امریکہ میں یورپی آبادکاروں کا’’یوم تشکر‘‘

   
۱۹۸۹ء غالباً

اٹلانٹا (جارجیا) کا ایئرپورٹ امریکہ کے بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس ایئرپورٹ پر بسا اوقات ایک گھنٹہ میں سو سے زیادہ فلائٹیں اترتی ہیں۔ اتنے بڑے ایئرپورٹ پر آنے والے مسافر کی فلائیٹ کا نمبر اور وقت کا صحیح علم نہ ہو تو مسافر کو لینے کے لیے ایئرپورٹ پر آنے والے حضرات کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے جس کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا۔ میں ۱۹ نومبر کو شام ساڑھے چھ بجے ٹورانٹو سے اٹلانٹا پہنچا اور حسب معمول بیگیج کلیم کے لاؤنج تک آگیا جہاں سے افتخار رانا صاحب مجھے وصول کیا کرتے ہیں۔

افتخار رانا صاحب گکھڑ کے رہنے والے ہیں، میرے پڑوسی ہیں، ہم سبق ہیں اور بھائیوں کی طرف بے تکلف دوست بھی ہیں۔ وہ میرے ان دوستوں میں سے ہیں جن کے ساتھ مل کر آج سے پچیس سال قبل ہم نے گکھڑ میں ’’انجمن نوجوانانِ اسلام‘‘ کی بنیاد رکھی تھی، ایک دارالمطالعہ قائم کیا تھا اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے موقعہ پر زخمیوں کے لیے خون جمع کرنے کی مہم چلائی تھی۔ یہ دارالمطالعہ دو تین سال تک چلتا رہا، اس دوران ادبی محفلیں ہوئیں، مشاعرہ منعقد کیا گیا اور خاصا ہلا گلا رہا۔ پھر دوستوں کی یہ لڑی ایسی بکھری کہ آج تک اس کے دانے دوبارہ اکٹھے نہیں ہو سکے۔ افتخار رانا گزشتہ بارہ سال سے امریکہ میں ہیں، ان کا تعلق انجینئرنگ کے شعبہ سے ہے، ریاست جارجیا کے اگستا شہر میں ملازمت کرتے ہیں اور اسی شہر میں بچوں سمیت رہائش پذیر ہیں۔ اگستا اٹلانٹا سے سوا سو میل کے فاصلہ پر ہے اور گزشتہ تین سال سے ان کے پاس حاضری کا موقع مل رہا ہے۔

بیگیج کلیم کے لاؤنج تک تو پہنچ گیا مگر وہاں افتخار رانا ندارد۔ انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اس لیے ایک گیٹ کے پاس بیٹھ گیا اور آنے جانے والوں میں افتخار رانا کا چہرہ تلاش کرتا رہا۔ پون گھنٹہ سے زیادہ وقت اسی کیفیت میں گزر گیا تو کچھ تشویش ہوئی۔ یہاں کے ماحول اور سسٹم سے واقفیت رکھنے والے کے لیے کوئی تشویش بھی پریشان کن نہیں ہوتی، ٹیلی فون بوتھ جگہ جگہ موجود ہیں اور راہنمائی اور معاونت کے انتظامات بھی ہیں مگر میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ میرے جیسے لوگ جنہوں نے دینی مدارس میں پچیس تیس سال کا عرصہ پہلے تعلیم اور پھر تدریس میں گزارا ہے اور عربی پڑھنے پڑھانے میں ایک عرصہ گزر گیا ہے وہ عربی بے تکلفی سے نہیں بول سکتے اور کوئی عرب سامنے آجائے تو دو چار رسمی جملوں کے تبادلہ کے بعد ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ کی کیفیت سے دو چار ہو جاتے ہیں، انگریزی تو پھر انگریزی ہے۔ خیر میں اپنی جگہ سے اٹھا تاکہ فون کر کے افتخار رانا کے گھر سے معلوم کروں کہ وہ ایئرپورٹ پر آئے بھی ہیں یا نہیں۔ مگر جیب ٹٹولی تو سکے نہیں تھے اور یہاں پبلک بوتھ سے فون کرنے کے لیے سکے ضروری ہیں۔ ٹیلی فون کی ایک قطار کے ساتھ ایک مشین لگی ہوئی تھی جسے غور سے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ چینج دینے والی آٹومیٹک مشین ہے اس میں نوٹ داخل کریں تو ریزگاری باہر آجاتی ہے۔ میں نے جیب سے دس ڈالر کا نوٹ نکالا اور خدا کا نام لے کر مشین کے منہ میں دے دیا مگر اس نے نوٹ واپس کر دیا۔ تین چار دفعہ نوٹ اس کے منہ پر ٹھونسنے کی کوشش کی لیکن وہ کسی طور آمادہ نہ ہوئی، ایک صاحب پاس کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے انہوں نے میرے ہاتھ سے نوٹ لیا اور نوٹ دیکھ کر اشارہ میں سمجھایا کہ یہ مشین دس ڈالر کا نوٹ نہیں لیتی صرف ایک ڈالر یا پانچ ڈالر کا نوٹ وصول کرتی ہے۔ وہ صاحب تو یہ سمجھا کر چلے گئے مگر میرے لیے نیا مسئلہ پیدا ہوگیا کہ دس ڈالر کے نوٹ کے عوض پانچ پانچ ڈالر کے دو نوٹ کیسے حاصل کروں۔ ایکسکیوزمی کہہ کر ایک رہگزر کو روکا اور اشاروں کی زبان میں اپنا مقصد سمجھانا چاہا مگر اس کے پلے کچھ نہ پڑا اور وہ سوری کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ ایک اور رہگزر پر طبع آزمائی کی مگر قافیہ بے وزن رہا۔ ایک ’’سخن شناس‘‘ نے اشاروں کا مفہوم پا کر جیب سے بٹوا نکالا تو چھوٹے نوٹوں سے خالی بٹوا منہ چڑانے لگا۔ لاچار قریب کے ایک شاپنگ سنٹر کا رخ کیا، کاؤنٹر پر صنف نازک کا سامنا تھا، اشاروں میں خاصا محتاط ہونا پڑا مگر یہ احتیاط کسی کام نہ آئی۔ دوسرے شاپنگ سنٹر پر بھی کاؤنٹر ’’صنف نازک‘‘ کے تصرف میں تھا جسے کچھ وقت کے ساتھ بات سمجھ میں آگئی اور اس طرح کم و بیش پون گھنٹہ کی تگ و دو کے بعد دس ڈالر کے ایک نوٹ کے عوض پانچ ڈالر کا ایک اور ایک ایک ڈالر کے پانچ نوٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ واپس ٹیلی فون بوتھ پر پہنچا، چینج دینے والی مشین کے منہ میں ایک ڈالر کا نوٹ دیا جو اس نے پھر واپس کر دیا، اب پریشانی بڑھی کہ اتنی محنت کے بعد ایک ڈالر کا نوٹ ہاتھ لگا ہے اور یہ مشین اسے بھی قبول نہیں کر رہی۔ قریب کھڑے ایک صاحب نے یہ منظر دیکھا اور نوٹ میرے ہاتھ سے لے کر اشارہ سے سمجھایا کہ مشین میں نوٹ بھی ایک خاص زاویے سے ڈالنا پڑتا ہے۔

چنانچہ ان صاحب نے نوٹ مشین کے حوالہ کیا اور کھٹاکھٹ سکے باہر آگئے۔ پبلک فون میں ڈال کر افتخار رانا کے گھر کا نمبر ڈائیل کیا تو درمیان سے کوئی مشین بول پڑی، اس نے تو سوری کر کے رٹے رٹائے جملے دہرا دیے مگر میں کچھ بھی نہ سمجھ پایا کہ کیا کہہ رہی ہے، نمبر غلط ڈائیل کر رہا ہوں یا سکے کم ڈالے ہیں یا فون خراب ہے، آخر کوئی وجہ تو ہوگی۔ اسی تذبذب اور پریشانی کے عالم میں کھڑا مسئلے کا حل سوچ رہا تھا کہ ایک نوجوان آگے بڑھا اور السلام علیکم کہہ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ سلام کا جواب دیا، ایک دو رسمی جملوں کے تبادلہ سے اندازہ ہوا کہ اردو بول نہیں سکتا سمجھ لیتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی اردو میں اس نے بتایا کہ وہ افغان ہے، اس کا نام نثار احمد طہماش ہے اور یہاں اٹلانٹا میں افغان مہاجرین کی امداد اور دیکھ بھال کے سلسلہ میں کام کرتا ہے، مجھے پریشان دیکھ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ مختصرًا اسے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ اس وقت صرف یہ پریشانی ہے کہ افتخار رانا کے گھر فون پر رابطہ نہیں ہو رہا۔ نثار احمد نے نمبر لیا اور کال کولیکٹ کے سسٹم پر ملا دیا۔ کال کولیکٹ کا سسٹم آسان ہے افتخار رانا مجھے ایک دو بار سمجھایا بھی تھا مگر اس وقت ذہن میں نہیں آرہا تھا، وہ سسٹم یہ ہے کہ آپ کسی ایسی جگہ ہیں جہاں آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کے لیے آپ زیرو ڈائیل کریں گے جس پر آپریٹر سے آپ کا رابطہ ہو جائے گا، اسے مطلوبہ نمبر بتلا کر آپ کال کولیکٹ کہہ دیں اور اپنا نام بتا دیں، وہ اس نمبر پر خود ڈائیل کر کے ان سے پوچھے گی کہ فلاں صاحب آپ سے آپ کے خرچ پر بات کرنا چاہتے ہیں وہ اگر کہہ دیں کہ ٹھیک ہے تو آپریٹر اس نمبر پر آپ کی بات کرا دے گا۔

خدا خدا کر کے افتخار رانا کے گھر بات ہوئی تو ان کی بیٹی نے بتایا کہ وہ مجھے لینے کے لیے ایئرپورٹ آئے ہوئے ہیں اور دو گھنٹے سے تلاش کر رہے ہیں اس لیے میں بیگیج کلیم کے لاؤنج میں ہی ان کا انتظار کروں۔ نثار احمد نے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی جسے اس وقت قبول کرنا میرے لیے مشکل تھا، اگستا سے واپسی پر ایک رات ان کے ہاں قیام کا وعدہ کر کے شکریہ کے ساتھ ان سے رخصت چاہی۔ بیگیج کلیم کے لاؤنج میں دوبارہ پہنچا، ابھی ایک جگہ بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے افتخار رانا ایک اور دوست کے ہمراہ تلاش کرتے ہوئے آگئے، ملاقات ہوئی اور حال احوال پوچھا۔ معلوم ہوا کہ پانچ بجے سے ایئرپورٹ پر ہیں، گھڑی دیکھی تو آٹھ بج رہے تھے۔ یہ صرف فلائیٹ نمبر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ہوا جو غلطی میری تھی کہ مجھے چلنے سے پہلے انہیں فلائیٹ نمبر سے فون پر آگاہ کر دینا چاہیے تھا۔ مگر افتخار اسے اپنے کھاتے میں ڈال رہے تھے اور برادرانہ محبت کے ساتھ بار بار معذرت خواہانہ انداز میں اظہار کر رہے تھے کہ میں نے فون کر کے آپ سے فلائیٹ نمبر پوچھ کیوں نہ لیا، خیر غلطی کسی کی بھی ہو دو اڑھائی گھنٹے کی پریشانی ہم دونوں کے مقدر میں تھی جس سے بہرحال ہم نے گزرنا تھا لیکن اسی پریشانی میں خیر کا پہلو بھی تھا جو نثار احمد طہماش کی ملاقات کی صورت میں نمودار ہوا، اس لیے خیر کا سبب بننے والی اس پریشانی کا ذہن پر کوئی بوجھ نہ رہا۔

افتخار رانا کے ساتھ دوسرے دوست الطاف صاحب تھے جو پاک آرمی کے ریٹائرڈ میجر ہیں اور اب بچوں سمیت اگستا میں ہیں جہاں ان کا مستقل رہنے کا ارادہ ہے، مکان کی تلاش میں تھے اور افتخار رانا کے ہاں عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔ بھلے آدمی ہیں، اگستا میں چند روز قیام کے دوران کسی قسم کے سابقہ تعارف کے بغیر انہوں نے جس بے تکلفی اور محبت کا اظہار کیا وہ ان کی نیک دلی کی علامت ہے۔ وہاں ہمارا یہ معمول رہا کہ جس نماز کے وقت ہم گھر میں ہوتے باقاعدہ اذان ہوتی اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاتی، الطاف صاحب اپنے دونوں بچوں ناصر اور عبد الوہاب سمیت نماز میں شریک ہوتے، ایک دن ان کی اہلیہ کہنے لگیں کہ کافی دنوں کے بعد اذان کی آواز سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

اگستا میں چار دن قیام رہا، ان میں ایک ’’تھینکس گیونگ ڈے‘‘ بھی تھا یعنی امریکیوں کا ’’قومی یوم تشکر‘‘ جو بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پورے ملک میں چھٹی ہوتی ہے اور شتر مرغ قسم کا ایک جانور جسے ٹرکی (Turkey) کہا جاتا ہے امریکی اسے بھون یا پکا کر خاندان اور دوستوں کے ساتھ اجتماعی طور پر تناول کرتے ہیں۔ یوم تشکر کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر جارج بش نے یہ دن سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے ساتھ منایا تاکہ انہیں اس روز وطن سے دوری کا احساس زیادہ مضطرب نہ کرے۔ یوم تشکر کے مقصد اور پس منظر کے بارے میں حتمی طور پر کوئی بات معلوم نہیں ہو سکی، مختلف حضرات نے اس کے بارے میں مختلف باتیں کہیں مگر جو پس منظر زیادہ لوگوں کی زبان سے سنا اور کچھ قرین قیاس بھی محسوس ہوا، یہ ہے کہ جب یورپی لوگ ابتدا میں امریکہ آئے تو یہاں کی کھانے پینے کی اشیا سے ناواقف تھے، نوبت فاقوں تک پہنچی تو امریکہ کی مقامی آبادی نے ان پر ترس کھایا اور انہیں ’’ٹرکی‘‘ نامی جانور پکڑنے اور بھوننے کا طریقہ بتایا جس پر ان کی فاقہ کشی کا دور ختم ہوا۔ اس واقعہ کی یاد میں شکرانہ کے طور پر یہ دن قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور سنا ہے کہ جب اس دن ٹرکی کو بھون کر اجتماعی طور پر کھاتے ہیں تو کھانا شروع کرنے سے قبل دعا بھی کرتے ہیں جو غالباً دعائے شکرانہ کہلاتی ہے۔

امریکہ میں آباد ان یورپیوں کے کام بھی نرالے ہیں۔ امریکہ آنے والے اپنے آباؤ اجداد کے ٹرکی پکڑنے اور بھون کر کھانے کی یاد تو ’’قومی یوم تشکر‘‘ کے طور پر پورے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں لیکن جن لوگوں نے انہیں ٹرکی پکڑنا اور بھوننا سکھایا ان کا مار مار کر بھرکس نکال دیا ہے اور امریکہ کی یہ اصل آبادی ان یورپی آبادکاروں کے مسلسل مظالم سے تنگ آکر مخصوص علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ آج پورے شمالی امریکہ پر یورپی آباد کار قابض ہیں اور اصل امریکیوں کو انہوں نے مار مار کر ایسے اطراف میں دھکیل دیا ہے کہ نہ ان کا قومی سیاست میں کوئی دخل ہے، نہ تعلیم گاہوں میں دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی تجارت و صنعت میں ان کا کوئی سراغ ملتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا اصل نام اور شناخت بھی تاریخ کے اوراق سے محو کر کے انہیں ’’ریڈ انڈین‘‘ کا مصنوعی نام دے دیا گیا ہے اور اب وہ اپنے اصلی نام کی بجائے اسی عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔

اگستا سے واپسی پر ایک رات اٹلانٹا میں رہنے کا اتفاق ہوا، نثار احمد طہماش کے ہاں قیام کیا، وہی نثار احمد جن کا ذکر اس مضمون کے آغاز میں ہو چکا ہے۔ اچھے نوجوان ہیں، افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کا کام کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہاں مستقل دفتر قائم ہے جو بے گھر ہونے والے لوگوں کی آبادکاری اور امداد کے لیے ایک عالمی تنظیم کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس کے افغان شعبہ کے انچارج نثار احمد طہماش ہیں، کابل کے رہنے والے ہیں، اپنے والدین اور اہل خانہ کے ہمراہ اٹلانٹا میں قیام پذیر ہیں۔ افغانستان سے ہجرت کرنے کے بعد یہ خاندان کچھ عرصہ راولپنڈی رہا پھر امریکہ آگیا۔ نثار کے والد بزرگوار نیک دل بزرگ ہیں، چشتی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر کے مطالعہ اور نعت رسولؐ سننے سے شغف ہے۔ فارسی کے ایک خوش الحان شاعر کی نعتوں کے ریکارڈ رکھے ہوئے ہیں جنہیں بڑے شغف سے سنتے ہیں اور آنسو بہاتے رہتے ہیں، قوالی سے بھی دلچسپی ہے۔ نثار احمد کے چچا بھی قریب ہی رہتے ہیں، ان کے ہاں شام کو اہل خاندان کا اجتماع تھا اور پرتکلف دعوت تھی، مختلف حضرات جمع تھے، پڑھے لکھے اور دانش ور لوگ تھے۔ عشاء کی نماز اکٹھے ادا کی اور کافی دیر تک مختلف عنوانات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، وہ لوگ پاکستان میں کچھ عرصہ رہنے کی وجہ سے اردو سمجھتے تھے اور گفتگو کا مفہوم سمجھنے کی حد تک فارسی سے مجھے مناسبت ہے اس لیے گزارہ چل گیا۔

امریکہ میں افغان مہاجرین کی تعداد کافی ہے، ان میں وہ بھی ہیں جو مختلف امراض کے علاج کے لیے یہاں آئے ہیں، مختلف شہروں میں دفاتر موجود ہیں جو ان کی رہائش وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں اور علاج اور دیگر ضروریات کے لیے ان سے تعاون کرتے ہیں۔ نثار احمد طہماش کے والد بزرگوار نے میرے ایک سوال پر کہا کہ وہ یہاں مجبوری کے تحت رہ رہے ہیں اور وطن جانے کے لیے بے چین ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ان کی طرح ایسی سوچ رکھنے والے حضرات کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی، افغان قوم جس طرح لڑنے مرنے اور خود پر کسی دوسرے کا تسلط برداشت نہ کرنے میں تیز اور حساس ہے اسی طرح دوسرے معاشرے میں جا کر اس میں ضم ہو جانے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہے، اور انہیں اپنے قد کاٹھ اور رنگ روپ کے لحاظ سے یہ سہولت حاصل ہے کہ لباس اور وضع قطع میں معمولی فرق کر لیں تو امریکی معاشرہ میں انہیں الگ طور پر پہچاننے میں خاصی دقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے مجھے یہی نظر آتا ہے کہ امریکی معاشرت کی اس کانِ نمک میں گھس جانے والے افغانوں کی بہت تھوڑی تعداد خود کو نمک ہونے سے بچا سکے گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter