ترکی میں اسلام پسندوں کی کامیابی

   
اگست ۲۰۰۷ء

برادر مسلم ملک ترکی میں ہونے والے عام انتخابات میں جناب طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ ساڑھے پانچ سو میں سے تین سو چالیس نشستیں جیت کر دوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اس سے قبل بھی ترکی میں اسی پارٹی کی حکومت تھی اور طیب اردگان اس کے وزیر اعظم چلے آرہے تھے لیکن حالیہ انتخابات میں ملک کے سیکولر حلقوں نے فوج کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ جس طرح طیب اردگان اور ان کی جماعت کے خلاف عوامی مظاہرے کیے اور انہیں شکست دینے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، اس سے نظر آرہا تھا کہ یہ الیکشن ترکی میں اسلام پسند حلقوں اور سیکولر قوتوں کے درمیان فیصلہ کن حیثیت اختیار کرجائیں گے اور ترکی کے مستقبل کا ان انتخابات پر مدار ہوگا۔

طیب اردگان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عدنان میندریس شہیدؒ کی طرح ملک میں اسلامی اقدار کے احیا کے علمبردار ہیں اور ترکی کو سیکولر تشخص سے نجات دلانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں جس کی وجہ سے ترک عوام نے ایک بار پھر اور پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اور یہ بات دنیا بھر کے ان اسلام پسند حلقوں کے لیے حوصلہ کا باعث بنی ہے جو اپنے اپنے ملک میں سیکولر فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی اقدار و روایات کے احیا اور سربلندی کے لیے کام کر رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے کہ ترک فوج جو خود کو سیکولر ازم کی محافظ قرار دیتی ہے اور اس سے قبل کئی بار اس بنیاد پر ملک کی منتخب حکومتوں کے خلاف اقدامات کر چکی ہے، کہیں دوبارہ کاروائی نہ کر ڈالے جو ترکی میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے قبل الجزائر میں ایسا ہو چکا ہے کہ عام انتخابات میں ۸۰ فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرنے والے اسلامک سالویشن فرنٹ کو صرف اس لیے حکومت دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا علمبردار تھا۔

بہرحال ہم ترکی میں جناب طیب اردگان کی جماعت کی شاندار کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت اس کامیابی کو ہمارے برادر ترک عوام کے بہتر مستقبل کا ذریعہ بنائیں اور آزمائشوں میں سرخروئی عطا فرماتے ہوئے ترکی کے اسلامی تشخص کے احیا کا نقطۂ آغاز بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter