فضلائے مدارس کو الوداعی نصیحتیں

   
۲۴ فروری ۲۰۲۳ء

(جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تقریبِ دستار بندی کے موقع پر فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء کرام کو الوداعی نصیحتیں۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آپ کے سامنے بزرگوں کی تین نصیحتیں نقل کروں گا، اپنے لیے بھی اور تمام طلباء کیلئے بھی۔

پہلی بات یہ کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی ہےجو کسی اور حوالے سے ہے لیکن میں کسی اور حوالے سے نقل کیا کرتا ہوں۔ روایت میں آتا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے، سامنے سے ایک صاحب گزرے جو پراگندہ حال تھے، بکھرے ہوئے بال، میلا کچیلا بدن اور میلے کچیلے کپڑے۔ اس کیفیت میں سامنے سے گزرے تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا کہ خدا کے بندے! تجھے اتنی توفیق نہیں ہے کہ نہا لے، کپڑے دھو لے، تیل لے کر بالوں کو مل لے اور کنگھی کر لے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس تو اتنی بکریاں، گھوڑے، اونٹ اور غلام ہیں۔ اللہ تعالٰی نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں، مالدار اور کھاتا پیتا آدمی ہوں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پس منظر میں یہ جملہ ارشاد فرمایا: ’’فلیر اثر نعمۃ اللہ علیک‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعامات کیے ہیں تو اس کے اثرات تم پر نظر آنے چاہئیں۔، یہ بکریوں، گھوڑوں اور اونٹوں کے مالک سے کہا۔

میں یہ حوالے سے نقل کیا کرتا ہوں کہ بکریاں، گھوڑے اور اونٹ تو دنیا کا مال ہے، یہیں رہ جائے گا۔ قرآن مجید کے علم اور دین کی دولت سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے۔ آپ دین کے علم کی دولت اپنے سینوں میں سجائے جا رہے ہیں ’’فلیر اثر نعمۃ اللہ علیک‘‘ تو اس کے اثرات آپ پر دکھائی دینے چاہئیں۔ آپ کی زندگی، آپ کے گھروں، آپ کی مجلس، آپ کے بول چال، رہن سہن، لین دین، ڈیلنگ، ملازمت اور آپ کے معاملات سے اندازہ لگنا چاہیے کہ آپ نے دین پڑھ رکھا ہے۔ آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں اس علم کے اثرات نظر آنے چاہئیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ خیر القرون کے بزرگوں میں ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں امام ربیعۃ الرائےؒ جو کہ تابعین میں سے ہیں۔ ان کی عظمت کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ آپؒ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے استاد ہیں۔ بلکہ آپ فقہ مالکی کی بنیاد ہیں، جس طرح ہمارے ہاں ابراہیم نخعیؒ اور حمادؒ حنفی فقہ کی اساس میں دو بڑے نام ہیں۔ امام ربیعۃ الرائےؒ کا ایک قول ذکر کرنا چاہتا ہوں جو امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں ’’لا ینبغی لاحد عندہ شیء من العلم ان یضیع نفسہ‘‘ کہ جس آدمی کے پاس کچھ تھوڑا بہت بھی علم ہے اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضائع کرے۔ علم کا تقاضا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کچھ علم عطا کیا ہے وہ اپنے آپ کو ضائع نہ کرے، بلکہ جو علم اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اس کی لاج رکھے، اپنی حیثیت پہچانے اور اپنا کردار ادا کرے۔

میں اس ارشاد کی روشنی میں علماء کرام سے عرض کیا کرتا ہوں کہ کسی عالمِ دین کا دین کی جدوجہد سے لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے۔ فتوٰی کی بات نہیں ، ذوق کی بات کرتا ہوں کہ میں اسے کبیرہ گناہ سے بھی بڑی چیز سمجھتا ہوں ۔ اگر دین کی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں ہے تو کیوں؟ پڑھا کس لیے ہے؟ اس لیے آپ اپنے آپ کو پہچانیں، اپنے آپ کو ضائع نہ کریں اور ضائع نہ ہونے دیں۔ بلکہ اپنے علم اور تربیت کے حوالے سے دین کے کسی کام سے منسلک رہیں۔ آپ کا ایک مقام اور ذمہ داری ہے اس کا احساس رکھیں، اپنے وقار اور سنجیدگی کو قائم رکھیں، اور جو کچھ پڑھا ہے اس کے مطابق اپنی زندگی کو منظم کریں تاکہ امت، ملت، وطن، قوم اور خاندان کو آپ کا فائدہ ہو۔ صرف اپنی ذات کا فائدہ نہ سوچیں بلکہ اپنے خاندان، قبیلے، علاقے، قوم، وطن اور ملک کا فائدہ سامنے رکھ کر اپنی راہ متعین کریں۔

تیسری بات یہ کہ ایک دفعہ شیرانوالہ لاہور میں ہم نے علماء کا ایک کنونشن رکھا جس میں مہمانِ خصوصی قائدِ جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز تھے۔ مفتی صاحبؒ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں جن میں ایک یہ تھی کہ انہوں نے فرمایا کہ آج ہم اپنا تعارف اپنے بزرگوں کا نام لے کرواتے ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت شیخ الہند محمود حسنؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، ہم ان کا نام لے کر اپنا تعارف کرواتے ہیں کہ ہم اس کیمپ کے لوگ ہیں، ہم ان بزرگوں کے نام سے اپنا تعارف بھی کرواتے ہیں اور ان کے نام سے عزت بھی حاصل کرتے ہیں۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ لوگوں نے ان بزرگوں کو نہیں دیکھا ہوا بلکہ لوگ ہمیں دیکھ کر ان کے بارے میں تاثر قائم کرتے ہیں کہ جیسے یہ ہیں ایسے ہی وہ بھی ہوں گے۔ ہم ان بزرگوں کے حوالے سے اپنا تعارف کرواتے ہیں لیکن ہمارے حوالے سے ان کا تعارف ہو جاتا ہے۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اگر ہم اپنے ان بزرگوں کی عزت میں اضافے کا ذریعہ نہیں بن سکتے تو کم از کم ان کی عزت میں کمی کا ذریعہ تو نہ بنیں۔ ہم جن بزرگوں کا نام لیتے ہیں، جن کے نام سے تعارف اور عزت حاصل کرتے ہیں تو اس کا معیار مکمل نہیں تو کم از کم کسی حد تک عملاً نظر آنا چاہیے کہ ہم اس قافلے کے لوگ ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ آپ جدوجہد وہیں کریں جہاں آپ کا ذوق ملتا ہے۔ ختمِ نبوت کا ذوق ہے یا نفاذِ شریعت کا، تبلیغی جماعت کا ذوق ہے یا تعلیم و تدریس کا، دفاعِ صحابہؓ کا ذوق ہے یا افتاء کا۔ آپ اپنے ذوق کے مطابق اپنے دائرے میں کام کریں لیکن کسی دوسرے کام کی نفی مت کریں۔ آج کل ہماری سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ ہم کوئی کام کرتے ہیں تو دوسرے سارے کاموں کی نفی کر کے کرتے ہیں۔ اس لیے آپ دین کا کام کریں اس سے لاتعلق نہ رہیں، لیکن یہ سارے کام ہمارے ہیں اس لیے کسی دوسرے کام کی تحقیر نہ کریں، اس کی نفی نہ کریں، ورنہ اپنا کام ضائع کر لیں گے۔ اگر آپ دوسرے کام میں تعاون کر سکتے ہیں تو ضرور کریں ورنہ کم از کم اپنی زبان بند رکھیں۔ یہ ہماری ذمہ داری اور دینی جدوجہد کا تقاضا ہے کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے اپنے دائرے میں متحرک ہو اور جدوجہد کرے، قربانی دے۔ دینی جدوجہد کے ہر شعبے کو رجال کار کی ضرورت ہے، اس لیے ہم ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ،ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دینی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔

آپ یہ باتیں سامنے رکھ کر زندگی کا رخ متعین کریں کہ ہم دین، علم اور اپنے بزرگوں کے نمائندے ہیں۔ نمائندے کو نمائندہ ہی رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نمائندہ ہی رکھیں اور نمائندہ کی حیثیت سے اپنے اسلاف کی روایات کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

2016ء سے
Flag Counter