نفاذ شریعت کے لیے حقیقی جدوجہد کی ضرورت ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

   
۱۱ فروری ۲۰۱۲ء

پاکستان شریعت کونسل کی مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس ۹ فروری کو مدرسہ امینیہ فاروقیہ امین ٹاؤن فیصل آباد میں مرکزی امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت ہوا جس میں مولانا عبد الرشید انصاری (فیصل آباد)، مولانا عبد الحق خان بشیر (گجرات)، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر (لاہور)، مولانا قاری عبید اللہ عامر (گوجرانوالہ)، مولانا محمد رمضان علوی (اسلام آباد)، مولانا سیف اللہ خالد (چنیوٹ)، مفتی سیف الدین گلگتی (اسلام آباد)، قاری محمد طیب مدنی (فیصل آباد)، مولانا محمد صابر سرہندی (فیصل آباد)، مولانا محمد فاروق (کھرڑیانوالہ)، مولانا عبد القیوم حقانی (نوشہرہ)، پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر لدھیانوی، مولانا قاری عبد الحمید حامد (چنیوٹ)، مولانا عبد المالک فاروقی (جھنگ)، مولانا محمد اقبال خان شیرانی (جھنگ)، مولانا قاری عبد الحفیظ محمدی (ڈیرہ اسماعیل خان)، پروفیسر حافظ زاہد علی (لاہور)، پروفیسر حافظ ظفر اللہ شفیق (لاہور)، قاری ذکاء الرحمان اختر (لاہور)، مولانا عبد الستار (گوجرہ)، قاری محمد خالد رشید (فیصل آباد)، مولانا عبد السمیع (فیصل آباد)، مولانا مفتی محمد نعمان (گوجرانوالہ) اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی، جبکہ راقم الحروف نے موجودہ ملکی صورتحال پر شرکائے اجلاس کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال اور دینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد کو تیز کرنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں نظام شریعت کنونشن منعقد کیے جائیں گے اور مارچ کے دوسرے عشرے کے دوران لاہور میں نظام شریعت کنونشن منعقد کر کے اس مہم کا آغاز کیا جائے گا اور اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اس مقصد کے لیے علماء کرام اور دینی کارکنوں کے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔

اجلاس میں قومی خودمختاری کے تحفظ، نیٹو سپلائی کی مستقل بندش اور نفاذ اسلام کے لیے مختلف دینی جماعتوں کے پبلک اجتماعات اور جدوجہد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور خاص طور پر دفاع پاکستان کونسل کے بھرپور عوامی اجتماعات اور جمعیۃ علماء اسلام کے کامیاب عوامی جلسوں پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اس احساس کا اظہار کیا گیا کہ دینی قیادت اگر عوامی محاذ پر متحرک ہو جائے تو اسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔

اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کو ملی و دینی مقاصد کے لیے کامیاب عوامی اجتماعات پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے مشترکہ عوامی اجتماعات کا بھی اہتمام کریں جو سیکولر حلقوں کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کی قیادت میں مرکزی راہنماؤں کا ایک وفد مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق سے ملاقات کر کے کونسل کی یہ اپیل ان کے سامنے رکھے گا۔

اجلاس میں اس بات کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی گئی کہ آئندہ الیکشن سے قبل تمام دینی و سیاسی قوتوں کو ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ یا اس طرح کا کوئی اور متحدہ فورم قائم کر کے اس کے تحت انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لینا چاہیے کیونکہ دینی سیاسی قوتوں کے باہمی افتراق کا فائدہ صرف اور صرف ان سیکولر حلقوں کو ہوگا جو اگلے انتخابات میں اپنی مرضی کی پارلیمنٹ وجود میں لا کر دستور پاکستان کی اسلامی دفعات اور اب تک نافذ ہونے والے اسلامی قوانین کا خدانخواستہ تیاپانچہ کرنا چاہتے ہیں۔

اجلاس میں افغان طالبان کے ساتھ امریکی حکومت کے سیاسی مذاکرات کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی گئی کہ وہ حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کر کے افغان قوم کی آزادی اور افغانستان کی قومی خودمختاری کے ساتھ خطے میں امن کو یقینی بنائیں اور پورے خطے کے عوام کو جنگ اور افراتفری کی صورتحال سے نجات دلائیں۔ اجلاس میں افغان طالبان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کی جلد اور بامقصد کامیابی کے لیے دعا کی گئی۔

اجلاس میں قومی اسمبلی میں وفاقی شرعی عدالت کے خاتمہ کے لیے پیش کی جانے والی تجویز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت ملک کے دستور اور نفاذ شریعت کی قانونی جدوجہد کا ناگزیر تقاضا ہے جس کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ہیں جو پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو خدانخواستہ ختم کرنے کے درپے ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کو تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات اور گزشتہ سال لاہور میں منعقد ہونے والی ملی مجلس شرعی کی اتحاد امت کانفرنس میں شریک تمام مکاتب فکر کے ۵۵ اکابر علماء کرام کے طے کردہ ۱۵ تائیدی نکات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کو ساتھ لے کر نفاذ شریعت کی جدوجہد کو منظم کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اجلاس میں ملک بھر کے علماء کرام اور خطباء سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے خطبات جمعہ، دروس، بیانات اور تقاریر میں عام مسلمانوں کو بتائیں کہ اسلامی نظام کی افادیت و ضرورت کیا ہے؟ اور خلفائے راشدین کے حالات و خدمات اور طرز حکومت کا مطالعہ کر کے رائے عامہ پر واضح کریں کہ اسلامی حکومت کے فرائض کیا ہوتے ہیں اور مسلم حکمران ایک اسلامی ریاست کو چلانے کے لیے کس طرح کام کرتے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مغربی لابیوں نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو مجروح کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور ان کے پاس اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار دینی قوتوں کا افتراق ہے۔ مغربی لابیوں نے پاکستان کی رائے عامہ اور منتخب اسمبلیوں میں بار بار ہزیمت کا شکار ہونے کے باوجود اپنا ایجنڈا تبدیل نہیں کیا اور مختلف مغربی حلقے پینترے بدل بدل کر اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی قوانین و احکام پر حملے کرتے جا رہے ہیں، جس کی طرف ملک کے دینی حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل محاذ عام لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے وابستہ کرنا اور اسلامی تعلیمات کا فروغ ہے کیونکہ جب عام مسلمان دینی تعلیمات سے وابستہ ہوں گے اور ہر طرف قرآن کریم کی تعلیم اور اللہ تعالٰی اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کی خوشبو عام ہوگی تو اسلام کے خلاف دنیا کی کسی بھی طاقت کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter