بلوچستان کی صورتحال اور لمحۂ فکریہ

   
مارچ ۲۰۱۲ء
  • دفاع پاکستان کونسل نے ۲۷ فروری کو کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور دیگر راہنما مسلسل متحرک ہیں۔
  • دوسری طرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان پر اے پی سی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں۔ادھر امریکی کانگریس میں بلوچستان کو خودمختاری دیے جانے کی قرارداد پیش ہوئی ہے جس پر پاکستان کے سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کے معاملات میں مداخلت قرار دے کر امریکی حکومت سے اس پر باضابطہ احتجاج کیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلہ پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اس کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور مذکورہ قرارداد اس کی سرکاری پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔
  • قوم پرست بلوچ راہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں برابر کے شہریوں کے حقوق حاصل نہیں ہیں اور مبینہ طور پر بلوچوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر لابنگ اور دباؤ کی تحریک منظم کی جا رہی ہے اور امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی قرارداد بھی اسی لابنگ کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ سابقہ ریاست قلات کے سردار محمد داؤد خان بین الاقوامی فورموں پر اس مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ قلات کی ریاست کے الحاق کے موقع پر جو معاہدہ کیا گیا تھا اس پر عمل نہیں ہو رہا اس لیے ان کے خیال میں یہ معاہدہ غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے۔
  • نواب محمد اکبر بگٹی مرحوم کے قتل کا مسئلہ بھی بلوچستان کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے اور متعدد بلوچ راہنما اس قتل کا ذمہ دار جنرل (ر) پرویز مشرف کو قرار دے کر نہ صرف ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ از خود بھی انہوں نے پرویز مشرف کو قتل کرانے کا اعلان کر کے ان کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی ہے۔ جبکہ نواب بگٹی مرحوم کے قتل کے بعد سے بلوچ سیاست میں تشدد کا عنصر زیادہ نمایاں ہو گیا ہے اور قتل و قتال کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

یہ ساری صورتحال کسی بھی محب وطن شہری کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ بلوچستان میں سابقہ مشرقی پاکستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بین الاقوامی سازش کے طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے انٹرنیٹ پر پاکستان کے مستقبل کے جس نقشہ کی تشہیر کی گئی ہے اس میں پاکستان کو صرف پنجاب اور سندھ پر مشتمل دکھایا گیا ہے اور خبیر پختون خواہ اور بلوچستان اس مبینہ نقشہ میں (خدانخواستہ) شامل نہیں ہیں جو بہرحال محبِ وطن دینی و سیاسی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

اس پس منظر میں دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کیا جانا ایک خوش آئند عمل ہے جس سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ ملک کے محبِ وطن حلقے مل جل کر اس پیچیدہ قومی مسئلہ کو حل کرنے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لیں گے اور ملک اس بحران سے نجات حاصل کر سکے گا۔

ان سطور کی اشاعت تک دفاع پاکستان کونسل اور وزیراعظم پاکستان کی طلب کردہ کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہوں گی اور ان کے فیصلے منظر عام پر آچکے ہوں گے، ہم ان کانفرنسوں کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے قائدین کو ملک و قوم کے حق میں بہتر فیصلوں کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter