امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حیرت انگیز حیرت

   
نومبر ۲۰۰۱ء

معروف کالم نگار جناب ارشاد احمد حقانی نے جنگ لندن میں ۱۴ اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی ایک حالیہ گفتگو کا مندرجہ ذیل اقتباس نقل کیا ہے کہ

’’بش نے کہا کہ مجھے اس نفرت پر حیرت ہے جو اسلامی دنیا میں لوگ امریکہ کے لیے رکھتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے اور ہمارے ملک کے بارے میں دوسرے لوگوں میں کس قدر غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ اکثر امریکیوں کی طرح مجھے بھی اس نفرت کو سمجھنے میں سخت دقت پیش آتی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہم امریکی کتنے اچھے لوگ ہیں۔‘‘

صدر بش کو عالمِ اسلام میں امریکہ کے خلاف پائی جانے والی عمومی نفرت پر حیرت ہو رہی ہے، اور ہمارے لیے ان کی یہ ’’حیرت‘‘ سخت تعجب اور حیرت کا باعث بن رہی ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور حکومت کے سربراہ کو ان اسباب و عوامل تک رسائی میں مشکل پیش آ رہی ہے جو دنیائے اسلام میں ان کے ملک کے خلاف نفرت کے فروغ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے جو ادارے اور ایجنسیاں دنیا کے حالات معلوم کرنے، عالمی سطح پر مختلف اقوام کے رجحانات و خیالات سے باخبر ہونے اور امریکی قیادت کو ان سے باخبر رکھنے پر مامور ہیں، اور جو اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر سالانہ صرف کر ڈالتے ہیں، وہ صدرِ امریکہ کو صحیح صورتحال سے باخبر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ اور اگر وہ باخبر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو صدر امریکہ کے نزدیک ان کی رپورٹوں کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ وہ ان پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت گوارا کر سکیں۔

اسی سے کسی قوم اور ملک کے خلاف امریکی قیادت کے فیصلوں کے جواز اور معقولیت کی سطح کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر صدر بش کے ان ریمارکس کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ جب امریکی صدر بش کو امریکہ کے خلاف عالمِ اسلام کی نفرت کی وجہ ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی تو وہ ’’صلیبی جنگ‘‘ کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے خلاف میدانِ جنگ میں کس بنیاد پر کود پڑے ہیں؟

   
2016ء سے
Flag Counter