اسلام اور خواتین کے حقوق

   
جولائی ۱۹۹۳

انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک عورت ہے جس کا نسلِ انسانی کی نشوونما اور ترقی میں اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس اور احترام بخشا بلکہ اس کی اہمیت و افادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت کو انسانی معاشرہ میں ایک آزاد اور خودمختار وجود کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ بالخصوص جاہلی معاشرہ میں عورت کو نہ وراثت میں حقدار تسلیم کیا جاتا تھا اور نہ اس کی رائے کو وقعت دی جاتی تھی، بلکہ بعض علاقوں میں تو عورت اور جانوروں میں کوئی فرق روا نہ رکھا جاتا تھا۔ مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بارے میں جاہلی تصورات کی نفی کی اور اسے وہ تمام حقوق اور تحفظات بخشے جو فطری طور پر اس کے لیے ضروری تھے۔

آنحضرتؐ کا دور اور خلافتِ راشدہ کا زمانہ اسلام کی عملداری کے لحاظ سے ایک مثالی دور ہے اور جب ہم اس دور میں عورت کے معاشرتی مقام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں عورت کے حوالہ سے اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کے وہ تمام اعتراضات بے بنیاد نظر آتے ہیں جن کا ایک عرصہ سے مسلسل اور منظم پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور خواتین کو اسلامی قوانین و احکام کے نفاذ کی صورت میں بنیادی حقوق سے محرومی کا خوف دلا کر نفاذ اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند اہم انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلام کے خلاف مغربی لابیوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے۔

رائے کی آزادی

آزادیٔ رائے کو انسانی حقوق میں بنیادی اہمیت حاصل ہے اور امرِ واقعہ یہ ہے کہ آزادیٔ رائے کا جو معیار اسلام نے قائم کیا ہے دوسرا کوئی نظام آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خلیفۂ وقت کو سرعام ٹوک دینا اور اسے اپنی پوزیشن کی وضاحت کیے بغیر خطبۂ جمعہ میں آگے نہ بڑھنے دینا عوامی احتساب اور آزادیٔ رائے کی ایک قابل فخر مثال ہے۔ لیکن یہ واقعہ مرد کا ہے جبکہ تاریخ ایک اور منظر بھی پیش کرتی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک بوڑھی خاتون خولہ بنت حکیمؓ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سرِعام روک کر کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ’’عمر! وہ دن یاد رکھو جب تمہیں عکاظ کے بازار میں صرف عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور آج تم امیر المؤمنین کہلاتے ہو اس لیے خدا سے ڈرتے رہو اور انصاف کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہو۔‘‘ حضرت عمرؓ اس بڑھیا کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں اور اپنے عمل کے ساتھ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ انسانی معاشرہ میں مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ راہ چلتے امیر المؤمنین کا راستہ روک کر کھڑی ہو جائے اور عدل و انصاف کی تلقین کرے۔

حق طلبی

اسلام مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے جائز حق کے لیے ڈٹ جائے اور اس کے خلاف کسی بڑے سے بڑے دباؤ کی پروا نہ کرے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی باندی بریرہؓ کو آزاد ہونے کے بعد شرعی طور پر یہ حق حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ خاوند مغیثؓ کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے اپنا یہ حق استعمال کیا تو مغیثؓ پریشان ہوگیا اور وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں روتا پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ کوئی ہے جو بریرہؓ کو دوبارہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ کرے؟ اس کی یہ حالت دیکھ کر خود جناب رسول اکرمؐ نے بریرہؓ سے بات کی اور اسے اپنے فیصلہ پر نظرثانی کے لیے کہا۔ بریرہؓ نے صرف یہ پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ؟ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ مشورہ ہے۔ اس پر بریرہؓ نے دوٹوک کہہ دیا کہ یہ مشورہ قبول نہیں کر سکتی۔ چنانچہ بریرہؓ مغیثؓ سے الگ رہنے کے فیصلہ پر قائم رہی اور اپنے عمل کے ساتھ اسلام کا یہ اصول دنیا کے سامنے پیش کیا کہ عورت اپنے جائز حق سے ازخود دستبردار نہ ہونا چاہے تو اسے اس کے حق سے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا۔

اجتماعی معاملات میں مشاورت

خلافتِ راشدہ کے دور میں عورت اجتماعی معاملات میں مشاورت کے دائرہ میں شامل رہی ہے۔ بالخصوص ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن کو تو اس دور میں امتِ مسلمہ کی اجتماعی راہنمائی کا مقام حاصل تھا، اہم امور میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا اور ان سے اجتماعی معاملات میں راہنمائی حاصل کی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک موقع پر مدینہ منورہ کے عامل امیر مروان بن حکمؒ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جب تک ازواجِ مطہراتؓ موجود ہیں ہمیں دوسرے لوگوں سے مسائل دریافت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جبکہ عورتوں سے متعلقہ امور میں تو مشورہ ہی عورتوں سے کیا جاتا تھا۔ مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کے ذمہ لگایا کہ وہ سمجھدار عورتوں سے مشورہ کر کے بتائیں کہ ایک عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزارا کر سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی رائے پر حضرت عمرؓ نے حکم جاری کیا کہ ہر فوجی کو چھ ماہ کے بعد کچھ دنوں کے لیے ضرور گھر بھیجا جائے۔

تعلیم و افتا

خلافتِ راشدہ کے دور میں خواتین کو علم حاصل کرنے اور تعلیم دینے کے آزادانہ مواقع میسر تھے۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ بیسیوں خواتین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات امت تک پہنچانے کا شرف حاصل ہے۔ ان کے شاگردوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، وہ نہ صرف احادیث بیان کرتی تھیں بلکہ فتویٰ بھی دیتی تھیں اور ان کے فتویٰ پر عمل کیا جاتا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے جو فتاوٰی منقول ہیں ان سے ایک بڑا مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے بڑے بڑے علماء صحابہؓ مسائل میں رجوع کرتے تھے اور اپنے اشکالات کا تسلی بخش جواب پاتے تھے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ اور دیگر امہات المؤمنین سے بھی علمی معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا۔ الغرض علم اور افتا کا میدان خواتین کے لیے کھلا تھا اور اس میں ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔

معاشی تحفظ

اسلام نے عورت کے معاشی حقوق اور تحفظات کا جو متوازن نظام پیش کیا ہے وہ بھی اسلام کی صداقت کی دلیلوں میں سے ایک بڑی دلیل ہے۔ یہ شعبہ ایسا ہے جہاں بڑے بڑے نظام افراط و تفریط کا شکار ہوگئے ہیں لیکن اسلام نے اعتدال اور توازن کا اصول یہاں پوری طرح قائم رکھا ہے۔ آج ’’عورت اور مرد کی ہر میدان میں برابری‘‘ کے خوشنما نعرے کے ساتھ عورت کو دوہری ذمہ داریاں ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ذمہ داری وہ ہے جو فطری طور پر اسی کے ذمہ ہے اور وہ اس ذمہ داری سے نہ دست کش ہو سکتی ہے اور نہ اسے کسی اور کو منتقل کر سکتی ہے۔ یہ ذمہ داری بچے کی پیدائش، پرورش اور گھر کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرنے کی ہے۔ مرد کچھ بھی کرے وہ ان میں سے کوئی ذمہ داری نہیں نباہ سکتا، یہ تینوں ڈیوٹیاں لامحالہ عورت ہی سنبھالتی ہے۔ لیکن مغرب کا آزادی اور برابری کا فلسفہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ کمانے کی ذمہ داری بھی قبول کرے اور مرد کی برابری کرنے کے شوق میں ملازمت بھی اختیار کرے۔ اس طرح مغرب کا مرد عورت کی فطری ذمہ داریوں میں سے کوئی ذمہ داری اپنے سر لیے بغیر اپنی نصف ذمہ داری عورت کے کھاتے میں ڈالنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اسے معاشی آزادی اور برابری کا نام دے دیا گیا ہے حالانکہ یہ سراسر ظلم ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ روسی دانشور گورباچوف کے بقول پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں آبادی کا بہت بڑا حصہ قتل ہوجانے کے بعد دفاتر اور کارخانوں میں افرادی قوت کی کمی ہوئی تو یورپ کے دانشوروں نے عورتوں کے ذریعے یہ خلا پر کرنا چاہا اور انہیں گھروں سے نکال کر دفاتر اور کارخانوں میں لانے کے لیے معاشی برابری کا خوشنما نعرہ ایجاد کیا۔ ورنہ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ سراسر ظلم ہے اور اس ظلم کا نقد نتیجہ یورپی معاشرہ کو مل گیا ہے کہ وہاں خاندانی زندگی کا ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو کوئی فریب نہیں دیا اور اسے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ چونکہ گھر کے اندر کا نظام عورت کی سپرداری میں ہے اس لیے باہر کی کوئی ڈیوٹی اس کے سپرد کرنا اس پر ظلم ہے۔ اسی لیے عورت کے تمام اخراجات مرد کے ذمے لگا دیے گئے ہیں اور ان اخراجات کے سلسلہ میں عورت کو عدالتی تحفظات بھی دیے گئے ہیں تاکہ کوئی مرد اس معاملہ میں عورت کے ساتھ نا انصافی نہ کر سکے۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کمانا اور ملازمت کرنا فرائض میں سے ہے، یہ ایک مشقت کی بات ہے اور اس کا شمار ذمہ داریوں میں ہوتا ہے لیکن مغرب کے فلسفہ نے اس پر حقوق کا لیبل لگا کر عورتوں کو یہ باور کرانے کی مہم چلا رکھی ہے کہ انہیں ملازمت سے الگ رکھ کر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اور بے چاری عورت یہ دیکھے بغیر اس نعرے کے پیچھے لپکی جا رہی ہے کہ حقوق کے نام پر اس کے فرائض کو ڈبل کیا جا رہا ہے۔ اسلام نے فرائض کی ایک فطری تقسیم کر دی ہے کہ گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت کی ہے اور باہر کی ذمہ داری مرد پر ہے۔ اور مرد و عورت کی خلقت میں فطرت نے جو طبعی فرق رکھا ہے اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی تقسیم ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عورت کے ملازمت کرنے پر کلی پابندی لگاتا ہے، ہرگز نہیں! بلکہ اسلام عورت کو ایسی ہر ملازمت کی اجازت دیتا ہے جس سے اس کی نسوانی حیثیت متاثر نہ ہو، اس کی خاندانی ذمہ داریوں پر زد نہ پڑے اور اس پر اس کی طاقت و صلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

الغرض اسلام عورت کو انسانی زندگی کی گاڑی کا برابر کا پہیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں اپنا فطری کردار ادا کرنے کے لیے اسے درکار ہیں۔ البتہ اسلام فرائض کی تقسیم مرد اور عورت کے طبعی تقاضوں اور فطری ضروریات کو سامنے رکھ کر کرتا ہے اور عورت کو ہر ایسے عمل سے روکتا ہے جو اس کے نسوانی وقار، فطری ذمہ داریوں اور طبعی مناسبت کے منافی ہو۔ اور مغربی میڈیا کے تمام تر بلند بانگ دعوؤں اور پراپیگنڈا کے باوجود اسلام کا یہ اصول حق تلفی نہیں بلکہ عین انصاف ہے جس کے بغیر انسانی معاشرت کو متوازن رکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter