حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

   
۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ وہ گزشتہ چند برس سے صاحب فراش تھے، ۵ مئی کو ملتان کے ایک ہسپتال میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا انتقال ہوا تھا۔ دونوں دارالعلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھا کہ موسٰی زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے۔ اور اسی خانقاہ کے مسند نشین کی حیثیت سے مولانا خواجہ خان محمدؒ ساٹھ برس سے زیادہ عرصے تک لوگوں کی روحانی پیاس بجھاتے رہے، جبکہ خواجہ سراج الدینؒ کے دوسرے خلیفہ حضرت مولانا حسین علیؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے شیخ تھے۔

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا خواجہ خان محمدؒ تعلیمی اور روحانی طور پر دارالعلوم دیوبند اور خانقاہ موسٰی زئی شریف سے مشترکہ طور پر فیضیاب ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی بھر ایک مشن اور پروگرام کے داعی رہے اور ایک سال کے وقفے کے ساتھ وفات بھی ایک ہی دن پائی۔ مولانا خواجہ خان محمدؒ نے ۹۰ برس عمر پائی اور دینی جدوجہد کے مختلف میدانوں میں خدمات سرانجام دیں۔

دہلی میں حضرت مجدد الف ثانیؒ کے خانوادے اور روحانی سلسلے سے تعلق رکھنے والے عظیم بزرگ حضرت شاہ سعید احمد دہلویؒ سے افغانستان سے تعلق رکھنے والے بزرگ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاریؒ نے فیض پایا، اور سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں خلافت کی خلعت سے سرفراز ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان میں موسٰی زئی شریف کے مقام پر خانقاہ احمدیہ سعیدیہ قائم کی، جس کا فیض آج افغانستان اور پاکستان کے طول و عرض میں عام ہے۔

مولانا خان محمدؒ سلسلہ نقشبندیہ کے بلند پایہ شیخ تھے اور تصوف و سلوک کے ایسے مستند شارح بھی تھے جن کی خدمت میں بڑے بڑے علمائے کرام حاضر ہو کر روح و قلب کی تسکین پاتے اور تصوف و سلوک کی پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے تھے۔ اس دور میں خانقاہ سراجیہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کے ماحول میں قرآن و سنت کے احکام اور شریعت اسلامیہ کے ضوابط کی پابندی کا بطور خاص اہتمام کیا جاتا ہے اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کے روحانی فلسفہ و افکار کی تعبیر و تشریح کی جاتی ہے، اس خانقاہ کے شب و روز ذکر الٰہی سے معمور رہتے ہیں اور رمضان المبارک کے دوران تو اللہ والوں کی پرانی خانقاہوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے کہ اس خانقاہ میں رمضان المبارک کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

مولانا خواجہ خان محمدؒ کی تگ و تاز کا دوسرا بڑا میدان جمعیۃ علماء اسلام اور نفاذ شریعت کی جدوجہد رہی ہے۔ وہ مولانا عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا مفتی محمود،ؒ مولانا غلام غوث ہزاروی، اور مولانا عبید اللہ انورؒ کے قریبی رفقاء میں سے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی قیادت میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ ایک عرصہ تک جمعیۃ کے مرکزی نائب امیر رہے ہیں اور انہیں جمعیۃ کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت حاصل تھی۔ ۱۹۷۷ء میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی وفات کے بعد انہیں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا امیر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد وہ زندگی کے آخری لمحات تک تحریک ختم نبوت کی قیادت کرتے رہے۔ ۱۹۸۴ء میں انہیں تمام مکاتب فکر کی مشترکہ مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کا سربراہ منتخب کیا گیا اور ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی جماعتوں نے ان کی قیادت میں ختم نبوت کے محاذ پر کئی بار متحد ہو کر جدوجہد کی۔ وہ دیوبندی مکتب فکر کی مختلف جماعتوں اور حلقوں میں مرکز اتحاد اور مرجع کا مقام رکھتے تھے۔ دیوبندی مکتب فکر کی داخلی گروہ بندیوں میں جب بھی کسی مسئلہ پر سب کو اکٹھا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو مولانا خواجہ خان محمدؒ نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی شخصیت وجہ اتحاد بن گئی۔ انہیں دیوبندی مکتب فکر کے دائرے سے ہٹ کر مختلف مکاتب فکر کے درمیان بھی یہ حیثیت حاصل تھی اور دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے علماء کرام اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے متعدد بار ان کی قیادت میں تحریک ختم نبوت میں مشترکہ تحریکات کا اہتمام کیا۔

وہ خاموش طبع بزرگ تھے، کسی پبلک جلسہ یا اجلاس میں انہیں کبھی تقریر کرتے نہیں دیکھا گیا، خاموشی کے ساتھ اجلاس میں گھنٹوں بیٹھے رہتے اور کارروائی میں پوری دلچسپی لیتے ہوئے ذکر و اذکار میں مصروف رہتے۔ ان کی خاموشی بڑے بڑے مقررین کی تقریروں پر بھاری ہوتی تھی اور ان کے ساتھ جلسہ یا اجلاس کی اختتامی دعا میں شریک ہونے کے لیے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہتے تھے۔

برمنگھم (برطانیہ) میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس برطانیہ میں مسلمانوں کے بڑے اجتماعات میں شمار ہوتی ہے جو عام طور پر جولائی میں منعقد ہوتی ہے۔ مجھے سالہا سال تک اس کانفرنس میں تسلسل کے ساتھ شرکت کا شرف حاصل ہوتا رہا ہے، اب چند برس سے تدریسی مصروفیات اور مجبوریوں کی وجہ سے جانے کا موقع نہیں مل رہا۔ برطانیہ میں ان ایام میں دن بہت لمبا ہوتا ہے اور عصر کی نماز عام طور پر ۸ بجے کے لگ بھگ ادا کی جاتی ہے جبکہ ختم نبوت کانفرنس صبح ۹ بجے کے لگ بھگ شروع ہو کر عصر تک جاری رہتی ہے اور درمیان میں صرف نماز ظہر اور دوپہر کے کھانے کے لیے آدھ پون گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔

میں نے کئی بار دیکھا کہ مولانا خان محمدؒ صبح کانفرنس کے آغاز میں ہی مسند صدارت پر رونق افروز ہو جاتے اور اختتامی دعا تک مسلسل بیٹھے رہتے۔ وہ خود تو تقریر کرتے نہیں تھے لیکن مقررین کی تقریروں کو غور سے سنتے اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ داد بھی دیتے تھے۔ میں نے ایک بار مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے کہا کہ اپنے امیر محترم پر اس بڑھاپے میں آپ حضرات اس قدر زیادتی کیوں کرتے ہیں کہ دس دس گھنٹے مسلسل انہیں مسند صدارت پر بٹھائے رکھتے ہیں، صبح کانفرنس کے آغاز پر تھوڑی دیر کے لیے انہیں لا کر پھر آرام گاہ میں پہنچا دیا کریں اور شام کانفرنس کے اختتام سے کچھ پہلے دعا کے لیے پھر لے آیا کریں۔ مجھے جواب ملا کہ حضرت الامیرؒ یہ بات نہیں مانتے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ سب مقررین کے خطابات خود سنیں۔

خانقاہ سراجیہ کا ایک اور امتیاز اس کا علمی ماحول اور کتب خانہ ہے جو ایک زمانے میں ملک کے چند بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا تھا۔ ۱۹۱۸ء میں خانقاہ سراجیہ کے قیام کے ساتھ اس کتب خانے کا آغاز ہوا اور اس وقت اس کے قیام پر پچاس ہزار روپے لاگت آئی۔ خانقاہ کے بانی مولانا احمد خانؒ اعلٰی درجے کے علمی ذوق کے بزرگ تھے جن کی کاوش سے یہ کتب خانہ وجود میں آیا۔

خانقاہ سراجیہ کے مطبوعہ تذکروں میں اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی درج ہے کہ جب یہ کتب خانہ قائم کیا گیا تو علاقہ کے ایک بڑے عالم دین نے کہا کہ اتنی زیادہ رقم صرف کرنے کی کیا ضرورت تھی، اتنی رقم سے تو تھل کا پورا علاقہ خریدا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد انہی مولانا صاحب کو کسی مسئلہ میں حوالہ دیکھنے کی ضرورت پڑی تو وہ نایاب کتاب صرف خانقاہ سراجیہ کے کتب خانے میں میسر تھی۔ وہ اس مقصد کے لیے وہاں آئے تو مولانا احمد خانؒ نے دل لگی سے فرمایا کہ حوالہ دیکھنے کی کیا ضرورت تھی، تھل کے علاقے میں کوئی ٹیلہ خرید لیا ہوتا۔

مجھے خود اس کتب خانہ سے متعدد بار استفادہ کا موقع ملا ہے اور جب علمی کاموں کے لیے فرصت کے دن میسر ہوتے تھے میں صرف اس مقصد کے لیے خانقاہ سراجیہ میں حاضری دیا کرتا تھا۔ اب تو مصروفیات اور کارہائے زندگی نے اس قدر الجھا رکھا ہے کہ معمول اور روٹین سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کی دل میں حسرت ہی رہتی ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ’’فرصتے و کتابے و گوشۂ چمنے‘‘ کی حسرت شاید زندگی کی آخری سانس تک حسرت ہی رہے گی۔

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے ساتھ میری نیازمندی کا عرصہ چار عشروں سے متجاوز ہے، سفر و حضر اور خلوت و جلوت کی سینکڑوں ملاقاتوں اور مختلف تحریکات میں ایک کارکن کے طور پر رفاقت کے شرف سے بہرہ ور رہا ہوں، ان کی شفقتوں اور دعاؤں سے ہمیشہ فیضیاب ہوتا رہا ہوں۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، اللہ تعالٰی انہیں جنت میں اعلٰی مقام سے نوازیں اور جملہ پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter