت سے لوگ ان ذرائع ہی کو اصل طریقت سمجھنے لگے ہیں حالانکہ بعض تو ان میں سے بدعت ہیں۔ بہرحال چونکہ ان چیزوں کی حیثیت صرف ذرائع کی ہے اور یہ بذات خود مقصود نہیں اس لیے احوال و مقتضیات کے اختلاف کے ساتھ ان پر نظرثانی اور حسب مصلحت ترمیم و تبدیلی ضروری ہے۔ البتہ جو چیزیں شریعت میں مخصوص ہیں وہ ہر زمانے میں یکساں طور پر واجب العمل رہیں گی۔
  • جو لوگ گورنمنٹ کے وفادار اور حامی سمجھے جاتے ہیں درحقیقت وہ کسی کے بھی وفادار اور حامی نہیں ہیں بلکہ صرف اپنی اغراض کے وفادار ہیں۔ البتہ آج چونکہ ان کی وہ دنیوی اغراض موجودہ گورنمنٹ سے پوری ہوتی ہیں اس لیے وہ اس کے حامی اور وفادار بنے ہوئے ہیں لیکن اگر کل ان کی اغراض گورنمنٹ کے دشمنوں سے پوری ہونے لگیں تو وہ اسی درجہ میں ان کے بھی حامی اور وفادار ہو جائیں گے ورنہ حقیقی طور پر تو ایسے غرض پرست لوگ اپنے باپ کے بھی وفادار نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ تو ان لوگوں کی اصلاح کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ ان کو برا بھلا کہا جائے یا بس گورنمنٹ کی مخالفت پر ان کو آمادہ کیا جائے۔ ان کی اصل بیماری نفس پرستی ہے اور جب تک یہ ان میں موجود رہے گی اگر گورنمنٹ کی حمایت انہوں نے چھوڑ بھی دی تو اپنی اغراض کے لیے وہ کسی اور بڑی طاقت کے وفادار بن جائیں گے۔ اس لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان میں غرض پرستی کی بجائے خدا پرستی پیدا کی جائے اور اللہ اور اس کے دین کا انہیں سچا وفادار بنانے کی کوشش کی جائے، اس کے بغیر ان کی بیماری کا علاج نہیں ہو سکتا۔
  • ہماری اس تحریک کا اصل مقصد مسلمانوں کو ’’جمیع ماجاء بہ النبی‘‘ یعنی جو کچھ جناب نبی اکرمؐ لائے وہ سکھانا ہے اور اسلام کے پورے علمی و عملی نظام سے امت کو وابستہ کر دینا ہے۔ رہی قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ اور کلمہ و نماز کی تعلیم و تلقین گویا ہمارے پورے نظام کی الف ب ت ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ہمارے قافلے پورا کام نہیں کر سکتے، ان سے تو بس اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ ہر جگہ پہنچ کر اپنی جدوجہد سے ایک حرکت و بیداری پیدا کر دیں اور غافلوں کو متوجہ کر کے وہاں کے مقامی اہل دین سے وابستہ کرنے کی اور اس جگہ کے دین کی فکر رکھنے والے علماء و صلحاء کو بے چارے عوام کی اصلاح پر لگا دینے کی کوشش کریں۔ ہر جگہ پر اصل کام تو وہاں کے کارکن ہی کر سکیں گے۔ ہمارے طریقۂ کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعے اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک ماحول میں آجاتا ہے جس میں اس کے دینی جذبات کی نشوونما کا بہت کچھ سامان ہوتا ہے۔ نیز اس سفر و ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں پیش آتی ہیں اور دربدر پھرنے سے جو ذلتیں اللہ تعالیٰ کے لیے برداشت کرنا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہو جاتی ہے۔
  • اپنی اس تحریک کے ذریعے ہم ہر جگہ کے علماء و اہل دین اور دنیا داروں میں میل ملاپ اور صلح و آشتی بھی کرانا چاہتے ہیں۔ نیز خود علماء اور اہل دین کے مختلف حلقوں میں الفت و محبت اور تعاون و یگانگت کا پیدا کرنا بھی اس سلسلہ میں ہمارے پیش نظر بلکہ ہمارا اہم مسئلہ ہے اور یہ دینی دعوت ہی ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا ذریعہ و وسیلہ بنے گی۔ افراد اور جماعتوں میں اختلافات اغراض ہی کے اختلاف سے پیدا ہوتے اور ترقی کرتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے تمام گروہوں کو دین کے کام میں لگانے اور خدمتِ دین کو ان کا سب سے اعلیٰ مقصود بنانے کی اس طرح کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے جذبات اور طریقِ عمل میں موافقت پیدا ہو جائے، یہی چیز نفرتوں کو محبتوں میں بدل سکتی ہے۔
  • ایک ضرورت یہ ہے کہ تبلیغ سے تعلق رکھنے والوں کا یہاں اب مخلوط مجمع رہے جس میں ہر طبقے اور ہر طرح کے لوگ شامل ہوں۔ علماء بھی ہوں، اہل الذکر بھی ہوں، انگریزی تعلیم یافتہ بھی ہوں، تاجر بھی ہوں اور غریب عوام بھی ہوں۔ اس سے ہمارے طریقِ کار کو سمجھنے اور عملاً اس پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی اور ہم جو مختلف طبقات کا باہم اختلاط اور تعاون چاہتے ہیں اس کی بنیاد بھی ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے پڑ جائے گی۔ دین میں ٹھہراؤ نہیں ہے، یا تو آدمی دین میں ترقی کر رہا ہوتا ہے اور یا نیچے گرنے لگتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ باغ کو جب پانی اور ہوا موافق ہو تو وہ سرسبزی اور شادابی میں ترقی ہی کرتا رہتا ہے اور جب موسم ناموافق ہو اور پانی نہ ملے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ سرسبزی اور شادابی اپنی جگہ ٹھہری رہے بلکہ اس میں انحطاط شروع ہو جاتا ہے، یہی حالت آدمی کے دین کی ہوتی ہے۔
  • حدیث میں آتا ہے کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ مگر افسوس! لوگوں نے اس حدیث کو بھوک اور فاقہ والوں کے ساتھ رحم کے ساتھ مخصوص کر لیا ہے۔ اس لیے ان کو اس شخص پر رحم تو آتا ہے جو بھوکا ہو، پیاسا ہو، ننگا ہو، مگر مسلمان کی دین سے محرومی پر رحم نہیں آتا۔ گویا دنیا کے نقصان کو نقصان سمجھتا ہے لیکن دین کے نقصان کو نقصان نہیں سمجھا جاتا۔ پھر آسمان والا ہم پر رحم کیوں کرے جب ہمیں مسلمانوں کی دینی حالت ابتر ہونے پر رحم نہیں آتا۔ ہماری تبلیغ کی بنیاد اسی رحم پر ہے، اس لیے یہ کام شفقت اور رحم ہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
   
2016ء سے
Flag Counter