افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

   
۲۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ مضمون ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا اور ہماری ویب سائیٹ zahidrashdi.org/110 پر ’’مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان‘‘ کے عنوان سے پڑھا جا سکتا ہے۔ اس مضمون کے جہادِ افغانستان اور امارتِ اسلامیہ افغانستان سے متعلقہ کچھ حصے درج ذیل ہیں:

’’افغانستان میں روسی افواج کی آمد کے بعد جہاد کا اعلان افغانستان کے علماء کرام نے کیا تھا اور پاکستان کی متعدد دینی جماعتوں اور مدارس کے طلبہ و اساتذہ نے اس کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس میں عملی طور پر شرکت بھی کی تھی۔ یہ حمایت اور تعاون اس بنیاد پر تھا کہ اپنے وطن کی آزادی اور قومی خود مختاری کی بحالی کے لیے افغان عوام کی جنگ نہ صرف ان کا قومی حق ہے بلکہ یہ شرعی فریضہ اور جہاد بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اس جہاد آزادی میں ان سے تعاون اور ان کی امداد دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص پڑوسی مسلمانوں پر شرعاً واجب ہے۔ وہ جہاد کی فضیلت و اہمیت اور اس کے احکام و مسائل قرآن و سنت اور فقہ میں مسلسل پڑھتے چلے آرہے تھے جن پر عمل درآمد کا انہیں موقع سامنے نظر آ ر ہا تھا۔ نیز مسلم ممالک پر استعماری قوتوں کے تسلط اور عالم اسلام کے وسائل اور متعدد مقامات پر غیر مسلم طاقتوں کے قبضہ اور وہاں کی اکثریتی مسلم آبادی کو آزادی اور اسلامی تشخص سے محروم کر دینے کے تناظر نے انہیں مسلط قوتوں کے خلاف نفرت و انتقام کے جذبہ سے بھی سرشار کر رکھا تھا، چنانچہ انہوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔

ابتدا میں افغان علماء کے اس اعلان جہاد اور پاکستان کے دینی حلقوں کی طرف سے ان کی حمایت و تعاون کو دیوانے کا خواب سمجھا گیا اور کھلم کھلا یہ کہا گیا کہ یہ چند مذہبی دیوانے اور بے وقوف ہیں جو ایک عالمی طاقت کے ساتھ ٹکرا کر اپنا سر پھوڑنے جا رہے ہیں، مگر ان دیوانوں کی یہ دیوانگی جاری رہی۔ کم و بیش تین سال تک کیفیت یہ تھی کہ ان مجاہدین نے عام طورپر میسر معمولی ہتھیاروں کے ساتھ فقر و فاقہ کے ماحول میں گوریلا جنگ لڑی۔ انہیں پاکستانی حکومت اور اس کے بعد پاکستانی عوام کی تھوڑی بہت حمایت حاصل تھی۔ اس زمانے میں یہ مجاہدین شیشے کی بوتلوں میں پٹرول اور صابن کا محلول بھر کر مصنوعی بم بنا یا کرتے تھے اور انہیں ٹینک شکن ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ان تین چار برسوں میں ان مجاہدین کے استعمال میں آنے والے ہتھیار اگر کسی جگہ یادگار کے طور پر محفو ظ کیے گئے ہوں تو انہیں دیکھ کر اس دور کی جنگ کے ماحول کا آج بھی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بے سروسامانی کی جنگ کے نتیجے میں جب افغانستان کے ایک بڑے حصے میں مجاہدین کے مختلف گروپوں نے اپنے زیر اثر علاقے قائم کر لیے اور یہ نظر آنے لگا کہ یہ جنگ جاری رہ سکتی ہے تو امریکہ اور دیگر بہت سے ممالک نے اس جنگ میں سوویت یونین کی ہزیمت کے امکانات دیکھ کر اس میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر افغان مجاہدین کے پاس جدید ہتھیاروں اور وسائل کی ریل پیل ہو گئی۔

ہمارے خیال میں اس مرحلے میں افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں کی قیادت سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے بیرونی امداد اور سرمایہ دارانہ بلاک کی معاونت اور حمایت کی حدود طے کرنے کی بجائے انہیں جنگ میں ایک شریک کار کے طور پر قبول کر لیا۔ مجاہدین کے آٹھ مختلف گروپوں کو ملا کر ایک اتحاد قائم کیا گیا اور سرمایہ دارانہ بلاک نے اس جنگ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اگر افغان مجاہدین کی قیادت کچھ مزید صبر سے کام لے کر بیرونی امداد و تعاون کو انتہائی ضرورت کی حد تک محدود رکھتے ہوئے پالیسی سازی کے معاملات پر اپنی گرفت قائم رکھتی تو نتائج بہت مختلف ہوتے لیکن ایسا نہ ہو سکا، جب کہ ہماری معلومات کے مطابق اس موقع پر افغان مجاہدین کے آٹھ مختلف گروپوں کے متحدہ محاذ کی قیادت میں اس مسئلے پر اختلاف رائے بھی ہوا اور متحدہ محاذ کے سیکرٹری جنرل مولانا نصراللہ منصور شہید نے سرمایہ دارانہ بلاک کے سامنے افغان مجاہدین کی قیادت کی خود سپردگی کے اس رویے سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ مولانا نصراللہ منصور شہید کا موقف یہ تھا کہ بیرونی قوتوں سے امداد لی جائے لیکن پالیسی سازی پر اپنا کنٹرول قائم رکھا جائے، مگر وہ اپنے موقف کو منوا نہ سکے اور اتحاد سے الگ ہوگئے۔

اس کے بعد صورت حال یہ بن گئی کہ افغان مجاہدین اپنے وطن کی آزادی، افغانستان کی قومی خود مختاری اور ایک شرعی اسلامی حکومت کے قیام کے لیے لڑ رہے تھے، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک سے آنے والے ہزاروں نوجوان اپنے افغان بھائیوں کی امداد اور جہاد میں عملی شرکت کے جذبہ سے لڑ رہے تھے، لیکن عالمی قوتیں بالخصوص سرمایہ دارانہ بلاک اس جنگ کے ذریعے سوویت یونین کو شکست دینے کے مقصد کے تحت اس جنگ کو سپورٹ کر رہا تھا اور اسی وجہ سے ایسا ہوا کہ سوویت افواج کی واپسی کے بعد سرمایہ دارانہ بلاک نے اپنا ہدف حاصل کر کے جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پہلے دونوں گروہ جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کے حصول کے لیے سرگرداں ہو گئے۔

یہی وہ موقع ہے جب پاکستان میں، جو جہاد افغانستان کا سب سے بڑا پشت پناہ اور مجاہدین کا بیس کیمپ تھا، حکومتی سطح پر اختلافات پیدا ہوئے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اس جنگ کو اس کے منطقی نتائج تک پہنچانے اور افغان مجاہدین کی حکومت کے قیام اور استحکام تک اس میں عملاً شامل رہنے کا عزم رکھتے تھے، جب کہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم اس جنگ کو اسی مرحلہ پر مکمل سمجھتے ہوئے اس سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اسی کشمکش کی فضا میں جنیوا معاہدہ نے جنم لیا جو جہاد افغانستان اور افغان عوام کے بارے میں عالمی قوتوں کی منافقانہ پالیسیوں کا شاہکار تھا اور اس نے افغانستان میں ایک مستحکم حکومت و نظام کے قیام کی بجائے خانہ جنگی اور خلفشار کا نیا ماحول پیدا کیا۔

اسی خلفشار اور خانہ جنگی سے طالبان نے جنم لیا جنھوں نے افغانستان کے ایک بڑے حصے کو کچھ عرصے کے لیے بدامنی اور لاقانونیت سے تو نجات دلا دی لیکن وہ اپنی حکومتی ترجیحات میں ایسی ترتیب قائم نہ کر سکے کہ اپنے اصل اہداف کی طرف موثر پیش رفت جاری رکھ سکتے۔ ظاہر بات ہے کہ طالبان کی حکومت کا وجود میں آنا مقامی حالات کا نتیجہ تھا جو عالمی قوتوں کے ایجنڈے اور مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی اور انہیں عالمی ایجنڈے میں فٹ کرنے کے لیے اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش ہوتی رہی لیکن جب یہ بات طے ہوگئی کہ انہیں عالمی ایجنڈے اور پروگرام میں ایڈجسٹ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے تو ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ مرحلہ وہ تھا جب افغانستان کے جہاد میں شریک ہونے والے عرب مجاہدین نے مشرق وسطی میں اسرائیل، بیت المقدس، تیل کی دولت کے استحصال اور امریکی افواج کی موجودگی کے تناظر میں اپنا ایجنڈا طے کیا اور اس کی طرف پیش رفت کا پروگرام بنایا اور ظاہر بات ہے کہ یہ بھی عالمی قوتوں کے مفاد اور ایجنڈے سے متصادم بات تھی۔

افغان طالبان اور عرب مجاہدین کا دائرۂ کار الگ الگ تھا، لیکن نظریاتی اہداف مشترک تھے، اس لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی، ہم آہنگی اور تعاون کی فضا موجود تھی۔ دوسری طرف یہ دونوں گروہ عالمی استعمار کے پروگرام اور ایجنڈے کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے، کیوں کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا اور افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت کا راستہ روکنا عالمی استعمار کی اولین ترجیحات چلی آرہی ہیں، چنانچہ وہ جنگ جو اس سے پہلے افغان مجاہدین اور سوویت افواج کے درمیان تھی، اب وہی معرکہ افغان مجاہدین، عرب مجاہدین اور امریکی استعمار کے درمیان معرکہ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔

ہمارے خیال میں اس مرحلے میں مجاہدین کی قیادت کو اپنی ترجیحات کے تعین میں حقیقت پسندانہ طور پر معروضی حالات کا لحاظ رکھنا چاہیے تھا جو نہیں رکھا جا سکا اور بازی الٹ گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دونوں جنگیں بیک وقت لڑنے کی بجائے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے کو ترجیح دی جاتی جس کے لیے ایک دستوری حکومت کا قیام، عالمی سطح پر حکمت عملی کے ساتھ رائے عامہ کی حمایت کا حصول اور عالم اسلام کی دینی قوتوں کو نظریاتی اور ملی اہداف کے لیے مجتمع کرنا سب سے زیادہ ضروری امور تھے۔ مشرق وسطی کی جنگ کو اس وقت تک تھوڑا موخر کر لیا جاتا تو یہ ایک بہتر حکمت عملی ہوتی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ہم اس امکان کو نظر انداز نہیں کرتے کہ ایسا نہ ہوسکنے کے پیچھے ان دونوں گروہوں کے مجاہدین کے انتہائی خلوص کے باوجود ان دیکھے ہاتھ حرکت میں رہے ہوں گے۔

نائن الیون کے المناک سانحہ نے اس صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی پیدا کر دی اور وہ کام جو ابھی کئی سالوں میں ہونے تھے، اس کے لیے مہینے اور ہفتے بھی طویل دکھائی دینے لگے۔ اس مرحلہ میں افغان طالبان اور عرب مجاہدین میں سے کسی ایک کو دوسرے کے لیے قربانی دینا تھی اور ہمارے خیال میں اگر یہ قربانی عرب مجاہدین دے دیتے تو افغان طالبان کو سنبھلنے اور عالم اسلام میں اپنے بہی خواہوں سے رابطہ و مشاورت کے ساتھ کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے کا تھوڑا سا موقع مل جا تا، لیکن یہ بھی نہ ہوا اور اپنے عرب مجاہد بھائیوں کی خاطر افغان طالبان نے پورے خلوص کے ساتھ اپنی حکومت کی قربانی دے دی۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر عرب مجاہدین افغا ن طالبان کے لیے قربانی دیتے، تب بھی بالآخر نتیجہ یہی ہونا تھا اور جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ہونا طے پا چکا تھا۔ ہمیں اس سے اتفاق ہے، لیکن ہمارا وجدان یہ کہتا ہے کہ اگر طالبان حکومت اور عالم اسلام میں ان کے بہی خواہوں کو باہمی مشاورت و رابطہ اور کوئی راستہ نکالنے کے لیے سنبھلنے کا تھوڑا سا وقت مل جاتا تو نتائج کی شدت کو کم کر نے کے امکانات بہرحال موجود تھے۔ بہرحال اب جو ہونا تھا ہوچکا اور اس کے بعد کے مراحل بتدریج طے ہو رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ افغان قوم کے موجودہ حالات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گے اور ان میں نئی کروٹ کے آثار اب افق پر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے افغان طالبان کو ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی نئی منصوبہ بندی اور صف بندی کرنا ہوگی اور دوست دشمن کی پہچان بلکہ نادان اور دانا دوستوں کے درمیان فرق کے لیے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض کرنا ہو گا۔

جہاں تک پاکستان کے ان دینی حلقوں کا تعلق ہے جنہوں نے جہاد افغانستان میں اپنے افغان بھائیوں کی مدد کی اور ان کے ساتھ شریک کار ہوئے، مختلف مراحل کی ان غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود ان کا یہ فیصلہ اور کردار ہمارے خیال میں بالکل درست تھا اور اس پر کسی قسم کی ندامت کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان کی قربانیوں سے عالمی سطح پر متحارب دو قوتوں میں سے ایک نے فائدہ اٹھایا اور اپنے مقاصد حاصل کیے، لیکن اگر وہ اس جنگ میں شریک نہ ہوتے اور خاموشی اختیار کر لیتے تو یہی فوائد دوسری عالمی قوت کے پلڑے میں چلے جاتے۔ مجاہدین کے عمل اور قربانیوں سے کسی ایک قوت کو تو فائدہ پہنچنا ہی تھا بلکہ جب بھی کوئی گروہ یا قوت اس قسم کے ماحول میں کوئی کردار ادا کرتی ہے تو لازمی طور پر کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور کسی کو نقصان بھی ہوتا ہے۔ اگر قومیں اپنے فیصلے اس بنیاد پر کرنے لگیں تو شاید ہی کوئی قوم یا طبقہ کسی معرکہ میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ فیصلوں کی بنیاد اپنے اہداف پر ہوتی ہے، اس لیے افغان مجاہدین اور ان کے پاکستانی مددگاروں نے جو فیصلہ کیا تھا، عالمی سطح پر اس کا ایک نتیجہ منفی ہے کہ طاقت کا توازن نہیں رہا اور دو قوتوں کے آمنے سامنے رہنے سے کمزور قوتوں کو جو سہارا مل جاتا تھا، وہ نہیں رہا اور اب ساری دنیا ایک ہی عالمی طاقت کے رحم و کرم پر ہے، لیکن اس کے فوائد بھی ہوئے ہیں جن کا تذکرہ ہم ابتدا میں کرچکے ہیں کہ اس سے نہ صرف مشرقی یورپ، وسطی ایشیا اور بالٹک ریاستوں کو خود مختاری ملی بلکہ جرمنی کو بھی اتحاد نصیب ہوا۔

سوویت یونین کی شکست اور عالمی سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ بلاک کی کامیابی کی حد تک یہ ایجنڈا عالم اسلام کے بیشتر ممالک اور مغربی استعماری قوتوں کے مفاد میں تھا، اس لیے انہوں نے افغان جہاد کو مکمل طور پر سپورٹ کیا، لیکن یہ طے کر کے کیا کہ سوویت یونین کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے تو پوری طرح فائدہ اٹھایا جائے مگر اس کے نتیجے میں شریعت کے نفاذ کے ایجنڈے کو افغانستان میں پوری قوت کے ساتھ روک دیا جائے۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جونہی جہاد افغانستان نے روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی اور عالمی سطح پر سوویت بلاک کے بکھر جانے کا ہدف حاصل کر لیا، مجاہدین کے بارے میں سر مایہ دارانہ بلاک کا طرز عمل تبدیل ہو گیا۔ افغانستان میں مجاہدین کی مستحکم حکومت بنوانے کی بجائے ان کے مختلف گروپوں کو باہمی خانہ جنگی کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا بلکہ اس خانہ جنگی کی حوصلہ افزائی کر کے مجاہدین کو بتدریج کمزور کرتے چلے جانے کی حکمت عملی طے کر لی گئی جس کے نتیجے میں تاریخ انسانی کا یہ اندوہناک المیہ سامنے آیا کہ جن ممالک اور قوتوں نے جہاد افغانستان کے ثمرات دونوں ہاتھوں سے سمیٹے، انہوں نے جنگ لڑنے اور قربانیاں دینے والے مجاہدین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جہاد افغانستان کے نتیجے میں:

  • عالمی سطح پر سوویت یونین کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ بلاک کو فتح حاصل ہوئی،
  • مشرقی یورپ کی ریاستیں آزاد ہوئیں،
  • بالٹیک ریاستوں نے کسی جدوجہد کے بغیر آزادی کی منزل حاصل کر لی،
  • وسطی ایشیا کی ریاستوں نے خود مختاری حاصل کی،
  • دیوار برلن ٹوٹی اور جرمنی ایک بار پھر متحد ہو گیا،
  • پاکستان نے بلوچستان کے ساحلوں تک سوویت یونین کی رسائی کے خوف سے نجات پائی۔

مگر ان سب نے جہاد افغانستان کے ثمرات سے اپنی اپنی جھولیاں بھرنے کے بعد مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیا۔ جہاد افغانستان سے بیرونی قوتوں نے اپنے اپنے مقاصد حاصل کر لیے، لیکن جنگ لڑنے اور اس میں لاکھوں جانوں کی قربانی دینے والوں کا اپنا مقصد کہ افغانستان ایک اسلامی ریاست بنے اور اس میں شریعت اسلامی کا نفاذ ہو، ادھورا رہ گیا۔

مجاہدین کے مختلف گروپوں کو اکٹھا بٹھانا، ان کا کوئی مشترکہ ایجنڈا طے کرنا اور ان کے مستقبل کی حدود اور دائرۂ کار کا تعین کرنا جہاد افغانستان میں ان کو سپورٹ کرنے والوں اور ان کو قربانیوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری تھی، لیکن جب سب نے اپنا اپنا حصہ وصول کر کے گھروں کی راہ لی اور مجاہدین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تو ظاہر ہے کہ اب مجاہدین کے مختلف گروپوں نے اپنا اپنا ایجنڈا خود ہی طے کرنا تھا جو انہوں نے کیا اور اسی کے تلخ نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا کے پورے خطے کو بلکہ مجاہدین سے لاتعلقی اختیار کرنے والوں کو بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

طالبان کے مختلف گروہوں نے اسی صورت حال کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس پس منظر سے آنکھیں بند کرتے ہوئے ان کے کردار اور نفسیات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے مجاہدین کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے کردار کا الگ الگ تجزیہ کرنا بھی موجودہ صورت حال کے صحیح ادراک کے لیے ضروری ہے۔

جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کا ایک بڑا حصہ افغانستان کے ان باشندوں پر مشتمل ہے جنھوں نے سوویت یونین کے فوجی تسلط سے آزادی اور اپنے ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کی بحالی کے لیے جنگ لڑی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ جہاد افغانستان کے نتیجے میں سوویت فوجوں کی واپسی اور مجاہدین کی حکومت قائم ہو جانے کے باوجود جہاد کے اصل مقصد یعنی نفاذ شریعت کی طرف کوئی موثر پیش رفت نہیں ہو رہی بلکہ بدامنی، افراتفری، لاقانونیت اور خانہ جنگی بڑھتی جا رہی ہے تو وہ اس کے ردعمل میں طالبان کی صورت میں سامنے آئے اور ملک کے ایک بڑے حصے میں پانچ سال تک حکومت قائم کر کے جہاد افغانستان کے منطقی ہدف کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا اور اب وہ امریکی اتحاد کی فوجوں کے خلاف اسی طرح جنگ لڑ رہے ہیں جیسے انہوں نے سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف لڑی تھی اور وہ اسے بھی آزادی اور خود مختاری کی جنگ سمجھتے ہیں۔

جہاد افغانستان میں شامل مجاہدین کا دوسرا بڑا حصہ ان ہزاروں پاکستانی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد وطن واپس آئے۔ ان کے مستقبل کے بارے میں ان کی راہنمائی اور ان کے جذبات و تجربات کو صحیح رخ پر لگانے کے لیے منصوبہ بندی پاکستان کے قومی حلقوں کی ذمہ داری تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ شاید کچھ ذمہ دار حلقوں نے انہیں اس لیے کھلا چھوڑ دیا ہو کہ ان سے کشمیر میں اسی طرح فائدہ اٹھایا جا سکے گا جس طرح افغانستان میں ان سے فائدہ اٹھایا گیا تھا، مگر غالباً عالمی قوتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کے نتیجے میں مجاہدین کے ان گروپوں نے بھی اپنا اپنا ایجنڈا خود طے کیا اور اپنے اپنے ذہنی رجحانات کے مطابق میدان کار منتخب کر لیا۔ بہت سے افراد کی صلاحیتیں فرقہ وارانہ کشمکش کو بڑھانے میں استعمال ہوئیں جب کہ بہت سے گروہوں نے پاکستان کو افغانستان پر قیاس کرتے ہوئے نفاذ شریعت کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کر لیا اور ملک کی رولنگ کلاس کا طرزعمل اس مسلح جدوجہد کے لیے بتدریج راستہ ہموار کرتا چلا گیا۔

مثلاً سوات میں نفاذ شریعت کے لیے جب جدوجہد شروع ہوئی تو طالبان کا کہیں بھی کوئی وجود نہیں تھا اور اس تحریک کا پس منظر صرف اتنا تھا کہ سوات کے عوام مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں ان کے ریاستی دور کا وہ عدالتی نظام واپس کر دیا جائے جو نہ صرف برطانوی دور میں بلکہ ۱۹۶۹ء تک پاکستان کے دور میں بھی رائج رہا ہے۔ ان کے خیال میں شرعی قوانین پر مبنی وہ عدالتی نظام انہیں سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عقیدہ و مذہب سے بھی مطابقت رکھتا ہے، اس لیے وہی ان کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ ان کا یہ موقف قبول کر لیا گیا اور ایک آرڈیننس کے ذریعے انہیں یہ نظام مہیا کرنے کا اعلان کر دیا گیا، لیکن وہ آرڈیننس محض الفاظ کا ہیر پھیر تھا جس کی حقیقت واضح ہونے کے بعد عوام کے جذبات میں شدت پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ موجودہ حالات تک بات جا پہنچی۔ اس قسم کے ماحول میں جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے پاکستانی مجاہدین کے بعض گروہوں نے نفاذ اسلام کے لیے شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا جس کی ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں نے کبھی حمایت نہیں کی اور خود ہم بھی اس طریق کار کو کھلے بندوں غلط قرار دینے والوں میں شامل ہیں، لیکن اس کے پس منظر اور اسباب و عوامل کو نظر انداز کر دینا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔

جہاد افغانستان میں شامل مجاہدین کا تیسرا حصہ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے ان ہزاروں افراد پر مشتمل تھا جنھوں نے سوویت افواج کے خلاف جنگ میں عملاً حصہ لیا، مگر اس جنگ کے خاتمہ کے بعد اپنے اپنے ملک میں واپس جانے میں ان کے تحفظات تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ وطن واپسی کی صورت میں ان کی جان اور آزادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان ہی پناہ گاہ ہو سکتا تھا چنانچہ انہوں نے یہاں رہ جانے کو ترجیح دی اور پاکستان میں آباد ہونے کے لیے مختلف صورتیں اختیار کیں۔ ان کا بڑا حصہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں آباد ہوا۔ ان کے بارے میں ایک مجموعی پالیسی طے کرنا اور انہیں منظم طریقے سے پاکستانی معاشرے میں ایڈجسٹ کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی جس کی طرف پوری توجہ نہیں دی گئی اور انہیں بھی اپنے اپنے جذبات اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ مجاہدین کے اسی حصے میں سے القاعدہ وجود میں آئی جس نے مشرق وسطی میں امریکی فوجوں کی موجودگی کو بھی اسی نظر سے دیکھا جس نظر سے وہ افغانستان میں سوویت یونین کی موجودگی کو دیکھتے تھے اور ان کے لیے اس صورتحال کو قبول کرنا مشکل تھا کہ اگر افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی موجودگی افغانستان کی قومی خود مختاری اور آزادی کے منافی تھی تو مشرق وسطی میں امریکی افواج کی موجودگی ان ممالک کی قومی خود مختاری کے لیے خطرہ کیوں نہیں ہے اور ا گر افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی کی جنگ، آزادی کی جنگ اور جہاد تھی تو مشرق وسطی سے امریکی اتحاد کی فوجوں کی واپسی کی جنگ، آزادی کی جنگ اور جہاد کیوں نہیں ہے؟

ہمارے نزدیک افغانستان میں طالبان کا منظر عام پر آنا، پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے مسلح گروپوں کا متحرک ہونا اور مشرق وسطی میں القاعدہ کا وجود اور قوت حاصل کرنا جہاد افغانستان کی سپورٹر قوتوں کی اس غفلت، بے پروائی اور لاتعلقی کا منطقی نتیجہ تھا جو انہوں نے سوویت افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد جان بوجھ کر اختیار کرلی تھی، اس لیے اس صورت حال کا صرف مسلح گروپوں کا تنہا ذمہ دار قرار دینا زمینی حقائق اور انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ صورت حال نائن الیون کے المناک سانحہ کے بعد نمودار ہوئی ہے، مگر یہ بات درست نہیں ہے بلکہ خود نائن الیون کا حادثہ بھی انہی اسباب و عوامل کے باعث پیش آیا ہے۔ البتہ نائن الیون کے المناک سانحہ نے ان اسباب وعوامل کو مہمیز دی ہے اور ان کی قوت کار میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد صورت حال تیزی کے ساتھ مزید بگڑتی چلی گئی ہے۔‘‘

یہ گزارشات دوبارہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر افغان تنازعہ کو حل کرانے کی کوشش کرنے والی قوتیں سنجیدہ ہیں تو انہیں اس کے اسباب و عوامل، واقعاتی ترتیب اور زمینی حقائق کو پوری طرح سامنے رکھنا ہوگا ورنہ محض لیپاپوتی سے بالاتر قوتیں کوئی نیا ’’جنیوا معاہدہ‘‘ تو شاید اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں شامل کر لیں مگر اس سے افغان مسئلہ حل نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ تنازعہ ختم ہو سکے گا۔ سردست ان قوتوں سے، جو امریکہ اور امارت اسلامیہ افغانستان کے درمیان مذاکرات کے لیے سرگرم عمل ہیں، ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ان کی کوششوں سے اصولی طور پر اتفاق ہے اور ہم خود یہ چاہتے ہیں کہ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ جلدازجلد حل ہو تاکہ افغان قوم کسی حد تک سکھ کا سانس لے سکے۔ لیکن اس کے لیے ہمارے خیال میں چند فطری اور بنیادی اصولوں کو بہرحال پیش نظر رکھنا ہوگا، مثلاً یہ کہ:

  • افغان قوم کی تہذیبی روایات اور دینی اقدار کا احترام کیا جائے۔ چنانچہ جب وہ اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے لیے شریعت اسلامیہ کے عملی نفاذ کا فیصلہ کر رہے ہیں، جس کے لیے اگرچہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بے ترتیبی سے کام کیا ہے، لیکن بہرحال ان کی روایتی تہذیب و ثقافت کے تحفظ و تسلسل کو ان کا قومی حق تسلیم کرتے ہوئے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور ان پر بیرونی تہذیب مسلط کرنے سے گریز کرنا اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے ناگزیر ہے۔
  • بین الاقوامی معاہدات میں ان کی جبری شمولیت کے تاثر کو دور کیا جائے اور انہیں اپنی آزاد و خودمختار قومی حکومت کے قیام کے بعد پورے اطمینان اور عوامی اعتماد کے ساتھ ان معاہدات میں شمولیت کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دیا جائے۔
  • اور سب سے بڑی بات کہ امریکی اتحاد افغانستان میں اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھنے کی بے جا ضد چھوڑ دے اور اسے اپنی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے افغانستان سے بیرونی فوجوں کی واپسی کی حتمی تاریخ کا واضح اور دوٹوک اعلان کرے۔

ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام کو اس مسلسل تکلیف دہ کشمکش سے جلد نجات ملے، مگر یہ ان کے ایمان اور تہذیب کی قیمت پر نہ ہو بلکہ اس کی بنیاد ان کی قومی خودمختاری، وحدت و سالمیت اور نظریاتی و تہذیبی شناخت کے تحفظ پر ہو کیونکہ اسی صورت میں یہ مسئلہ مستقل اور پائیدار طور پر حل ہو سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter